5 شعبوں میں سرمایہ کاری پر ذرائع آمدن نہیں پوچھے جائینگے

5 شعبوں میں سرمایہ کاری پر ذرائع آمدن نہیں پوچھے جائینگے
5 شعبوں میں سرمایہ کاری پر ذرائع آمدن نہیں پوچھے جائینگے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد (ویب ڈیسک)پاکستان میں اثاثہ جات ایمنسٹی سکیم کے ساتھ کالے دھن کو سفید کرنے کیلئے ایک نئی انویسٹمنٹ سکیم لائی گئی ہے جس کے تحت ملک میں 5شعبوں میں سرکایہ کاری کی صورت میں سرمایہ کاروں سے ان کے ذرائع آمدن نہیں پوچھے جائیں گے ، فنانس بل کے ذریعے انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 86کے ساتھ کلاز86Aکا اضافہ کر دیا گیا ہے۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

روزنامہ دنیا کے مطابق قومی اسمبلی سے فنانس بل کی منظوری کے بعد یکم جولائی2018سے اس نئی سرمایہ کاری سکیم سے استفادہ کیا جاسکے گا ،سکیم کے تحت ملک میں پانچ نئے شعبوں جن میں کارپوریٹ سیکٹر کنسٹرکشن کی صنعت، ملک میں غریب عوام کیلئے چھوٹے اور سستے گھروں کی تعمیر کے منصوبوں میں سرمایہ کاری، ملک میں بڑے پیمانے پر مویشیوں کی افزائش سے متعلق ( کارپوریٹ سیکٹر کی طرز پر لائیوسٹاک ڈیویلپمنٹ)، ملک میں صنعتی یونٹوں کے اندرنجی شعبے میں چھوٹے بجلی گھروں کی تعمیر بجلی(پاور پلانٹس) کی تعمیر، سندھ میں تھر کے کوئلے کے ذخائر، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں کوئلے کے ذخائر کی ترقی اور ان کو ملک کی معاشی سرگرمیوں میں استعمال میں لاکر ان ذخائر کو ترقی دینا ہے۔

واضح رہے کہ منی لانڈرنگ ، ٹیررازم فنانسنگ اور ٹیکس حکام کی ملک کے بینک کھاتوں کو بلاواسطہ رسائی کے قوانین بنائے جانے کے سبب پاکستان میں کم و بیش3000ارب روپے ملک کے بینکنگ سیکٹر سے باہر ہیں اور ان کی شرح گزشتہ پانچ سال کے دوران 200ارب روپے سے بڑھ کر5000ارب روپے کے قریب پہنچ چکی ہے اور کیش میں لین دین کے فروغ کے سبب یہ پیسہ بلیک منی قرار پا رہا ہے اور ملک میں ایک متوازی معیشت کا درجہ اختیار کر چکا ہے ،5ہزار ارب روپے جو کہ پاکستان کے قومی بجٹ سے بھی حجم میں زیادہ ہے کو واپس ملک کی دستاویزی صنعت (ڈاکومنٹڈ اکانومی) کے زمرے میں شامل کرنے کیلئے پانچ نئی صنعتی شعبوں میں سرمایہ کاری پر سرمایہ کاروں سے ان کے ذرائع آمدن نہیں پوچھے جائیں گے تاہم جن شعبوں میں نئی سرمایہ کاری پر ذرائع آمدن نہ پوچھنے کی شق کا اطلاق نہیں ہوگا ان میں ملک میں اسلحہ بنانے کی صنعت، دھماکہ خیز مواد بنانے کی صنعت، کھاد بنانے کی صنعت، سگریٹ بنانے کی صنعت، منرل واٹر بنانے کی صنعت، سیمنٹ کے کارخانے ، ٹیکسٹائل سپننگ کے یونٹ، آٹے کی ملیں بنانے ، گھی اور کوکنگ آئل بنانے کے کارخانے شامل ہیں۔

فنانس بل میں ایک نئی شق شامل کی گئی ہے جس کے تحت منشیات کی پیداوار یا فروخت سے بنائی گئی دولت، ٹیررازم ایکٹ کے تحت بیان کردہ دولت اور منی لانڈرنگ سے حاصل کردہ سرمایہ سے پاکستان میں ان نئی پانچ صنعتوں میں نئی سرمایہ کاری نہیں کی جاسکے گی۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد