ایک اور کمشن

ایک اور کمشن
 ایک اور کمشن

  

بونیر کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ھوئے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے ایک اور کمیشن بنانے کا مطالبہ کر دیا ہے ۔انکا کہنا ہے کے اگر میں غدار ہوں تو کمیشن بنا کر تحقیقات کروالی جائیں ۔اور غدار کو سرعام پھانسی دے دی جائے ۔اس سلسلے کو سمجھنے کے لیئے ماضی کا سفر کرنا پڑے گا۔کہانی پھر حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہو کر میاں صاحب کے کمیشن پر ختم ہوگی۔بنیادی بات سمجھنے کی یہ ہے  کہ پاکستان میں تحقیقاتی کمیشن کی تاریخ دیکھتے ہوئے سو فیصد امکان ہے کے اگر کوئی کمیشن بن بھی گیا تو اسکے نتائج کے لیئے اگلا جنم لینا پڑے گا۔

جب تک تحقیقاتی کمیشن کے حقیقی نتایٔج منظر عام پر نہ آئیں کمیشن خوروں کی چاندنی لگی رہے گی ۔ سیکورٹی رسک حکمران بنتے رہیں گے سیاست کے چکر میں ریاست بدنام ہوتی رہے گی کسی بھی بڑی تبدیل کی امید رکھنا سوائے حماقت کے سوا کچھ نہیں ہے،حمود الرحمٰن کمیشن ہو یا مرتضیٰ بھٹو قتل کمیشن ۔ ایبٹ آباد کمیشن ہو یا میمو گیٹ کمیشن ۔ ڈان لیکس کمیشن ہو یا جسٹس باقر نجفی کمیشن کوئی بھی حتمی نتیجے پر نہ پہنچ سکا ۔حمود الرحمٰن کمیشن میں وقت کے حکمران اور بیرونی عناصر کو ذمّہ دار ٹھہرایا گیا مگر جہاز تباہ کر دیا گیا، رپورٹ سامنے نہ آ سکی ۔

مرتضیٰ بھٹو کمیشن کی رپورٹ بھی ریاستی اداروں کی طرف اشارہ کرتی رہی مگر بے نظیر بھٹو وزیراعظم ہونے کے با وجود اپنے بھائی مرتضیٰ بھٹو کے قاتلوں کو کیفرِکردار تک نہ پہنچا سکیں۔عمران خان کے یر زور مطالبہ پر انتخابی دھاندلی کمیشن کا قیام عمل میں آیا مگر اسکے نتائج بھی مبہم تھے اور براہ راست کسی پر ذمہ داری عائد نہیں کی گئی ۔اسامہ بن لادن کی ہلاکت پر بننے والا ایبٹ آباد کمیشن ہو یا میمو گیٹ کمیشن یا ڈان لیکس کمیشن رپورٹس تو انکی بھی تیار پڑی ہیں مگر انکو منظرِ عام پر کون کب کیسے لائے گا یہ سوال ہنوز تشنہ طلب ہے۔صرف ایک جسٹس باقر نجفی کمیشن کی رپورٹ سامنے آ سکی ۔جو کہ پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان کے مسلسل احتجاج پر سامنے آئی۔ یہ کمیشن بناتے وقت شہبازشریف شریف نے کہا تھا  کہ کمیشن کی انگلی بھی انکی طرف اٹھی تو وہ استعفیٰ دے دینگے۔ یہ الگ بات کمیشن کا پورا پنجہ پنجاب حکومت کی طرف تھا مگر کچھ بھی نہ ہوا۔

میاں نواز شریف پاناما کیس میں نا اہلی سے ہونے والی جگ ہنسائی کا بدلہ ریاستی اداروں سے لینا چاہتے ہیں ۔انکا خیال ہے کے انکو تینوں بار وقت سے پہلے بر طرف کرنے میں انہی اداروں کا ہاتھ ہے مگر دوسری طرف ایک حلقے کا خیال ہے  کہ میاں صاحب تین بار جو وزیراعظم بنے ہیں وہ انہی اداروں کی مرہونِ منت تھا ۔

مالی جب کوئی درخت لگاتا ہے تو اسکی کانٹ چھاٹ کا اختیار رکھتا ہے جب کوئی درخت بے ثمر ہوجائے یا کوئی پودا گل کے بجائے خار دینے لگے تو اسے تلف کرنا مالی کی مجبوری بن جاتی ہے ۔ہمارے سامنے اسکی واضح مثال لندن والی سرکار کی صورت میں موجود ہے جن کی آج آواز سننے والا بھی کوئی نہیں ہے ۔میاں صاحب کے طرزِ عمل نے شہبازشریف کی منزل کو اور دور کر دیا ہے وہ عمران خان سے انتخابی جنگ لڑینگے یا اپنے بڑے بھائی کے بے تکے بیانات کا دفاع کرتے رہیں گے۔یہ قابلِ دید منظر ہوگا۔ خیر کیا ہی اچھا ہوکہ  چیف جسٹس آف پاکستان نواز شریف کے اس مطالبہ پر ایک قومی کمیشن بنا دیں جو اس بات کو تحقیق کرے کہ نواز شریف اور دیگر مذہبی و سیاسی جماعتوں کے قائدین میں سے کون کون بیرونی طاقتوں کے ایجنڈے کو لیکر چلتے ہیں ۔ کس کو کہاں سے فنڈنگ ملتی ہے اور کون کس کی لائن پر چلتا ہے ۔ ہر اس رہنما جو غیر ملکی فنڈنگ لیتا ہو یا غیر ملکی مفادات کے لئے کام کرتا ہو اس کو بے نقاب کیا جائے اور اس کو غداری کے جرم میں پھانسی کی سزا دی جائے ۔وقت آگیا ہے  کہ حرام خورو ں۔ کمیشن خوروں اور محب وطن لوگوں کے درمیان ایک لکیر کھینچ دی جائے ۔کمیشن کھانے والوں کا مکمّل احتساب کیا جائے ۔ اسکے لیئے ایک کمیشن اور منظور ہے۔۔

۔۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ