اینگرو کا بگ پش پروجیکٹ ڈیری فارمرز کوبااختیار بنا نے کا عزم

اینگرو کا بگ پش پروجیکٹ ڈیری فارمرز کوبااختیار بنا نے کا عزم

کراچی(پ ر) اینگرو فوڈز لمٹیڈ مختلف ترقیاتی پروجیکٹس کے ذریعہ پاکستان میں ڈیری انڈسٹری کی نشوونما کا عزم کیے ہوئے ہے۔ اس مقصد کے لیے اینگرو فوڈز لمٹیڈ نے سنہ 2017ء میں پنجاب اسکلز ڈیویلپمنٹ فنڈ (PSDF) کے تعاون سے بگ پش فار رورل اکنامی ( BPRE) شروع کیا جو جون 2018ء میں اختتام پذیر ہو گا۔بگ پش فار رورل اکنامی پروجیکٹ کا ہدف چشتیاں، ہارون آباد، فقیر والی، لودھراں، بہاولپور، مظفرگڑھ، بہاول نگر اور دنیا پور سمیت جنوب پنجاب کے 60 سے زائد دیہاتوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 9,000 افراد تھے۔منتخب افراد کو اس پروجیکٹ کے تحت لائیواسٹاک ایکسٹنشن ورکرز (Livestock Extension Workers) ، آرٹیفیشل انسیمی نیشن ٹیکنیشنز (Artificial Insemination Technicians)، فارم سپروائزرز ( Farm Supervisors)اور ولیج ملک کلیکٹرز (Village Milk Collectors ) کے شعبوں میں تربیت فراہم کی گئی۔ پروجیکٹ کا آغاز فروری، 2017ء میں ہوا تھا اور اب جون 2018ء میں اختتام پذیر ہوگا۔ تقریباً ایک سال تک جاری رہنے والے اس پروجیکٹ کے ذریعہ 11,000 سے زائد افراد کو تربیت فراہم کی گئی۔پروجیکٹ کی کامیابی کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے اینگرو فوڈز لمٹیڈکے ڈائریکٹر ایگری بزنس، سید سعود احمد پاشا نے کہا،’’گزشتہ کئی برسوں میں اینگروفوڈزلمٹیڈ نے کئی ترقیاتی پروجیکٹس میں شرکت کی ہے جن سے پاکستان کی ڈیری انڈسٹری کی ویلیومیں اضافہ ہو ا ہے۔ غربت کا خاتمہ، خواتین کو مساوی مواقع کی فراہمی اور معیشت میں آزاد پیشہ افراد (self-employed individuals) اینگرو فوڈز کے ترقیاتی پروجیکٹس کی بنیادی اقدار اور اہم مقاصد ہیں۔ بڑے پیمانے کے پروجیکٹس مثلا'بگ پش فار رورل اکنامی' اینگروفوڈز کی مذکورہ بالا واقدار کی مطابقت میں ہیں۔ اس پروجیکٹ نے دیہی افراد کو آزاد پیشہ کی حیثیت سے بااختیار بنا کر اور پوری ڈیری انڈسٹری کی اقدار میں اضافہ کے ذریعہ پاکستان کی معیشت کو فائدہ پہنچایا ہے۔ ہمیں اس پروجیکٹ کے نتائج دیکھ کر خوشی ہوئی ہے کہ اس پروجیکٹ کی وجہ سے ڈیری کی مجموعی پیداوار میں 20%اضافہ ہوا ہے۔‘‘بگ پش فار رورل اکنامی کے ذریعہ 11,000 سے زائد افراد کو بیسک لائیواسٹاک ورکرز، 200سے زائد افراد کو ولیج ملک کلیکٹرز، 200 سے زائد افراد کو ایکسٹینشن ورکرز، تقریباً 96 افراد کو فارم سپروائزرس اور 70 سے زائد افراد کو آرٹیفیشل انسیمی نیشن ٹیکنیشنز کے طور پر تربیت فراہم کی گئی۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر