یوریا کی قیمتوں میں 200 روپے فی بیگ اضافے کا امکان

یوریا کی قیمتوں میں 200 روپے فی بیگ اضافے کا امکان

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ کے باوثوق ذرائع کے مطابق مقامی کھاد انڈسٹری حکومت کی جانب سے سبسدی کی بقایا رقم جاری نہ ہونے پر یوریا کی قیمتوں میں 200 روپے فی بیگ کا مزید اضافہ کرے گی۔ وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ سکندر حیات بوسن نے فرٹیلائزر انڈسٹری کے ساتھ ایک اجلاس منعقد کیا اور یوریا کی قیمتں میں اضافہ کی وجوہات معلوم کیں۔ وفاقی وزیر نے حکومت کی جانب سے آئندہ بجٹ میں آمدن پر جی ایس ٹی کے سٹرکچر سمیت اس صنعت کے ساتھ تعاون کا اعادہ کیا۔ انہوں نے یوریا کی قیمتوں میں اضافے کے فیصلہ پر ناراضگی کا اظہار کیا جس کے باعث حکومت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ صنعت کی جانب سے اس موقع پر بتایا گیا کہ 2016ء میں سبسڈی سکیم کے اجراء کے بعد ادائیگیوں میں تاخیر، مالیاتی بوجھ اور کلیمز کے عمل میں پیچیدگیوں کے باعث صنعت نے قیمتوں میں 106 روپے فی بیگ اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ذرائع کے مطابق صنعت نے وزارت کی کوششوں کو سراہا لیکن وزارت خزانہ کی جانب سے فنڈز کے اجراء میں غیر معمولی تاخیر اور حکومت کی جانب سے وعدوں کو پورا نہ کرنے پر پریشانی کا بھی اظہار کیا۔ اجلاس کے شرکاء میں سے ایک نے بتایا کہ وزیراعظم آفس کی جانب سے 24 جولائی 2017ء کو 80 اور 20 فیصد کے حساب سے ادائیگیوں کے اجراء کیلئے ہدایات پر بار بار یاد دہانی کے باوجود عمل نہیں ہو سکا اور اس کی روح کے مطابق 80 فیصد کی ادائیگی ابھی تک التواء میں ہے اور نہ ہی تیسرے فریق کی جانب سے 20 فیصد کی توثیق کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ فرٹیلائزر کی صنعت کو درپیش مسائل، مالیاتی لاگت، افراط زر اور دیگر عناصر کو مدنظر رکھتے ہوئے کھاد کی فی بیگ قیمت میں 200 روپے اضافہ ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ 29 مارچ 2018ء کو وزیراعظم آفس کو زیر التواء رقم کی عدم ادائیگی کے بارے میں 15 اپریل کو قیمتوں میں اضافہ سے آگاہ کیا گیا تاہم حکومت کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا۔ صنعت کی جانب سے قیمتوں پر نظرثانی روک دی گئی۔ سیکریٹری نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ فضل عباس میکن نے یقین دہانی کرائی کہ وہ 2017/18ء میں اعلان کردہ 80 فیصد کلیمز کے اجراء کیلئے کیس کی فروری تک پیروی کرتے رہے ہیں اور توقع ہے کہ 4 ارب 74 کروڑ روپے آئندہ ایک دو روز میں حاصل کرلئے جائیں گے۔ انہوں نے وزیر خزانہ کو اجلاس کے دوران ٹیلیفون کیا اور وزیر خوراک نے یہ اعلان کردہ رقم جاری کرنے کی استدعا کی۔ وزیر نے خواہش ظاہر کی کہ حکومت کی جانب سے بقیہ ادائیگیوں کے اجراء سے اس صنعت کو مشکلات سے نکلنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ حکومت قیمتوں میں اضافہ اور فیس سیونگ کے لئے سیاسی دباؤ کو محسوس کرتے ہوئے کچھ حصہ جاری کر دے گی۔ ایک اور فریق نے کہا کہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل اس تاخیری سوچ کی ادا کی جانے والی سیاسی قیمت کا ادرانک نہیں کر سکے۔ سیکریٹری نے صنعت کو گیس، کھاد کی برآمد اور درآمد کی اجازت نہ دینے سمیت دیگر مراعات کی نشاندہی کی۔ صنعت کی طرف سے یہ نکتہ اٹھایا گیا کہ پاکستان کے ہمسایہ ممالک میں گیس کی لاگت زیادہ ہے جہاں یوریا درآمد کی جا سکتی ہے اور تجویز دی کہ گیس کی کمی کی وجہ سے بند پلانٹس کو گیس کی فراہمی کے ذریعے فعال بنایا جائے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر