کوہاٹ ،اباسین پلازہ محض ایک خواب ،پلازہ 2018ء میں بھی مکمل نہیں ہوسکتا

کوہاٹ ،اباسین پلازہ محض ایک خواب ،پلازہ 2018ء میں بھی مکمل نہیں ہوسکتا

کوہاٹ(بیورو رپورٹ) اباسین پلازہ کی تعمیر خواب بن گئی مئی 2014 میں مکمل ہونے والا پلازہ مئی 2018 میں بھی تعمیر نہ ہو سکا پلازے کے کنٹریکٹر کے سامنے ٹی ایم اے افسران بھیگی بلی بن گئے تفصیلات کے مطابق سابقہ صوبائی حکومت نے ٹی ایم اے کوھاٹ کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے اور ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن جیسے مسائل کے حل کے لیے 2012 میں تحصیل اور اباسین پلازہ کی تعمیر کے لیے کروڑوں روپے فنڈز ٹی ایم اے کے حوالے کیے مگر بدقسمتی سے دونوں پلازے ایک ہی کنٹریکٹر کے حوالے کیے گئے جو سال 2014 میں مکمل ہونے والے پلازوں کو 2018 میں بھی مکمل نہ کر سکا گزشتہ سال تحصیل پلازہ تو مکمل ہو گیا مگر ٹی ایم اے میں بیٹھی نااہل قیادت تاحال دکانیں کھلوا کر ماہانہ کرایہ شروع نہ کروا سکی مگر اباسین پلازہ جو کہ 2014 میں مکمل ہونا تھا اور نہ ہو سکا تحصیل کونسل نے اس کو 31 دسمبر 2016 تک کا اضافی ٹائم دیا کہ وہ کام مکمل کرے مگر افسوس 49 ملین وصول کرنے کے باوجود بھی پلازے کی تعمیر کنٹریکٹر مکمل نہ کر سکا اس حوالے سے ٹی ایم اے افسران نے 31 جنوری 2017 کو رائٹ ٹو انفارمیشن کو تحریری طور پر بتایا تھا کہ پلازے کی تعمیر کا 60 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے مگر افسوس مئی 2018 کا آغاز ہو چکا ہے مگر پلازہ نامکمل حالت میں ٹی ایم اے افسران کی بے بسی کا مذاق اڑاتا دکھائی دیتا ہے دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ نامکمل پلازے کی کئی دکانیں کنٹریکٹر یا ٹی ایم اے افسران ملی بھگت سے کرائے پر دے کر رقم اپنی جیبوں میں ڈال رہے ہیں جن سے کوئی پوچھنے والا نہیں شہریوں کے مطابق اگر مذکورہ پلازے بروقت تعمیر ہو جاتے تو آج ٹی ایم اے کوھاٹ کا شمار صوبے کی مالدار ٹی ایم اے میں ہوتا ادارے کے بعض اہلکاروں نے انکشاف کیا کہ چھ سالوں میں دو پلازے تعمیر نہ کرنے والے افسران مزید اپنی جیبوں کو بھرنے کے لیے نئے پلازوں کی تعمیر کا شوشا چھوڑ رہے ہیں ان اہلکاروں کے مطابق ٹی ایم اے افسران اباسین پلازے کے کنٹریکٹر کے سامنے بھگی بلی بنے ہوئے ہیں اس حوالے سے بعض اہلکاروں نے سابقہ ٹی ایم او محمد شعیب کو بھی بددعائیں دیں جس کی وجہ سے یہ پلازے وقت پر تعمیر نہ ہو سکے اور ٹی ایم اے کو ماہانہ لاکھوں روپے نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...