قومی سلامتی کے اجلاس کے بعد کس نے وزیراعظم کو پریس کانفرنس کرنے کا کہا اور پھر سرکاری ٹی وی نے نشر کیوں نہیں کی؟ انتظامیہ کو کیا ٹیلی فون کال موصول ہوئی ؟ چونکا دینے والا انکشاف سامنے آ گیا

قومی سلامتی کے اجلاس کے بعد کس نے وزیراعظم کو پریس کانفرنس کرنے کا کہا اور ...

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق وزیراعظم نواز شریف کے ممبئی حملوں سے متعلق بیان کے بعد گزشتہ روز وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس نے متفقہ طور پر نواز شریف کے بیان کو مسترد کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔سوشل میڈیا پر اس تصویر کو وادی نیلم میں پل ٹوٹنے سے چند لمحے قبل ان بدقسمت طلباءکی تصویر کہا جا رہا ہے، لیکن دراصل اس کی حقیقت کیا ہے؟ جان کر ہر پاکستانی غصے سے لال پیلا ہو جائے گا 

اجلاس کا اعلامیہ جاری ہونے کے بعد یہ خبر سامنے آئی کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کچھ دیر بعد پریس کانفرنس کریں گے لیکن وہ پریس کانفرنس کسی بھی چینل حتیٰ کہ سرکاری ٹی وی چینل پر بھی نشر نہ کی گئی جس کے بعد کئی سوالات سر اٹھانے لگے کہ آخر ایسا کیوں ہوا ہے۔

نجی ٹی وی سماءنیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ نواز شریف نے وزیراعظم کو ہدایت کی تھی کہ وہ پریس کانفرنس کریں اور قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ان کے بیان کی مذمت کی وضاحت کریں۔

رپورٹ کے مطابق جب نیوز کانفرنس نشر نہ ہونے کی وجہ سے متعلق معلوم کرنے کی کوشش کی گئی تو وزارت اطلاعات اور وزیراعظم آفس نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنے کی کوشش کی لیکن بتایا یہ جا رہا ہے کہ ایک ٹیلی فون کال اس نیوز کانفرنس کے نشر نہ ہونے کی وجہ بنی۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان ٹیلی ویژن کی انتظامیہ کو ایک ٹیلی فون کال موصول ہوئی اور کہا گیا کہ وزیراعظم کی پریس کانفرنس نشر نہیں کی جائے گی جس کے بعد انتظامیہ نے پریس کانفرنس دکھانے سے انکار کر دیا۔

۔۔۔ویڈیو دیکھیں۔۔۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /علاقائی /اسلام آباد /پنجاب /لاہور

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...