کراچی ،دوروزہ ٹیکسٹائل کانفرنس میں سائنسدانوں اور ریسرچرز کی شرکت

کراچی ،دوروزہ ٹیکسٹائل کانفرنس میں سائنسدانوں اور ریسرچرز کی شرکت

کراچی ( اکنامک رپورٹر) ٹیکسٹائل انسٹیٹیوٹ آف پاکستان کی جانب سے دو روزہ ٹیکسٹائل کانفرنس مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی۔جس سے ٹیکسٹائل انسٹیٹیوٹ آف پاکستان کے چانسلر میاں عبدالمجید ، ٹیکسٹائل انسٹیٹیوٹ آف پاکستان کے صدر ہمایوں ظفر،ابتسام احمد، عمیر اے صدیقی، محمد فواد نوری، عدنان پردیسی،اظہر علی ڈاہر،گوہر اجمل، واصف علی،ڈاکٹر نوراحمد میمن، عبدالقادر گیگا، زاہد مظہر،ڈاکٹر طاہر شاہ، الطاف گل محمد، پروفیسر مائیکل اے ہان، پروفیسر طاہر شاہ، حسن علی بیگ، شاہ زیب ایوب عباسی، عدنان فیروز، عامر شمسی، محمد ادریس احمد، محمد عرفان عبداللہ،عرفان معارفانی،فرحین فاطمہ، ڈاکٹر عرفان شیخ، ڈاکٹر عبدالجبار، ڈاکٹر تنویر حسین، ایس ایم خالد، طارق خان، ڈاکٹر ارشد محمود، ڈاکٹر اسد بلال حلیم، پروفیسر اقبال بھانگرا، حمید لطیف اور اہم شخصیات نے اظہارِ خیال کیا۔ اس موقع پر ٹیکسٹائل انسٹیٹیوٹ آف پاکستان کے چانسلرجدت لائے بغیر ٹیکسٹائل کو ترقی دینا کبھی ممکن نہیں ہو گا۔تعلیمی اداروں اورصنعتوں کے روابط کو بہتر بنانے کی اشد ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔ ٹیکسٹائل کی حیثیت ملکی معیشت میں ریڈھ کی ہڈی کی مانند ہے اور پاکستان کی یہ سب سے بڑی مینوفیکچرنگ انڈسٹری ہے۔ پاکستان دنیا کا چوتھا بڑا کاٹن پیداکرنے والا ملک ہے اور ایشیا میں ٹیکسٹائل کی برآمدات کا آٹھواں بڑا ملک ہے اور پاکستان کی جی ڈی پی میں بھی ٹیکسٹائل انڈسٹری کا ایک بڑا حصہ ہے ساتھ ہی یہ صنعت پاکستان کے شہریوں کو روز گار مہیا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کررہی ہے۔ ملک کی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ بل واسطہ یا بلاواسطہ اس شعبے سے تعلق رکھتا ہے۔مقررین نے کہا کہ حکومت ،تعلیمی ادارے اور صنعت یہ تینوں ستون اس وقت اس کانفرنس کی بدولت ایک جگہ موجود ہیں جو اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ ہم اس صنعت کو آگے بڑھانے کا پختہ عزم کر چکے ہیں ان ستون میں تعلیمی اداروں کو ایک قلیدی حیثیت حاصل ہے ان تعلیمی اداروں اور صنعت کے تعاون کو مزید مضبوط کرنا ہوگا اور ملکی سطح پر ٹیکنیکل ٹیکسٹائل کی مصنوعات کو فروغ دینا ہوگا۔ میاں عبدالمجید نے مزیدکہاکہ اس انسٹیٹیوٹ کو قائم کرنے کا مقصد پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو سہارا دینا تھا اس انسٹیٹیوٹ کے ذریعے جو نوجوان سامنے آرہے ہیں وہ مختلف انڈسٹریوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ ہم انسٹیٹیوٹ میں باصلاحیت بچوں کو اسکالر شپ بھی فراہم کررہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ زکوٰۃ فنڈ اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کے تعاون سے بھی طلبہ کو تعلیم دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں پہلی ٹیکسٹائل کانفرنس منعقد کرنے کا مقصد یہ ہے کہ دْنیا بھر کے ماہرین پاکستان آئیں اور ہمارے طلبہ و طالبات کے ساتھ ساتھ ٹیکسٹائل انڈسٹری سے وابستہ افراد کو دْنیا بھر میں ہونے والی معلومات فراہم کریں اور اس میں ہم کافی حد تک کامیاب ہوچکے ہیں دو روز میں حاضرین کی تعداد اس بات کا ثبوت ہے کہ طلبہ اور انڈسٹری سے وابستہ لوگ سیکھنے کا عمل جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ اس موقع پر ٹیکسٹائل انسٹیٹیوٹ آف پاکستان کے صدر ہمایوں ظفر نے کہاکہ ہمارا ادارہ گزشتہ کئی سالوں سے طلبہ کو بہترین تربیت فراہم کررہا ہے سرکاری سطح پر اسطرح کا کوئی انسٹیٹیوٹ نہیں جو طلبہ کو اتنی جامع تربیت فراہم کرسکے۔ اس کانفرنس میں دْنیا بھر سے آئے ہوئے شرکاء کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔کانفرنس میں بین الاقوامی سائنسدانوں اور ریسرچرز نے اپنے مقالا جات پیش کئے اور اس بات پر زور دیا کہ ہم اس وقت تک ٹیکسٹائل میں ترقی نہیں کرسکتے جب تک کہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہوں اور ایک دوسرے کے ساتھ خیالات کو شیئر نہ کریں۔ پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کی ترقی کیلئے اپٹپما کی مدد بہت ضروری ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر