پس پردہ حقائق تفتیش کے بعد ہی سامنے آئیں گے

پس پردہ حقائق تفتیش کے بعد ہی سامنے آئیں گے

وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملہ ملکی سیاسی صورتحال کے ہیجانی سیاق وسباق پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے، جس سے داخلی سیکیورٹی میں مضمر خطرات کے ان گنت سلسلہ ہائے دور دراز کی نشاندہی ہوتی ہے۔سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس واردات کے ذریعہ بیلٹ کا راستہ بلٹ سے روکنے کی ایک گھناؤنی کارروائی ہے، جس کی شفاف اور بلاتاخیر تحقیقات کے بعد ہی حقائق سامنے آسکتے ہیں، اس سے قبل کسی قسم کی قیاس آرائی کرنا، قرائنی اندازے قائم کرنا اور اقدام قتل کے محرکات پر بحث کا پینڈورا باکس کھولنا کسی طرح مناسب اور قومی مفاد میں نہیں، وقوعہ کی سنگینی اور قتل کی دیدہ دلیرانہ واردات بلاشبہ ریاستی اداروں کے انتباہ جب کہ ن لیگ اور تمام سیاسی جماعتوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔ملزم معاشرہ کی سیاسی فضا میں ایک چلتا پھرتا غیر محسوس بارودی ہیولہ ہے جو کسی کو نظر آئے بغیر اجتماع میں چھپ کر بیٹھ گیا، ایسے بارودی بگولوں کے رقص میں پرامن اور شفاف انتخابات کسی چیلنج سے کم نہ ہوں گے، نارووال سانحہ سے سبق لینے کے کئی ابواب کھلے ہیں۔سیاسی، مذہبی اور دینی جماعتیں غیر قانونی اور انسان دشمنی پر مبنی رویوں کی حوصلہ شکنی کریں، ان پر لازم ہے کہ وہ سیاست میں در آنے والی سیمابیت، غضبناکی، جذباتیت اور عدم رواداری و برہمی کے جملہ عناصر کی اپنے جمہوری اور سیاسی طرز عمل سے روک تھام کریں، مذہبی اور سیاسی رہنماؤں نے بہت مناسب بات کی کہ اسلام کسی انسان کی جان لینے کی اجازت نہیں دیتا، اسلام میں تو ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے بلکہ کوئی بھی مذہب قتل وغارت اور تشدد و ایذارسانی کو جائز نہیں سمجھتا ہے، مذہبی اکابرین نے قاتلانہ حملہ کو ملک پاور نظام پر حملہ قرار دے کر قوم کی امنگوں کی صحیح ترجمانی کی ہے۔ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر محب وطن پاکستانی کو اس حقیقت کو کھلی آنکھ سے پرکھنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ چار طرف سے وطن عزیز کا محاصرہ کیے جانے کی سازشیں عروج پر ہیں، اندرکا دشمن بے تاب ہے، وارداتوں کا تسلسل جاری رکھنے میں کامیاب ہوا تو بڑی تباہی آسکتی ہے۔اپنے انتخابی منشور کی اساس حکمت عملی طے کی جارہی ہے، اس میں اس بات کی صد فی صد ضمانت ووٹرز کو ملنی چاہیے کہ کسی قسم کی انفرادی اور اجتماعی مہم جوئی کی آیندہ کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی اور انتخابی ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کے لیے تمام انتظامات مکمل رکھے جائیں۔ یہ ایک ہائی پروفائل سیاسی شخصیت کی زندگی کا 

سوال ہے، موت اس کو قریب سے چھو کر گزر گئی، قاتل کی گولی اپنی سمت تبدیل کرتی تو جان لیوا ثابت ہوسکتی تھی۔

میڈیا کے مطابق لاہور سروسز اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر امیر نے بتایا کہ احسن اقبال کے علاج کے لیے 5 رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا ، ان کے پیٹ کی گولی نہ نکالنے پر اتفاق رائے ہے کیونکہ اس سے ان کی سرجری میں پیچیدگی بھی پیدا ہوسکتی ہے، جب کہ تحقیقات میں پیش رفت ہوئی ہے، پولیس کے مطابق ایک اور ملزم عظیم کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جو ملزم عابد حسین کے ساتھ جلسہ گاہ میںآیا تھا اور وقوعہ کے بعد غائب ہوگیا ۔پولیس کو دستیاب شواہد کے مطابق ملزم نے 30 بور کا پستول اپنے ایک پڑوسی سے خریدا تھا۔ ملزم عابد کا کہنا ہے کہ احسن اقبال ہی ان کا ٹارگٹ تھے، ملزم کی ایک مذہبی تنظیم سے وابستگی بیان کی گئی ہے۔اب اعلیٰ تحقیقات کے بعد حقیقی صورتحال سامنے آسکے گی، تاہم صائب ہوگا کہ ارباب اختیار ملکی سیاست کی حساسیت اور تشدد آمیز رجحان کا ادراک اور اس کا سدباب کرتے ہوئے فوری اقدام کریں اور قوم کو باور کرائیں کہ آیندہ انتخابات کے لیے جمہوری سپرٹ، مکمل رودارانہ اور پرامن ماحول میں ووٹنگ کو یقینی بنایا جائے گا۔ اب کسی قسم کے تشدد، سبوتاز، قتل وغارت، ٹارگٹ کلنگ کی گنجائش نہیں۔قبل از پولنگ پرتشدد سیاسی شو ڈاؤن کے اندیشے سر اٹھانے لگے ہیں۔ بلاشبہ آیندہ الیکشن کے حوالے سے ملک کے فہمیدہ حلقوں میں یہ پہلا ردعمل اور تاثر تھا جو وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملے کے بعد میڈیا میں آیا۔دوسرے لفظوں میں یہ سیاسی اور غیر اعلانیہ انتخابی عمل کے لیے بلاواسطہ دھچکا بھی ہے، جس کے لیے نارووال جلسہ کے اختتام پر واپس جاتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ کو بیس سالہ عابد حسین نوجوان نے ٹارگٹ کیا، اس میں ملفوف انداز میں سیاست دانوں کو انتباہی پیغام دیا گیا کہ وہ سیاست کے دشت نما میں محتاط رہتے ہوئے اپنی انتخابی مہم چلائیں، کیونکہ اس پرخطر راستے میں ہمہ اقسام کے جان لیوا خطرات ان کا تعاقب کرتے رہیں گے۔ یہ ایک طرح سے 2013 اور 2008 کے انتخابات کا ری پلے ہوگا جس میں غیر معمولی تشدد کے ان گنت واقعات نے الیکشن کو خانہ جنگی جیسی صورتحال سے دوچار کردیا تھا۔اخباری اطلاعات کے مطابق حملہ آور عابد حسین نے وزیر داخلہ اقبال احسن پر نارووال کے نواحی علاقے کنجروڑ میں تقریب سے واپسی پر قریب سے فائرنگ کردی جس سے گولی ان کے بازو سے گزرتے ہوئے اس کی ہڈی کو توڑ کر پیٹ میں چلی گئی، موقع پر موجود ایلیٹ فورس کے اہلکاروں نے پہلی گولی چلانے کے بعد فوری طور پر حملہ آور کو موقع پر گرفتار کرلیا، وزیرداخلہ کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں طبی امداد کے بعد ان کو ہیلی کاپٹر پر لاہور کے سروسز اسپتال میں منتقل کردیا گیا ہے، جہاں ڈاکٹرز نے آپریشن کرکے گولی نکال دی ہے اور ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔ملزم عابد کا تعلق نارووال کے ہی قریبی علاقے سے ہے اور مذہبی جماعت کا کارکن بتایا جاتا ہے، مقامی پولیس اہلکار نے روزنامہ پاکستان کو بتایا کہ وفاقی وزیر ایک اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملے کے اسباب اور محرکات کا پتہ تو تفصیلی تحقیقات کے بعد ہی چل سکے گا لیکن ایسے وقت میں جب ملک میں عام انتخابات کے شیڈول کا اعلان محض چند ہفتے کے دوری پر ہے اس افسوسناک واقعے نے پرامن انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ایک 22سالہ نوجوان نے جو جلسے کے دوران پہلی صف میں بیٹھا تھا صرف 15گز کے فاصلے سے ان پر30بور کے پستول سے فائرنگ کر دی۔ ایک گولی ان کے دائیں بازو کی ہڈی کو توڑتی ہوئی پیٹ کے نچلے حصے میں گھس گئی جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے اس سے قبل کہ ملزم مزید گولیاں چلاتا، وزیر داخلہ کی حفاظت پر مامور ایلیٹ فورس نے چابکدستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملہ آور عابد حسین کو دبوچ لیا اور پستول اس کے قبضے سے چھین لیا، ڈسٹرکٹ اسپتال نارو وال میں ابتدائی طبی امداد کے بعد وزیر داخلہ کو وزیر اعلیٰ پنجاب کے بھیجے ہوئے ہیلی کاپٹر کے ذریعے سروسز ہسپتال لاہور منتقل کر دیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کا کامیاب آپریشن کیا تاہم گولی فی الحال نہ نکالنے کا فیصلہ کیا۔ بتایا گیا ہے کہ گولی لگنے سے ان کے بازو کی دو ہڈیاں ٹوٹ گئیں جنہیں جوڑ دیا گیا ہے۔ ملزم عابد حسین پرچون کی ایک دکان پر کام کرتا ہے اور مبینہ طور پر ایک مذہبی جماعت کا کارکن ہے، پولیس کو ابتدائی بیان میں اس نے اقبال جرم کرتے ہوئے کہا کہ احسن اقبال میرا ٹارگٹ تھے، بعد میں ملزم کا ایک ساتھی بھی گرفتار کر لیا گیا۔ ملزم کے خلاف اقدام قتل اور دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ مبصرین نے اس افسوسناک واقعے کو سیاسی ماحول خراب کرنے اور عام انتخابات کو سبوتاز کرنے کی سازش قرار دیا ہے۔ اگرچہ یہ واقعہ وزیر داخلہ کے انتخابی حلقے میں پیش آیا اور اس میں اسی علاقے کا ایک نوجوان ملوث ہے لیکن اسے عام انتخابات کے موقع پر ملک میں پائی جانے والی عمومی سیاسی گرما گرمی اور بڑھتی ہوئی کشیدہ صورت حال سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔

اس واقعہ نے پاکستان کی معاشرتی نا انصافی اور دوہرے قانون و آسائشوں میں امتیاز جیسے معاملات کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے اور یہ ثابت ہو گیا ہے کہ غریب ووٹرز ہمیشہ نظر انداز رہا ہے اور آئندہ بھی رہے گا جب کہ با اثر طبقہ کسی قاعدے قانون کا پابند ہے اور نہ ہی غریبوں کے برابر ہو سکتا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملے سے پاکستان ہی نہیں دُنیا بھر میں ہلچل مچ گئی۔ حملہ آور عابد حسین کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا اور احسن اقبال کے پیٹ میں گولی موجود تھی تاہم حالت خطرے سے باہر تھی۔ ڈسٹرکٹ ہسپتال نارووال میں وفاقی وزیر کے پیٹ کی سرجری سے با آسانی گولی نکالی جا سکتی تھی اور ڈاکٹروں نے ڈسٹرکٹ ہسپتال میں ہی علاج کروانے کی تجویز دی تھی، یہ وہی ڈسٹرکٹ ہسپتال جیسا ایک ہستال ہے جہاں غریب علاج کی غرض کے لئے در بدر ٹھوکریں کھاتے ہیں، ادویات ملتی ہیں اور نہ ہی ڈاکٹر ہسپتالوں میں موجود ہوتے ہیں۔ ایڑیاں رگڑتے مریض دم توڑتے رہتے ہیں۔ حکمران ہسپتالوں کی حالت بہتر بنانے اور کروڑوں روپے کے فنڈز دینے کے فاتحانہ اعلانات بھی کرتے رہتے ہیں۔ اگر کوئی غریب مریض ہوتا تو یقیناًانہیں ہسپتال میں ذلیل و خوار ہو رہا ہوتا مگر وفاقی وزیر کو تمام تر سہولیات میسر ہونے کے باوجود وزیر اعلیٰ کے ہیلی کاپٹر پر لاہور لایا گیا اور علاج کروانے کا فیصلہ ہوا۔ احسن اقبال کی حالت خطرے سے باہر ہے اور جس گولی کو نکالنے کے لئے نارووال سے لاہور ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، آخری اطلاعات کے مطابق وہ گولی نہیں نکالی گئی اور ڈاکٹروں نے تجویز کیا ہے کہ گولی پیٹ میں ہی رہنے دی جائے، اس فیصلے کے طبی فوائد اور نقصانات ماہرین طب ہی بتا سکتے ہیں۔ احسن اقبال الحمد اللہ ہوش و حواس میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں صحت عطا فرمائے اور لمبی عمر بھی دے مگر کیا حکومت کو یہ احساس ہے کہ احسن اقبال کے نارووال سے لاہور ہسپتال منتقل ہونے سے کیا کیا حقائق بے نقاب ہو گئے ہیں۔ حکمران ہمیشہ یہ کہتے نہیں تھکتے کہ ڈسٹرکٹ ہسپتالوں میں جدید سہولتیں فراہم کر دی گئی ہیں مگر احسن اقبال کے واقعہ نے اس دعوے کی نفی کی ہے، اگر جدید سہولتیں فراہم کی جاتیں تو انہیں لاہور منتقل کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ سروسز ہسپتال میں وفاقی وزیر کے اخلے اور وزیر اعلیٰ پنجاب سمیت وزراء کی فوج ظفر موج نے ہسپتال میں داخل دیگر مریضوں اور ان کے لواحقین کو دن میں تارے دکھا دیئے ہیں۔ پروٹوکول کے نام پر ان غریب مریضوں اور لواحقین کے لئے ہسپتال کے دروازے ہی بند نہیں کئے بلکہ تمام ڈاکٹروں کی طرف سے احسن اقبال کی تیمارداری کی وجہ سے ہسپتال میں زیر علاج ہزاروں مر یضوں کو بے یارومدد گار چھوڑ دیا گیا ۔بے وسیلہ مریضوں کے لواحقین اپنے مر یضوں کی سلامتی وحیاتی کے لیے دعائیں کر نے لگے ،ان حالات میں حکومت کی طرف سے احسن اقبال کے لیے دعائے صحت کی اپیل کون کرے گا؟ غریبوں اور عام آدمیوں سے دعائیں لینے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ خود اپنی ذات کی قربانی دیں اور تمام وسائل و توانائیاں عوام پر صرف کر دیں۔ معاشرتی نا انصافی اور حکومتی اثر و رسوخ سے لوگ دب تو سکتے ہیں دل سے دعا نہیں کر سکتے۔ دل سے دعائیں لینے کے لئے ووٹ ہی نہیں ووٹر کو بھی عزت دی جائے ۔

یہ افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ بعض عناصر قتل و غارت، توڑ پھوڑ اور ہنگاموں کے ذریعے ماحول خراب کر کے عام انتخابات کو سبوتازکرنا چاہتے ہیں۔ اگرچہ عمومی حالات ایسے نہیں کہ وہ اپنے عزائم میں کامیاب ہو سکیں مگر حکومت، سیاسی پارٹیوں، سول سوسائٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو باہمی مشاورت سے کسی بھی متوقع صورت حال سے عہدہ برآ ہونے کیلئے انتہائی سنجیدگی سے متفقہ لائحہ عمل اختیار کرنا ہو گا اور سیکورٹی انتظامات فول پروف بنانا ہوں گے کیونکہ بعض بیرونی قوتیں پاکستان میں امن اور استحکام نہیں چاہتیں۔ ایسے میں 

الیکشن کے موقع پر جب سیاسی فضا مکدر ہوتی ہے، یہ قوتیں اپنا کھیل، کھیل سکتی ہیں۔ تمام ریاستی ادارے مل بیٹھ کر جنونی عناصر کا راستہ روکیں، موسمیاتی تغیرات کی طرح سیاست میں بھی معیار، شرافت اور فکر و تدبر کی نمایاں تبدیلی نظر آنی چاہیے، اہل اقتدار اور سیکیورٹی حکام اس حقیقت کا جلد ادراک کریں کہ آیندہ انتخابات سے قبل ماحول انتہاپسندوں کے لیے نو گو ایریا بن جائے، ملک دشمن خواہ کسی رنگ و روپ میں ہوں انھیں ان کی پچ پر شکست ہونی چاہیے، ملکی سالمیت اور جمہوری نظام کے تحفظ اور عوام کی امنگوں کی رکھوالی پر مامور اہل اقتدار اس عبوری دورانئے میں چشم کشا فیصلے کریں، تاکہ وطن عزیز کے 21 کروڑ انسان چین سے زندگی بسر کریں۔جمہوری قوتوں کو چاہئے کہ وہ قومی مفاد میں دانشمندی سے کام لیں اور سیاست میں تشدد اور عدم برداشت کے رجحان کی حوصلہ شکنی کریں، ہو سکتا ہے کہ انتخابات کے موقعے پر ملک دشمن اندرونی عناصر اور بیرونی قوتیں حالات کو خراب کرنے کی کوشش کریں۔ ایسی صورت حال کے مقابلے کیلئے نہ صرف سیکورٹی اداروں بلکہ سیاستدانوں اور اور عام لوگوں کو بھی چوکس رہنا چاہئے اور پرامن شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کو یقینی بنانا چاہئے

مزید : ایڈیشن 2

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...