بیان پر قائم ہوں،غدار کون ہے ،فیصلہ کرنے کیلئے کمیشن بنایا جائے :سابق وزیر اعظم،بیان کی غلط رپورٹنگ کی گئی ،پوری پارٹی،شہباز شریف اور میں نواز شریف کے ساتھ ہیں،وضاحت کا فیصلہ میرا اپنا ہے :شاہد خاقان

بیان پر قائم ہوں،غدار کون ہے ،فیصلہ کرنے کیلئے کمیشن بنایا جائے :سابق وزیر ...

بونیر ،اسلام آباد (ڈسٹرکٹ رپورٹر ،سٹاف رپورٹر مانیٹرنگ ڈیسک ، آئی ا ین پی) مسلم لیگ (ن) کے قائد اورسابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ممبئی حملوں سے متعلق اپنے بیان پر قائم ہوں، چاہے جو کچھ بھی سہنا پڑے حق بات کروں گا‘ جو کہا وہ مجھ سے پہلے پرویز مشرف، محمود درانی، رحمان ملک بھی کہہ چکے ہیں، اس میں کون سی غلط بات ہے‘ ممبئی ٹرائل مکمل کیوں نہیں ہوسکا ؟ ہمارے پاس بھی کم شواہد نہیں‘ کیا وہ محب وطن ہوگا جس نے 12مئی کا سانحہ کیا‘ کلبھوشن ایک جاسوس ہے جس نے پاکستان میں جاسوسی کی ۔ پیر کو نوازشریف نے احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میں نے بڑا جائز سوال اٹھایا ہے۔ اس موقع پر نو از شریف نے صحافیوں کو ڈان اخبار کا متعلقہ حصہ موبائل فون سے پڑھ کر سنایا اور کہا دیکھ لیں اس میں میں نے کیا کہہ دیا ایسا۔ انہوں نے کہا ہم نے قربانیاں دیں، فوج نے قربانیاں دیں، 50 ہزار سے زائد لوگ شہید ہوئے، پھر بھی دنیا ہمارا موقف ماننے کو کیوں تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی سالوں سے کہتا آ رہا ہوں کہ ہمارے 50 ہزار لوگ شہید ہوئے، جس میں آرمڈ فورسز، پولیس اور شہری شامل ہیں، اتنی قربانیوں کے باوجود آخری دنیا ہمارا بیانیہ کیوں تسلیم نہیں کرتی، جو کچھ کہا ہے بہت سے لوگ اس حقیقت کو تسلیم کر چکے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ میں نے جواب مانگا تھا، میرے سوال کا جواب آنا چاہیے تھا، مجھ سے پہلے بہت سے لوگ بھی اس حقیقت کو تسلیم کرنے والوں میں شامل ہیں، یہی وہ چیزہے جس کی وجہ سے دنیا ہمارا بیانیہ سننے کو تیار نہیں۔ان کا کہنا ہے کہ دنیا ہمارا بیانیہ تسلیم کرنے کو کیوں تیار نہیں، ہمارا بڑا جائز سوال ہے، میڈیا میں سوال پوچھنے والے کو غدار کہہ رہے ہیں، غداراس کو کہہ رہے ہیں جس نے ایٹمی دھماکے کیے۔ انہوں نے کہا کہ کیا محب وطن وہ ہیں جنہوں نے آئین توڑا؟ کیا محب وطن وہ ہیں جنہوں نے ججوں کو دفاترسے نکالا؟ کیا کراچی میں 12مئی کو خونی کھیل کھیلنے والے محب وطن ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہمیں غدار کہلایا جارہاہے، میں حق بات کرتاہوں اور کرتا رہوں گا،حق بات کرنا قومی ، دینی اور اخلاقی فرض سمجھتا ہوں۔ نواز شریف نے کہا کہ پہلے بتایا جائے میں نے کہا کیا ہے ؟ ذرا ڈان اخبار نکال کر پڑھیں تو سہی۔ نواز شریف نے کہا کہ کلبھوشن یادیو بھارتی جاسوس ہے، اس نے پاکستان میں جاسوسی کی۔بعد ازاں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے قائدو سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ اس شخص کو غدار کہا گیا جو ملک کے لیے مرتا ہے، اگر میں غدار ہوں تو ایک قومی کمیشن بنایا جائے تاکہ حساب کتاب ہو جائے،ہم نے قوم کے ساتھ جو بھی وعدے کیے پورے کیے، دہشت گردوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مقابلہ کیا اور امن قائم کرنے کا وعدہ پورا کیا، پاکستان کی ترقی کا وعدہ پورا کیا،عمران خان نے کے پی کے لیے کچھ نہیں کیا، سوات کے لوگوں سے جب پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ عمران خان نے ہمیں ذلیل و رسوا کیا اور صوبے میں کوئی ترقی نہیں ہوئی،ہماری حکومت ہوتی تو بونیر میں موٹر وے بن چکی ہوتی لیکن اگر ابھی نہیں بنی تو 2018 کے بعد بن جائے گی،خیبر پختونخوا میں ہماری حکومت آئی تو صوبے کی تقدیر بدل دیں گے،۔وہ پیر کو یہاں دورہ بونیر کے موقع پر مرکزئی بازار سواڑی میں جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے ۔جلسے سے مریم نواز،ن لیگ کے صوبائی صدر انجینئر امیرمقام ،ضلعی صدر سرزمین خان،کامران خان ،ساہ بخت روان،ودیگر نے بھی خطاب کیا۔نواز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ ووٹ کی عزت کو پاؤں کی نیچے روندا جارہا ہے۔مگر میں ووٹ کی عزت کو پامال نہیں ہونے دوں گا۔تبدیلی سرکار کے وعدے اور دعوے جھوٹے ہے۔کے پی کے اب بھی وہی پرانا کے پی کے ہیں۔اگر یہاں مسلم لیگ ن کی حکومت ہوتی تو موٹر وے بونیر تک بن چکا ہوتا،اگر اللہ نے موقع دیا تو بونیر تک موٹر وے پہنچائیں گے۔ملک سے دہشتگردی،بدامنی،لوڈ شیڈنگ اور دیگر مسائل ن لیگ نے ختم کر دئے۔عمران خان اور ان کی ٹیم نے یہاں کے عوام کیلئے کچھ نہیں کیا۔یہاں کے عوام تحریک انصاف کی حکومت میں اُلٹا ذلیل وخوار ہوئے۔گند گرد وغبار ،ٹوٹی سڑکیں تبدیلی سرکار کے کے پی کے کے عوام کیلئے تبدیلی ہے۔ان کی اس تبدیلی پر ن لیگ لعنت بھیجتی ہے۔انشاء اللہ اگر اللہ نے موقع دیا تو 2018کے الیکشن میں کامیابی کے بعد بونیر سے لاہور بناوٗں گا۔نوازشریف نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ ایک محب وطن کو غدار کہا جاتا ہے۔غلط پالیسوں اور سازشوں کی وجہ سے پاکستان تنہا ہوتا جارہا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایک قومی کمیشن بنایا جائے اور پھر اس کا حساب کتاب ہوجائے اور جو مجرم نکلا انہیں سر عام پھانسی پر لٹکایا جائے۔عمران خان سے پوچھتا ہوں کہ کے پی کے اور بالخصوص یہاں کے نوجوانوں کیلئے آپ نے پانچ سال میں کیا کیا ۔نوجوان اب بھی ہاتھوں میں ڈگریاں لیکر بے روزگار گھومتے پھیر رہے ہیں۔ان کی مستقبل کیلئے آپ نے کیوں نہیں سوچا۔انشاء اللہ یہ نوجوان ائیندہ الیکشن میں آپ سے احتساب کریں گے ۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب کو ہم اس طرح نہیں چھوڑیں گے، منی لانڈرنگ پر بھی کمیشن بننا چاہیے اور چیئرمین نیب کو بھی اس میں بلایا جائے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف ہمیشہ اپنے وعدے کی لاج رکھتا ہے اور میں عوام کے ووٹ کی حرمت کو پامال نہیں ہونے دوں گا۔ جلسے کے آخر میں میاں محمد نواشریف نے خود ووٹ کو عزت دو،بونیر ،کے پی کے اور پاکستان زندہ باد کے پر جوش نعرے لگائے۔

نواز شریف

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر،آئی این پی)وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ وضاحتی بیان دینے کا فیصلہ میرا اپنا ہے، نواز شریف کاانٹرویو توڑ مروڑ کرپیش کیا گیاانہوں نے بیان کی تردید کی ہے، نان اسٹیٹ ایکٹرز سے متعلق غلط رپورٹنگ کی گئی، سابق وزیراعظم نے بتایا کہ انہوں نے ممبئی حملوں سے متعلق ایسا بیان نہیں دیا، نواز شریف سے منسوب بیان کے کچھ حصے درست نہیں،وزیراعظم نے کہا کہ سول ملٹری تعلقات وہیں کھڑے ہیں جہاں جمعے کو کھڑے تھے، تناؤ پیدا ہوتے رہتے ہیں، حقائق سامنے آتے ہیں تو تناؤ ختم ہوجاتے ہیں۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ مجھے کوئی کھینچ رہا ہے اور نہ کسی کو کھینچنے کی اجازت ہے، وضاحتی بیان دینے کا فیصلہ میرا اپنا ہے اور مجھے نہ تو آرمی چیف نے وضاحت کے لیے کہا ہے اور نہ ہی نواز شریف نے۔وزیراعظم نے کہا کہ نواز شریف میرے کل بھی لیڈر تھے، آج بھی ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے، ،خلائی مخلوق ہو یا زمینی ،ہم الیکشن لڑیں گے اور جیتیں گے، مجھے نہ کوئی کھینچ رہا ہے اور نہ ہی کسی کو کھینچنے کی اجازت ہے، میں نہ ہی استعفے کا سوچ رہا ہوں اور نہ ہی استعفیٰ دوں گا، قومی سلامتی کمیٹی نے ان الفاظ کی مذمت کی جو غلط پیش کئے گئے۔پیر کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ میرا انٹرویو غلط انداز سے پیش کیا گیا، نواز شریف نے بیان کی تردید کی ہے، ہمیں بھارتی پروپیگنڈا کا حصہ نہیں بننا چاہیے،پاکستان نے کبھی اپنی سرزمین دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دی، ممبئی حملے کے ملزمان پاکستان سے نہیں تھے، نواز شریف نے کبھی نہیں کہا کہ حملہ آور پاکستان سے تھے، ایک لمبے انٹرویو سے 3 لائنوں کو اچھالا گیا، نان اسٹیٹ ایکٹرز سے متعلق غلط رپورٹ کی گئی، نواز شریف نے بتایا کہ ان کی بات کی غلط رپورٹنگ کی گئی ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ میں نہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور نہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے کہنے پر وضاحت دے رہا ہوں، نواز شریف نے بتایا کہ انہوں نے ممبئی حملوں سے متعلق ایسا بیان نہیں دیا، نواز شریف نے اس قسم کا بیان نہیں دیا، نواز شریف نے کہا کہ ان کے بیان کی غلط تشریح کی گئی ہے، نواز شریف نے نہ ایسی بات کی نہ ان کا ایسا مقصد تھا، نواز شریف اس بات پر قائم ہیں کہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں کی جائے گی۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نواز شریف سے منسوب بیان کے کچھ حصے درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف سے میری میٹنگ سیکیورٹی کونسل کی میٹنگ کے بعدہوئی ہے، نواز شریف نے مجھے نہیں کہا کہ آپ میرے لئے پریس کانفرنس کریں،بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو نے پاکستان میں جاسوسی کی، بھارتی میڈیا نے نواز شریف کے بیان کو غلط انداز میں اچھالا، میرے وزیراعظم آج بھی نواز شریف ہیں، پارٹی آج بھی نواز شریف کے ساتھ کھڑی ہے، غیر ریاستی عناصر کو اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں کرنے دی جائے گی، پاکستان نے ہمیشہ غیر ریاستی عناصر کی سرکوبی کی، سول ملٹری تعلقات ویسے ہی ہیں، جیسے نواز شریف کے بیان سے پہلے تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت اپنے مقررہ وقت سے ایک منٹ پہلے بھی نہیں چھوڑیں گے، خلائی مخلوق کی بات کریں تو الیکشن کمیشن برا مان جاتا ہے، نواز شریف نے یہ نہیں کہا کہ حملہ آور منصوبہ یا پلان بنا کر یہاں سے بھیجے گئے، نواز شریف نے نہ ہی ہی بات کی اور نہ ہی ان کا یہ مطلب تھا۔ انہوں نے کہا کہ خلائی مخلوق ہو یا زمینی ،ہم الیکشن لڑیں گے اور جیتیں گے، مجھے نہ کوئی کھینچ رہا ہے اور نہ ہی کسی کو کھینچنے کی اجازت ہے، وضاحتی بیان دینے کا فیصلہ میرا اپنا ہے، میں نہ ہی استعفے کا سوچ رہا ہوں اور نہ ہی استعفیٰ دوں گا، قومی سلامتی کمیٹی نے ان الفاظ کی مذمت کی جو غلط پیش کئے گئے۔دریں اثناکراچی کی بند گاہ پر خصوصی طور پر تعمیر شدہ گہرے پانی کے پہلے کنٹینر ٹرمینل ہچیسن پورٹس پاکستان کا افتتاح کیا گیا ہے۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہ پاکستان کا پہلا ٹرمینل ہے جو سمندر کے گہرے پانی میں تعمیر کیا گیا ہے۔ اس ٹرمینل کا افتتاح وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے کیا جنہوں نے اس موقع پر پاکستان کی ترقی کیلئے ٹرمینل کی اہمیت پر اظہار خیال کیا ۔ اس موقع پر جہاز رانی کے وزیر سینیٹر میر حاصل خان بزنجو، گورنر سندھ محمد زبیراور کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کے چیئرمین ریئر ایڈمرل جمیل اختر موجود تھے۔ ہچیسن پورٹس پاکستان کراچی پورٹ ٹرسٹ اور ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والی ہچسن پورٹس کے درمیان پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ ہے۔ یہ ٹرمینل اس خطے کے جدید ٹرمینلز میں سے ایک ہے جس نے 9 دسمبر 2016سے اب تک آزمائشی آپریشن کے دوران پورٹ پر سامان کی بہتر انداز سے ترسیل کا چار مرتبہ نیا ریکارڈ قائم کیا اور دنیا کے وسیع ترین کنٹینر ٹرمینل کو سہولیات فراہم کیں۔ اس ٹرمینل کی معیاری کارکردگی کے ساتھ پاکستان کو عالمی تجارت میں ایک اہم مقام دلوائے گا اور ملکی معاشی ترقی میں ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔ اس تقریب کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے و زیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اس بندر گاہ کی تعمیر ملک کیلئے ایک تاریخی کامیابی کے مترادف ہے اور حکومت پاکستان نے فعال انداز سے اس منصوبے پر کام کیا ۔ اس کے ساتھ حکومت نے ملک بھر میں انفراسٹرکچر اور رابطوں کے دیگر علاقائی منصوبوں پر بھی کام کیا ہے ۔انہوں نے مزید کہا ، ’’ پاکستان میں عام بندرگاہوں کے ساتھ ہچیسن پورٹس پاکستان خصوصی طور پر ملکی معاشی ترقی کے منظرنامے کو مثبت انداز سے تبدیل کرنے کے لئے نمایاں کردار ادا کرے گا۔ ہچیسن پورٹس پاکستان میں موجود جدید ترین ٹیکنالوجی بلاتعطل آپریشن میں سہولت فراہم کرتی ہے۔ اس میں ریموٹ کنٹرول سے چلنے والی آٹھ عدد کرینز، 26 عدد ربر ٹائر جینٹری کرینیں، کنٹرول ٹاور کے ساتھ بہتر رابطے ، سی سی ٹی وی اور ٹرنک ریڈیو سسٹمز شامل ہیں۔ یہ ٹرمینل ہچیسن پورٹس کے جدید ترین آپریٹنگ سسٹم این جین (nGen) سے آراستہ ہے۔ این جین انتہائی اعلیٰ معیار کے ساتھ یارڈ اورکی آپریشنز کو کنٹرول کرتا ہے جو دنیا کے سب سے بہترین کنٹینر ٹرمینلز پر استعمال کیا جارہا ہے۔ یہ ٹرمینل دسمبر 2018 میں نئے ریجنل آپریشنز سینٹر کا آغاز کرے گا جس کی بدولت دیگر پورٹس کے لئے ریموٹ شپ پلاننگ میں سہولت فراہم ہوگی ، یہ ہچیسن پورٹس کے نیٹ ورک کا حصہ ہے۔ اس سینٹر کے نمایاں تکنیکی فائدے یہ ہیں کہ سامان کو لادنے اور اتارنے کے دورانئے میں نمایاں کمی آئے گی اور درآمد کنندگان و برآمد کنندگان کو لاگت میں نمایاں بچت ہوگی۔ اس موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے میری ٹائم افیئرز کے وزیر سینیٹر میر حاصل بزنجو نے کہا، "ہچیسن پورٹس پاکستان جیسے بڑے ترقیاتی منصوبوں سے تجارت میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا جس سے ملکی معیشت میں بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 97 فیصد بین الاقوامی تجارت سمندری بندرگاہوں سے ہوتی ہے اور ان کی وزارت پاکستان کی بندرگاہوں کو مربوط انداز سے جوڑنے کے لئے پرعزم ہے۔ کے پی ٹی کے چیئرمین ریئر ایڈمرل جمیل اختر نے کہاکہ یہ ٹرمینل کراچی میں تجارت کے بڑے مرکز کے طور پر سامنے آئے گا اور پاکستان میں تجارت کے نئے مواقع سامنے لانے کے لئے اہم کردار ادا کرے گا۔ کے پی ٹی کی جانب سے اس کنٹینر ٹرمینل کی سائٹ بنانے، واٹر چینل کو گہرا کرنے کے لئے ڈریجنگ سمیت دیگر کاموں کے لئے 800 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ ہچیسن پورٹس کے منیجنگ ڈائریکٹر برائے مڈل ایسٹ افریقہ اینڈی چوئے (Andy Tsoi)نے کہاکہ کمپنی ملک میں مسلسل ترقی لانے کے لئے پرعزم ہے اور اس کا ارادہ ہے کہ مقامی انڈسٹریوں کی عالمی مارکیٹوں تک رسائی کے لئے منفرد اور بہترین گزرگاہیں فراہم کی جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پورٹ کو بین الاقوامی معیار کے مطابق آپریٹ کیا جارہا ہے اور پورٹ آپریشنز میں انتہائی اعلیٰ معیار کی مہارت استعمال کی جارہی ہے۔ اس موقع پر ہچیسن پورٹس پاکستان کے جنرل منیجر اور ہیڈ، کیپٹن سید راشد جمیل نے ٹرمینل کی جدید خصوصیات پر روشنی ڈالی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ہچیسن پورٹس پاکستان ملک میں تیزرفتار تجارتی حالات پیدا کرنے کے لئے پہلے سے ہی اہم کردار ادا کررہا ہے ۔ اس ٹرمینل سے کراچی میں تجارت کے لئے مزید نئے مواقع پیدا ہوں گی جس کی بدولت یہ تجارت اور ٹرانسپورٹ کی سرگرمیوں کے لئے بڑے ایشیائی مرکز میں تبدیل ہوجائے گا۔ ہچیسن پورٹس پاکستان کیماڑی گروئن بیسن پر واقع ہے اور کراچی میں داخل ہونے والے جہازوں کو انتہائی باسہولت انداز سے رسائی فراہم کر رہا ہے۔ یہ کنٹینر ٹرمینل بحیرہ عرب میں شپنگ لائنز کو پاکستانی بندرگاہ سے ملانے کا سب سے زیادہ قریبی راستہ ہے ۔ اپنے بہترین مقام کی بدولت جہاز پہنچنے کا وقت فیئروے بوائے سے سب سے مختصر ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں صارفین کو وقت، لاگت اور تاخیر میں کمی سے بھرپور فائدہ ہوگا جبکہ کاربن کا اخراج بھی کم ہوگا۔ ہچیسن پورٹس پاکستان ہچیسن پورٹس کا رکن ہے اور سی کے ہچیسن ہولڈنگز لمیٹڈ (سی کے ہچیسن) کا پورٹ اور متعلقہ سروسز ڈیویژن ہے۔ ہچیسن پورٹس دنیا کا صف اول کا پورٹ انوسٹر، ڈیولپر اور آپریٹر ہے اور یہ ایشیاء ، مشرق وسطیٰ، افریقہ، یورپ، امریکاز اور آسٹریلیشیاز کے 26 ممالک میں پھیلی 52 بندرگاہوں میں پورٹ آپریشنز کا نیٹ ورک رکھتا ہے۔ گزشتہ سالوں میں ہچیسن پورٹس نے اپنا کام لاجسٹکس اور ٹرانسپورٹیشن کے شعبے میں بھی پھیلا دیا ہے، جن میں بڑے بڑے جہازوں کے لئے ٹرمینلز، ایئرپورٹ آپریشنز، ڈسٹری بیوشن سینٹرز، ریل سروسز اور بحری جہازوں کی مرمت کی سہولیات شامل ہیں۔

عباسی

مزید : کراچی صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...