پولیس افسروں نے کام چھوڑدیا ، نگرانوں کے آنے کا انتظار کرنے لگے

پولیس افسروں نے کام چھوڑدیا ، نگرانوں کے آنے کا انتظار کرنے لگے
پولیس افسروں نے کام چھوڑدیا ، نگرانوں کے آنے کا انتظار کرنے لگے

  

لاہور (ویب ڈیسک) موجودہ حکومت کی آئینی مدت پوری ہونے کا انتظار ، لاہور پولیس کے افسران کام کی بجائے دن پورے کرنے کیلئے کام چھوڑکر آرام کرنے لگے ، نگران سینٹ اپ میں متوقع تبادلوں کے پیش نظر کام نہیں کیا جا رہا ، چند ماہ میں کرائم کی شرح میں غیر معمولی اضافہ ، رواں سال سنگین جرائم کے 2550 واقعات رپورٹ ہوئے ، ڈکیتی کے 848 واقعات ہوئے ، 6افراد ڈکیتی مزہمت پر قتل ہوئے، موٹر سائیکل چھیننے کے 97، چوری کے 1240 جبکہ کار چوری کے 151 واقعات رونما ہوئے ۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

روزنامہ خبریں کے مطابق حکومت کی آئینی مدت پوری ہونے میں کچھ دن باقی رہے گئے ہیں جس کو مدنظر رکھتے ہوئے لاہور پولیس کے افسران بالا سے لے کر ایس ایچ اوز اور بیٹ افسران تک تمام نے کام کی بجائے دن پورے کرنے کے متبادل ذرائع تلاش کرنے لگے ۔ نگران سینٹ اپ میں متوقع تبادلوں کے پیش نظر کام نہیں کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پہلے ہی گزشتہ چند ماہ میں کرائم کا کی شرح میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ ہوا ہے جس کے بعد نگران سیٹ اپ کے انتظار میں کام چھوڑ کر آرام کرنے والے افسران و اہلکاروں کی وجہ سے چند روز میں ہی شہر میں جرائم مزید پڑھ گیا ہے جبکہ 2 روز بعد ماہ صیام اور پھر عیدالفطر کی آمد آمد ہے تاہم شہر میں چوری ڈکیتی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں اور افسران بالا سے متعلقہ تھانوں تک ایس ایچ اوز سے اہلکاروں تک تمام کی عدم توجہی کی وجہ سے تاجر ، ملازمت پیشہ اور عام شہری سب ہی عدم تحفظ سے دو چار ہیں۔

ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ رواں سال سنگین جرائم کے 2550واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جن میں ڈکیتی کے 848 واقعات رونما ہوئے جن میں 6افراد کو دوران ڈکیتی مزاہمت ڈاکوﺅں کی جانب سے فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا اور پولیس کسی ایک بھی ڈکیتی قتل کا ملزم گرفتار نہ کر سکی ۔ موٹر سائیکل چوری کے 1240 واقعات اور موٹر سائیکل چھیننے کے 97 واقعات رونما ہوئے جبکہ کار چوری کے 151واقعات رواں سال رپورٹ کیے گئے ۔

 

 

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور