فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر427

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر427

منٹو بھی جانتے تھے کہ انہیں بدمعاش افسانہ نگار کہا جاتا ہے ۔فحاشی کا لیبل چسپا ں کردیا گیا ہے ان پر ۔لیکن منٹو کہتے تھے کہنے دو جو کوئی کہتا ہے۔وہ کہتے سوفی میاں، کردار بذات خود اپنے آپ کو مجھ سے لکھواتے ہیں۔ وہ میری انگلی پکڑ کر مجھے ساتھ لیے لیے پھرتے ہیں۔ میرا ان پر کوئی بس نہیں چلتا۔ میں ان کی رضا کا پابند ہوں۔ وہ میرے فلم کے پابند نہیں ہیں۔

پھر بھی شکر ہے کہ منٹو صاحب نے ’’آفاق‘‘ کے لیے جو معرکہ آرا خاکے اور مضامین لکھے وہ ’’قابل اعتراض‘‘ کی زدسے باہر تھے۔ اگر وہ تھوڑی بہت آزادی حاصل کرلیتے تھے تو اسے درگزر کردیا جاتا تھا۔ دراصل سعادت حسن منٹو اتنا بڑا نام تھے کہ ان کے سامنے کسی کو دم مارنے کا یارانہ تھا۔ وہ کسی کے پابند تھے نہ کسی سے ڈرتے تھے۔ نہ کسی کی پروا کرتے تھے۔ وہ تو صرف تخلیق کار تھے۔ جو شبیہ ان کے ذہن میں آجاتی تھی وہ اس کو کسی مبالغے کے بغیر پڑھنے والوں کے سامنے جھاڑ پونچھ کر پیش کردیتے تھے۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر426 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

سرور صاحب انتظار حسین صاحب کے بھی بڑے مداح تھے۔انتظار حسین اس وقت افسانہ نگاروں میں ایک اہم اور قابل ذکر شخصیت تھے۔سرور صاحب کی خواہش تھی کہ انتظار صاحب آفاق کے ادارے میں شامل ہو جائیں۔مگر انتظار صاحب کا مسئلہ یہ تھا کہ وہ ادبی دائرے سے باہر نکل نہیں سکتے تھے اس لئے انہیں کوئی دوسرا کام نہیں سونپا جا سکتا تھا۔آخر سرور صاحب نے ان کے لئے روزانہ کالم لکھنے کی گنجائش نکالی۔انتظار حسین صاحب ’’محفلیں‘‘کے عنوان سے ادبی چاشنی سے بھر پور کالم لکھتے رہے جو اپنی نوعیت کے منفرد اور مختلف تھے۔اس قسم کے کالم نہ اس وقت کسی نے لکھے اور نہ ہی آج کل لکھے جاتے ہیں۔

اس بہانے انتظار حسین صاحب ہمارے ہم نشین اور دوست بن گئے۔ہم نے انہیں اپنے کمرے میں براجمان کرایا۔اس میں فائدہ یہ تھا کہ ایک تو فرصت کے اوقات میں ان سے گپ شپ چلتی رہتی تھی دوسرے یہ کہ ان کے حوالے سے نامور ادیب،شاعر اور افسانہ نگار دفتر میں تشریف لے آتے تھے۔ہم بھی ان کی محفل میں شامل ہو جاتے تھے۔چائے کابل انتظار صاحب کے ذمے ہوتا تھااور لطف ہم حاصل کرتے تھے۔ان میں سے بہت سی ہستیوں سے اسی بہانے ہمارے تعلقات استوار ہوئے جن میں ناصر کاظمی بطور خاص قابل ذکر ہیں۔

انتطار صاحب کا ہمارے کمرے میں بیٹھنے کا ایک فائدہ یہ تھا کہ وہ اپنے گھر سے’’سائیکل لنچ سروس ‘‘ کے ذریعے باقاعدگی سے کھانا منگواتے تھے۔گھر کا کھانا ہمیں بھلا اور کہاں نصیب ہو سکتا تھا۔ان کی عادت تھی کہ بارہ ایک بجے تک اخبارات پڑھتے۔باتیں کرتے اور سوچتے۔ایک بجے کے بعد وہ کالم لکھنے کا آغاز کرتے تھے۔اس وقت تک ان کا لنچ پہنچ جاتا تھا۔ہمیں سخت بھوک لگی ہوتی تھی اور ہمارے تقاضے جاری رہتے تھے کہ چچا ( ہم نے ان کا پیار کا نام رکھا تھاجو پہلے سارے دفتر میں اور سارے صحافتی حلقوں میں معروف ہو گیا)کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے ۔وہ لکھنے میں مشغول تھے۔ہمارے تقاضے جب بہت بڑھ جاتے توکہتے’’یار تم کھالو۔مجھے ڈسڑب نہ کرو۔‘‘

اس طرح ان کالنچ ہمارے کھاتے میں آجاتاتھا۔اگر کچھ بچ جاتا تھا تو و ہ ان کے حصے میںآجاتا تھا ورنہ صبر وشکر کر کے چائے منگواتے ۔خود بھی پیتے اور ہمیں بھی پلاتے اور شام کے وقت اپنے مستقل ٹھکانے’’ٹی ہاؤس‘‘ کی راہ لیتے۔

ایک اور فائدہ یہ بھی تھا کہ سارے ہی شاعر‘ادیب اور صحافی ہم دونوں کے واقف تھے۔جب کوئی ہمارادوست ہم سے ملنے آتا تو ہم فوراً لے اسے انتظارصاحب کے پاس پہنچ جاتے۔

’’انتظار صاحب۔دیکھیے۔دیکھیے کون آیاہے؟‘‘

وہ کہتے ’’اخاہا۔بھئی آپ بہت دن بعد نظر آئے۔‘‘

ہم فوراً مہمان کیلئے ایک کرسی انتظارصاحب کی میز کے سامنے رکھ دیتے اور ان سے کہتے ’’چچا ۔چائے کا آرڈر دے دوں؟‘‘

ظاہر ہے یہ آرڈر ان کی طرف سے دیا جاتا تھا اور بل بھی وہی دیتے تھے۔وہ سر ہلا دیتے اور اس طرح بل کا خرچہ انکاپر پڑ جاتا۔یہ تو محض چند فوائد ہیں۔انتظار صاحب کی صحبت اور ہم نشیبی کی بدولت ہماری ادبی صلاحیت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا اور معلومات میں بھی۔ہم باتوں باتوں میں ان سے محاوروں کے بارے میں گفتگو کر لیا کرتے تھے۔

ہم کہتے’’ انتظار صاحب یہ جو آپ نے محاورہ لکھا ہے یہ اردو کا سکہ بند محاورہ نہیں ہے۔یہ تو آپ کی ہاپوڑ کی علاقائی اصطلاح ہے اور یہاں لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ نے بالکل نیا محاورہ لکھا ہے۔‘‘

وہ ہنس کرچپ ہو جاتے تھے۔کبھی انہوں نے اس موضوع پر سنجیدہ بحث نہیں کی۔جب بھی ان کے محاوروں کی تعریف کی جاتی ہم ان سے کہتے ’’آپ نے محاورے کو بگاڑ دیا ہے اورلوگ انجانے میں تعریف کر رہے ہیں‘‘

’’بھائی تم تو جانتے ہونا۔مت کرو تعریف‘‘وہ چڑ کر کہتے۔

کبھی کبھی ہم اس ادیب پر زبانی تبصرہ کرتے ہوئے اسے انتظار حسین کا بگڑا ہوا محاورہ‘‘ کہہ تو انتظار صاحب ہمیں بہت دیر تک گھورتے رہتے۔

ایک دن کلیم عثمانی صاحب نے کہا۔’’چچا۔آپ نے اس کو اتنی لفٹ کیوں دے دی ہے۔‘‘

وہ بولے’’میں نے کہاں دی ہے۔اس نے خود ہی لے لی ہے۔‘‘

روزنامہ ’’آفاق‘‘کے دفتر میں اس زمانے میں بہت سے معروف اور نامور یگانہ روزگار لوگ اکٹھے ہو گئے تھے۔عملے کے افراد کے علاوہ لاہور بلکہ پاکستان کا شاید ہی کوئی قابل ذکر شخص ہو جو ’’آفاق ‘‘کے دفتر میں نہ آیا ہو۔بعد میں جب ہم نے ’’آفاق‘‘میں فلمی صفحے کا آغاز کیا تو فلمی صنعت سے تعلق رکھنے والے افراد کابھی آناجا نا ہو گیا لیکن ایک بات کاخاص طور پر خیال رکھا گیاتھا کہ کوئی خاتون فن کارہ دفتر میں نہ آئیں۔یہ روایت آخر دم تک نبھائی گئی۔اس صفحے کے مقبول اور بااثر ہونے کے باوجود کبھی کسی فنکارہ نے روزنامہ ’’آفاق‘‘ کے دفتر کو رونق بخشی۔ایسا جان بوجھ کر کیا گیا تھا۔وجہ یہ تھی کہ اس زمانے میں فلمی صنعت کے لئے فلمی پرچے شائع ہواکرتے تھے۔ان کے دفاترمیں فلم ایکٹروں اور ایکٹریسوں کی بھیڑ لگی رہتی تھی۔یہ ہم پہلے بھی روزناموں میں فلمی جرائد بہت کم تھے۔روزناموں میں فلمی سرگرمیوں میں تذکرہ نہیں ہوتا تھا۔فلمی صنعت میں ایکٹریسوں میں مقابلے کی اسپرٹ بھی زیادہ تھی۔اس کے مقابلے میں پبلسٹی حاصل کرنے کی سہولتیں برائے نام تھیں۔ریڈیو پر کبھی کبھار فلمی گانوں کی پیشکش کے سوا فلموں اور فلمی صنعت کاکوئی تذکرہ نہیں ہوتا تھا۔ٹیلی وژن اس وقت تک پاکستان میں رائج نہ ہواتھا۔ان حالات میں فلمی ایکٹریسوں اور ایکٹروں کو اپنی پبلسٹی کرانے کیلئے فلمی جرائد ہی کاسہارا لینا پڑتا تھا۔فلمی جرائد کے سرورق پر رنگین بلاک اور طباعت کے اخراجات بھی یہ خواتین بخوشی اداکردیا کرتی تھیں۔

وہ ماحول آج کے ماحول سے یکسر مختلف بلکہ منفرد تھا۔

آج یہ حال ہے کہ ریڈیو‘ٹی وی فلم کی پبلسٹی کرتے رہتے تھے۔ہر اخبار میں شوبز نس کے بارے میں روزانہ خبریں اور تصاویر شائع ہوتی ہیں۔صحافی فلم ایکٹریسوں اور ایکٹروں کے انٹر ویو لینے اور تصاویر بنانے کیلئے ان کے پیچھے چکر لگاتے رہتے ہیں۔

انقلابات ہیں زمانے کے۔

ان دنوں میں فلمی ہیروئن اور ہیرو پبلسٹی حاصل کرنے کی خواہش میں صحافیوں کی خاطر مدارات اور دل جوئی میں لگے رہتے تھے۔پبلسٹی کی تو شوبزنس میں ہر شخص کو ضرورت ہوتی ہے۔اس کے بغیر وہ عوام میں روشناس نہیں ہو سکتے۔یہی وجہ ہے کہ فلم والے فلمی صحافیوں کی آؤ بھگت میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کرتے تھے۔

یہ اس دور کی ایک مدھم سی تصویر ہے تاکہ آج کے لوگ بھی اس زمانے کے انداز اور ماحول سے واقف ہو سکیں۔آج تو ہر طرف شوبز کا چرچہ ہے اور ٹیلی وژن سے لے کر جرائد اور معتبر اخبارات تک سبھی شوبزنس کے بارے میں خبروں اور تصاویرکی تلاش میں رہتے ہیں۔اب الٹی گنگا بہہ رہی ہے یا کہہ سکتے ہیں کہ پہلے زمانے میں الٹی گنگا بہتی تھی۔(جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر428 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...