جواں سالہ طالبہ کا اغواء کے بعد بہمانہ قتل

جواں سالہ طالبہ کا اغواء کے بعد بہمانہ قتل

پچھلے سال قصور کی معصوم بچی کو زیادتی کے بعد قتل اور ستمبر میں لاہور کی پانچ سالہ بچی کے ساتھ زنا بالجبر اور پھر اس کو ایک ہسپتال کے باہر پھینک دینے کے واقع نے پاکستان سمیت پوری دنیا کو لرزا دیا۔ ان بھیانک واقعات کو چند روز ہی گزرے تھے کہ فیصل آباد میں ایک چھوٹی بچی اور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں کالج کی ایک طالبہ زنا بالجبر کا شکار ہو گئیں۔ حالیہ چند سالوں میں پاکستان میں عورتوں اور بچوں کے ساتھ زنا بالجبر کے واقعات ملکی میڈیا کی شہ سرخیاں بنیں اور میڈیا نے پاکستان میں ان بڑھتے ہوئے گھناؤنے واقعات کو عوام کے سامنے پیش کیا ہے۔ اس جرم میں ملوث افراد کا تعلق معاشرے کے کسی مخصوص طبقے سے نہیں تھا بلکہ وہ مختلف پس منظر رکھتے تھے۔اسلام آباد کی ایک غیر حکومتی تنظیم(NGO)‘‘ساحل’’کے مطابق 2012 میں بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے 3861مقدمات ریکارڈ کیے گئے جوکہ 2011 کے مقابلے میں 17فیصد زائد ہیں۔صرف سال 2017 میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے لاہور میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے 113 واقعات ریکارڈ کیے ہیں۔ لیکن اس مسئلہ کی شدت ان اعدادوشمار سے کئی گنا زیادہ ہے۔ اس جرم کے حوالے سے معاشرے میں موجود شرم، مجرم کی جانب سے مزید حملے کے خوف اور پولیس کا اس جرم کے شکار مظلوموں کے ساتھ توہین آمیز سلوک کی وجہ سے ماہرین یہ سمجھتے ہیں کہ اس جرم کے واقعات اکثر منظر عام پر لائے ہی نہیں جاتے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان واقعات کو پولیس کے پاس مقدمات کی صورت میں درج نہ کروانے کی وجہ یہ بھی ہے کہ خواتین اور ان کے اہل خانہ اس قانونی نظام پر اعتماد کھو چکے ہیں جو انصاف کی فراہمی میں انتہائی تاخیر کرتا ہے جہاں ان مقدمات میں سزاؤں کا تناسب انتہائی کم ہے اور پولیس میں موجود کرپشن کی بنا ء پر اکثر ملزمان رہا ہوجاتے ہیں۔

ان واقعات کے خلاف ملکی سطح پر غم و غصہ صرف اس جرم میں ملوث لوگوں کے خلاف ہی نہیں کہ انھیں سخت ترین سزا دی جائے بلکہ عوام کا غصہ خصوصاپولیس، سیاست دانوں اور اس نظام کے خلاف بھی ہے جو اس مسئلہ سے نمٹنے میں بری طرح سے ناکام ہوچکے ہیں۔ لوگوں کا غم و غصہ اس لیے بھی پولیس کے خلاف شدید ہے کیونکہ عورتوں اور بچوں کی حفاظت اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے ان کاتساہل پر مبنی رویہ انتہائی شرمناک اور مجرمانہ ہے۔

انسانی تاریخ پر ایک نگاہ ڈالنے سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ طاقت کے نشہ میں چور انسانوں نے اکثر خوف خدا سے عاری ہو کر دوسروں کے حقوق پامال کئے ہیں، دوسروں پر عزت، رزق اور عظمت کے تمام دروازے بند کر کے ہر چیز پر اپنا حق جتایا ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں ہابیل اور قابیل نے قربانی دی۔ ایک قربانی اس کے خلوص کی وجہ سے قبول اور دوسری یعنی قابیل کی عدم خلوص کی بناء پر مردود ہو گئی۔ قابیل بجائے اپنی اصلاح کرنے کے ہابیل کو دھمکیاں دینے لگا کہ میں تجھے قتل کر دوں گا۔ اس نے کہا تیری مرضی! یہ ظلم ہے اگر تو کرے گا تو میں بہرحال تیری طرف دست درازی نہیں کروں گا پھر قابیل نے بلا کسی جرم و خطاء کے ہابیل کو قتل کر دیا۔وہ بعد میں اس ظلم پر نادم ہوا مگر ظالم و قاتل ہونے کے بعد ندامت فضول تھی۔ ہم نے قرآن سے یہ مثال اس لئے دی ہے کہ انسان کے ابتدائی دور سے ہی ظالم و مظلوم کے دو طبقے ظہور پذیر ہو گئے تھے۔ قابیل کے پاس ہابیل کے ناحق قتل کا کوئی عقلی یا اخلاقی جواز نہ تھا مگر اس نے آتش حسد سے یہ ظلم کیا۔اسلام کی رو سے زنا بالجبرکے بعد لڑکی کو محظ ثبوت مٹانے کی خاطر قتل کر دینا سنگین ترین جرم ہے اور جب پولیس تمام حالات کی غیر جانبدارانہ تفتیش کے بجائے ملزمان سے مبینہ ساز باز کے بعد محظ چند روپوں کے لالچ میں مظلوم کو دھدکارتی اور ظالم کے ساتھ بغل گیر ہوتی ہے تو مظلوم یا تو دل برداشتہ ہو کر خود کشی کا راستہ اپناتا ہے یا پھر دنیاوی قوانین کی نفی کرتے ہوئے خود ہی قتل و غارت پر اتر آتا ہے تھانہ بھکھی کے علاقہ نواں کوٹ کے رہائشی خاندان کے افراد بھی پولیس روایہ سے تنگ ایسے ہی حالات سے گزر رہے ہیں ناجانے کب پورے خاندان کے افراد مایوسی و نا امیدی کی وجہ سے کس راستے پر چل نکلیں واقعات کے مطابق فیصل آباد روڈ کی آبادی نواں کو ٹ کے رہائشی غریب محنت کش بشیر احمد ماچھی کی جواں سالہ بیٹی رضیہ جو کہ بھکھی میں قائم گرلز کالج میں زیر تعلیم تھی جسے مورخہ17/01/2018 صبح سویرے اس کا بھائی عمر فاروق موٹر سائیکل پر بٹھا کر کالج جانے کے لئے بھکھی اڈا تک چھوڑ کر گیا جو واپس گھر نا آئی پتہ جوئی پر معلوم ہوا کہ وہ کالج پہنچی ہی نہیں اسے بھکھی اڈا سے ہی نامعلوم افراد نے اغواء کر لیا اور نا معلوم مقام پر لے گئے جس کی درخواست تھانہ بھکھی پویس کو برائے اندراج مقدمہ دی گئی پہلے تو تقریبا پندرہ روز تک اس سنگین نوعیت کے واقعہ کا مقدمہ ہی پولیس نے درج نا کیا آخر مقامی میڈیا کے پریشر سے مقدمہ نمبری 48/18 بجرم 365B ت پ درج رجسٹرڈ کر لیا گیا جس کی تفتیش تھانہ میں تعینات سب انسپکٹر ساجد علی شاہ کو دی گئی جنہوں نے چار ماہ تک تفتیش کو کسی سمت لیجانے کی کوشش ہی نا کی اس دوران مغویہ بچی کے والدین بشیر احمد اور والدہ نسرین بی بی مسلسل تھانہ کے چکر لگا لگا کر تھک گئے آخر انہوں نے اپنے طور پر بچی کی پتہ جوئی شروع کر دی اس دوران موبائل فون نمبر 0301.4299853 سے بشیر کے گھر کال آئی اور بچی نے سہمے اور ڈرے ہوئے لہجے میں بتایا کہ اسے انتہائی خطر ناک ڈکیٹ بلا ل احمد جو کہ بہاولپور کا رہائشی ہے نے دیگر ملزمان کی مدد سے اغواء کیا ہے اور منڈی یزمان کے قریب ایک جگہ پر رکھا ہوا ہے اور ملزمان مسلسل اس سے زناء کاری کرتے ہیں اوراس کی جان کو شدید خطرہ ہے اس کال بارے پولیس کو اطلاع دی گئی پولیس پھر بھی خاموش رہی اور ورثاء کو زبانی جمع خرچ سے ٹال مٹول سے کام چلاتی رہی بچی رضیہ کا ایک روز دوبارہ فون نمبر 0301.4847745 سے فون آیا جس نے بتایا کہ ملزمان اسے رحیم یار خان لے گئے ہیں بچی کا والد بشیر لگا تار ذاتی طور پر پتہ جوئی میں مصروف رہا اور آخر12/03/2015 کو بذریعہ تحریری درخواست ملزم بلال سمیت چار پانچ کس ملزمان کو نامزد مقدمہ کروایا گیا پولیس نے ملزمان کی نامزدگی کے بعد بھی کچھ نا کیا اور بشیر احمد کو پولیس نے کہنا شروع کر دیا کہ تمہاری بچی خود بھاگ کر گئی ہے لہذا تمہارا مقدمہ خارج کر دیا جائے گا یا تم بھاری رقم کا انتظام کرو تاکہ پولیس رحیم یار خان چھاپہ مار سکے بشیر نے کہا کہ میرے پاس تو کوئی پیسہ نہیں ہے میں انتہائی غریب آدمی ہوں گھر میں کھانے کو کچھ نہیں ہے پیسے کہاں سے لاؤں گا،آخر 25 روز قبل بچی کا آخری فون موبائل نمبر 0336.0058613 سے آیا جس نے بتایا کہ بلال کے ساتھ دیگر کافی خطر ناک ملزمان ہیں جو اکثر میرے ساتھ اجتماعی زیادتی کرتے ہیں اور اس نے ملزمان کو مشورہ کرتے سنا ہے کہ اس لڑکی کے ساتھ جو کرنا تھا کر لیا اسے جان سے مار دیتے ہیں واپس جائے گی تو سب کو پھنسائے گی اس کے بعد بچی کا کوئی فون نہیں آیا بشیر احمد اور اس کی بیوی بار بار تھانہ بھکھی چکر لگاتے رہے اور اپنی روداد اور بچی کی فون کالز کے بارے بتاتے رہے مگر پولیس چپ سادھ کر خواب خرگوش کے مزے لوٹتی رہی اور مورخہ 17.3.18 کو تفتیشی آفیسر نے موجودہ ایس ایچ او ۔ذوالفقار احمد وریا کی مشاورت سے بغیر کسی تفتیش کے ، بغیر بچی کو برآمد کئے اور مقدمہ میں شامل تفتیش کئے اور بغیر ہی ملزمان کی گرفتاری کو عمل میں لائے مقدمہ متذکرہ بالا کی اخراج رپورٹ بنا دی گئی اور غریب بشیر احمد اور اس کی بیوی نسرین کے لئے تھانہ بھکھی کا دروازہ بند کر دیا گیا اس حوالہ سے غریب خاندان نے ڈی پی او شیخوپورہ سرفرازاحمد خاں ورک کو ایک تحریری درخواست گزاری ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انہیں قوی شبہ ہے کہ ملزمان بلال وغیرہ جو کہ نامی ڈکیت ہیں نے ان کی بیٹی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا ہے جبکہ تھانہ بھکھی پویس نے مقدمہ کی اخراج رپورٹ تیار کر کے ان کے ساتھ سخت زیادتی کی ہے جبکہ پولیس کو تو چاہیئے تھا کہ وہ مقدمہ میں قتل کی دفعہ کا اضافہ کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لاتے ہوئے انہیں نشان عبرت بنایا جاتامگر پولیس کی روائتی بے حسی سے یہ واضع ہو گیا ہے کہ پولیس سے بغیر رشوت دیئے انصا ف کی امید کر نا غلط ہے اس حوالہ سے پولیس نے اپنے موقف میں کہاہے کہ بچی نے ملزم سے اغواء سے ایک ماہ قبل اوکاڑہ میں نکاح کیا ہو اہے مگر افسوس ناک اور چونکا دینے والی بات تو یہ تھی کہ جو تاریخ منظر عام پر آنے والے نکاح نامہ پر درج ہے اس دن بچی اوکاڑہ جا کس طرح سکتی ہے کیوں کہ اس روز تو بچی نے کالج میں پیپر دیا ہے اور بچی اغواء ہونے تک کالج میں مسلسل حاضر رہی ہے سائل بشیر احمد اور نسرین بی بی نے بتایا کہ جو نکاح نامہ پولیس دیکھا رہی ہے وہ بوگس ہے اور خود ساختہ تیار کیا گیا ہے کیوں کہ اوکاڑہ کا سفر نواں کوٹ سے اتنا زیادہ ہے کہ سارے دن میں بھی اوکاڑہ جا کر واپس نہیں آیاجا سکتا انہوں واضع طور پر کہا کہ ہماری بچی کو زناء کے بعد قتل کر دیا گیا ہے مگر پولیس اس بات کی انکوائری کر کے ملزمان کو گرفتار کرنے کے بجائے ہمارے ساتھ ہی سوال و جواب کئے جا رہی ہے تاہم ڈی پی او سرفراز احمد خاں ورک نے اس حوالے سے اے اایس پی صدر سرکل شیخوپورہ ڈاکٹر عبدالخالق کو انکوائری آفسیر مقرر کر دیا ہے دریں اثناء مغوی بچی رضیہ کے اہل خانہ نے کہا ہے کہ وہ گزشتہ پانچ ماہ سے تھانہ کچہری کے چکر لگا لگا کر اور ڈی پی او آفس میں ذلیل خوار ہونے کے بعد اب مایوس اور نا امید ہو چکے ہیں اگر اے ایس پی صدر نے بھی کچھ نا کیا تو وہ اپنے پورے خاندان کے ہمراہ خود کشی کر لیں گے اور یہ بھی کہا ہے کہ اگر اس طرح کا واقعہ تھانہ کے ایس ایچ او ، مقدمہ کے تفتیشی آفیسر یا کسی دوسرے پولیس آفسیر کے ساتھ پیش آیا ہوتا تو کیا وہ اسی طرح کرتے جس طرح وہ ہمیں غریب سمجھتے ہوئے کر رہے ہیں انہوں نے چیف جسٹس سپریم کورٹ، وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف ، آئی جی پنجاب پولیس ، ڈی آئی جی ریج شیخوپورہ سمیت دیگر اعلیٰ آفیسران سے اپیل کی ہے کہ فوری طور پر اس واقع کا نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کیاجائے اور ان کی مغوی بیٹی کو زندہ یا مردہ برآمد کیا جائے 

قارئین راقم الحروف کا اعلیٰ ایوانوں میں براجمان ذمہ داروں سے سوال ہے کہ 

پولیس کا روایہ آخر کب تبدیل ہو گا کب غریب لوگوں کو بے لوث انصاف میسر آ سکے گا،ظالم کب تک چند نوٹوں کے عوض آزاد ہوتے رہیں گے اور کب تک غریب انصاف کے حصول کے لئے دربدر ہوتے رہیں گے قانون اور عوام کے محافظوں نے آخر اس مقدمہ کی بابت کیوں نہیں سوچا کہ، عورت کون ہے؟ عورت ماں بھی ہے، بہن بھی ہے، بیٹی بھی ہے، اور بیوی بھی ہے۔ پھر اس پر اتنے ظلم و ستم کیوں؟ عورت جس سے دنیا میں انسانوں کی چہل پہل ہے,رنگ و رونق ہے اس دنیا میں ہر شخص اسی عورت کو نوچنے اور دپوچنے کو تیار رہتا ہے۔ دنیا آخر کیوں اسے پاؤں تلے روند دیتی ہے۔ میں کئی سالوں سے ان سوالات کے جوابات ڈھونڈ رہاہوں۔جب میں عورت کی عصمت دری ہوتے ہوئے دیکھتااور سنتاہوں تو میرا دل خون کے آنسو روتا ہے اللہ کے حضور دعا ہے کہ غریب محنت کش بشیر احمد کی بچی زندہ برآمد ہو اور جلد سفاک ملزمان اپنے انجام کو پہنچیں۔آمین

مزید : ایڈیشن 2