شکاری۔۔۔ شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان... قسط نمبر 8

شکاری۔۔۔ شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان... قسط نمبر 8

شیر پانی پینے میں جلدی نہیں کرتا ..... خصوصاً ایسی حالت میں کہ اس کا شکار سامنے پڑا تھا ..... اور شکار بھی وہ جو اس کو بہت مرغوب ہوتا ہے ..... اس نے ٹھہر ٹھہر کر پانی پیا اور تقریباً بیس بائیس منٹ کے بعد اٹھ کر سور کی لاش کے پاس آیا ..... اور چند لمحوں بعد ہی اس کو کھانا شروع کردیا ..... شیر کی عادت ہے کہ دونوں ٹانگوں کے بیچ میں نرم پیٹ پر پنجے سے ایک چیرا لگاتا ہے شیر کا جیسا مشاق جراح..... سارا پیٹ سینے سے دم کے نیچے تک ایک ہی ضرب میں کھل جاتا ہے ..... پیٹ کی آلائش و نجس کا پیشتر حصہ تو ترنوالے کی طرح اس کے حلق سے فوراً ہی اتر گیا ..... پھر سینے کے جوف میں سر ڈال کر اس نے دل و جگر و پھیپھڑے وغیرہ نوش کیے اس کے بعد لاش کے پاس سے ہٹ کر مٹھ چاٹتا اور غالباً چہل قدمی کے طور پر کسی قدر ٹہلتا رہا پھر دو چار گھونٹ پانی پی کر دوبارہ لاش کے پاس آیا اور رانوں کا نرم گوشت نوچ نوچ کر کھانا شروع کیا ..... 

شکاری۔۔۔ شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان... قسط نمبر 7 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

یہ تماشا صبح تک جاری رہا ..... نہ سانبھر آیا ..... نہ اور کوئی جانور ..... بھلا ایسی حالت میں شیر اسی جگہ اتنا فساد کرنے کے بعد سور کو ہلاک کر چکا اور ضیافت بھی وہیں اڑا چکا اب کسی جانور کی مجال تھی کہ وہاں آتا.....

میرے لیے یہ مشاہدہ بہت دلچسپ اور نیا تھا ..... اس کے بعد تو جیسے جیسے مرے شکار کا دائرہ وسیع تر ہوتا گیا میں اس قسم کے کھیل کا مشاہدہ کرتا ہی رہا .....

آصف آباد کے جنگلوں میں دور قیب شیروں کی خوں آشام جنگ ..... ایسی حالت میں کہ وہ حسینہ جس کے لیے یہ جدال و قتال ہو رہا تھا قریب ہی بیٹھی بے نیاز انہ دونوں عاشقان زار کولہولہان ہوتے دیکھ رہی تھی ..... 

یہ سب اس وقت نظر آتا ہے جب شکاری سارا سارا دن ..... بلکہ ہفتوں ..... گھنے جنگلوں میں بسر کرے ..... اور اس طرح جنگل میں موجود ہو کہ اس کی موجودگی جنگل کی امن و سکون میں خارج نہ ہو ..... شکاری اسی وقت کامیاب ہوتا ہے جب وہ جنگل کے سکوت‘ ماحول اور لوازمات کے مماثل ہو جائے ..... جنگل کے ماحول میں گل مل جائے ..... جنگل کا ایک حصہ بن جائے ..... 

امریکہ کے بعض جنگلات خطرناک ہیں ..... ہر لمحہ ہوشیار رہنا پڑتا ہے ..... ! 

پاکستان میں گھنے جنگل تو نہیں ہوتے البتہ شمالی علاقوں میں چیل کے درخت بلند و بالا اور قریب ہوتے ہیں بعض جگہوں پر خاصے گھنے ہو جاتے ہیں ..... نتھیا گلی اور ایوبیہ کی طرف بھی بعض جگہوں پر جنگل گھنے ہیں لیکن وہاں قابل شکار جانور کوئی نہیں نہیں ..... چترال میں البتہ بہت شکار ہے ..... ہڑیال ..... چکارا..... غزال ..... اور مونال ..... گلگت اور سکردو کے علاقوں میں ہرن بھی ہوتے ہیں .....

پاکستان میں ..... ۱۹۵۱ء سے ۱۹۶۸ء تک میں نے مختلف علاقوں میں شکار کیا ..... اور مجھے ان سارے علاقوں سے جہاں جہاں میں گیا، عشق ہوگیا ..... خصوصاً جہلم ..... کوہستان نمک ..... اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ میں لاہور میں رہتا تھا اور جو چوا سیدن شاہ غریب والی ..... پنڈدادن خاں .....میر پور ..... ترکی ..... یہ سب علاقے لاہور سے قریب ترین شکار کے علاقے ہوتے تھے اور میں جب دل چاہتا بندوق لے کر کار میں بیٹھتا اور تین ساڑے تین گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد میں شکار گاہ میں ہوتا تھا ..... ایک دوبار محض تفریح کی غرض سے میں ٹرین سے بھی گیا ..... اور ایک بار ملک وال اور دوسری بار ہرن پور میں اتر کراونٹ پر سوار ہو کر پہاڑوں میں گھومتا پھرا ..... یہ علاقے قربت کی وجہ سے میری جولاں گاہ بن گئے تھے ..... امریکہ میں بھی میں نے اسی طرح اپنی جولاں گاہ بنا رکھی ہے .....

میں ٹلسا میں رہتا ہوں .....اوکلا ہو ما شکار کی جگہ نہیں ہے ..... یہاں ہرن کے سوا اور کوئی ایسا قابل شکار جانور نہیں ہوتا جس کے لیے میں جا سکوں ..... اوکلا ہو ما کی جنوب مغرب پہاڑیوں کے محفوظ علاقے میں الک (ELK) ہوتا ہے ..... اوکلا ہو ما کی جنوب مغربی پہاڑیوں کے محفوظ علاقے میں الک (ELK) ہوتا ہے ..... لیکن اس کے شکار کے لیے سال بہ سال قرعہ اندازی ہوتی ہے اور تین لائسنس جاری کیے جاتے ہیں ..... قرعہ اندازی میں شرکت کرنے والے کم از کم بیس تیس ہزار لوگ تو ضرور ہوتے ہیں ..... !

لیکن جس کو جنون صحرا نور دی ہو وہ اپنے ذوق کی تسکین کا کوئی نہ کوئی سامان ضرور کر لیتا ہے ..... چنانچہ میں کم ازکم جنگل نور دی کے لیے ہی شار گاہوں میں گشت کرتا رہتا ہوں ..... بعض علاقوں کے فاریسٹ رینجرز اور گیم وارڈن مجھے پہچان گئے ہیں ..... ویسے بھی اخبارات میں کبھی کبھی میرے انٹرویو شائع ہوتے ہیں ان میں تصویر بھی ہوتی ہے ..... اور جن لوگوں کو شکار سے دلچسپی ہے وہ مضمون پڑھتے ہیں تو تصویریں بھی دیکھتے اور مجھے پہنچان لیتے ہیں ..... 

ٹلسا کے اطراف میں کئی اچھی شکار گاہیں ہیں جن میں کافی تعداد میں ہرن ہیں ..... سال میں ایک دفعہ ..... نومبر کی اکیس تاریخ کورائفل کے ذریعے شکار دس روز کے لیے کھلتا ہے ..... الجن (ELGIN)کی شکار گاہ بہت مقبول ہے ..... وہاں تو ان دنوں میں میلے کی سی کیفیت ہوئی ہے ..... شکار گاہ کے پارکنگ لاٹ میں کم از کم چھ سات خیمے لگے ہوتے ہیں ..... ساتھ باربیکو ہور ہا ہوتا ہے ..... ریڈیو ہلکی آواز میں چل رہا ہوتا ہے اور چند لوگ عیش کر رہے ہوتے ہیں ..... اصل جنگل وہاں سے کوئی آدھے میل شروع ہوتا ہے اس لی کیمپنگ سائٹ میں شور و غل سے شکار پر فرق نہیں پڑتا ..... جو لوگ عیش کر رہے ہوتے ہیں انھیں کے چند ساتھی جنگل میں ہرن کی فکر کر رہے ہوتے ہیں ..... امریکہ کے ہرن بھی بہت چالاک اور انسانوں کی سرشت سے واقف ہوتے ہیں ..... ویسے تو شکار گاہوں میں ہی رہتے ہیں جہاں ان کے لیے گندم اور مکئی کی فصلیں تیار کی جاتی ہیں اور خوراک کی افراط ہوتی ہے ..... 

گرمیوں کا اختتام ہوتے ہوئے میری شکاری مصروفیات بڑھ جاتی ہیں ..... ان دنوں نہ میں مشاعروں میں شرکت کرتا ہوں..... نہ مذہبی جلسوں میں ..... مجھے ایک بار کولور ریڈو جانا ہوتا ہے جہاں مجھے ایک الک (ELK) اور ایک میول ڈیر (MULE DEER) کا لائسنس بہ آسانی ملتا ہے ..... الک کے لائسنس کی فیس ڈھائی سو ڈالر اور میول ڈیر کے لائسنس کی فیس ڈیڑھ سو ڈالر ہوتی ہے..... یہ شکار اکتوبر کی سات تاریخ سے چودہ اکتوبر تک کے لیے ایک بار کھلتا ہے ..... دوسری بار بیس تاریخ سے تیس تاریخ تک دس دن کے لیے نیومیکسیکو میں (ELK) اور ہرن کا شکار کھلتا ہے ..... میں وہاں بھی پہنچتا ہوں ..... اور دونوں کے لیے کوشش کرتا ہوں ..... پچھے سال یعنی ۱۹۹۴ء میں صرف ELKمار سکا اس میں اتنا وقت صرف ہوگیا کہ ہرن کے لیے نکلنے کا موقع نہیں ملا ..... صرف دو روز رہ گئے تھے اور میں اس قدر خستہ و ماندہ تھا کہ واپسی ہی بہتر معلوم ہوئی ..... 

نومبر میں مانیٹنا میں کالے ریچھ ELK موزMOOSE اور ہرن کا شکار کھلتا ہے ..... میں وہاں بھی ریچھ کے لیے پہنچتا ہوں..... تین سال سے ہر موسم میں کوشش کرنے کے باوجود مجھے مانیٹنا میں ریچھ کے شکار میں کامیابی نہیں ہوئی ..... میں نے صرف الاسکا میں ایک ریچھ شکار کیا ..... اس کی ایک نقصان رسیدہ تصویر اس کتاب میں شامل ہے تصویر میرے اثاثے میں آتشزدگی میں نذر آتش ہو کر خراب ہوگئی ..... لیکن اب بھی کچھ نہ کچھ نظر تو آہی جاتا ہے ..... کم از کم ایک یاد گار تو ہے ہی ..... 

کینڈا میں شکار کی کثرت ہے ..... لیکن دشواری یہ ہے کہ حکومت کینیڈا غیر ملکی شکاریوں سے خطیر رقم بطور فیس طلب کرتے ہیں جو ضرورت سے زیادہ ہوتی ہے ..... رقم اتنی دشوار نہیں اگر صرف اسی کی بات ہو تو ایک بار دو ہزار ڈالر دینا ہی پڑیں تو مضائقہ نہیں ..... لیکن انھوں نے قانون بنا دیا ہے کہ باہر سے آنے والے شکار کسی (OUTFITTER) کی خدمات بھی حاصل کرے ..... اور آؤٹ فٹر کی فیش کم از کم ہزار ڈالر تو ضرور ہے ..... اس طرح تقریباً چھ ہزار ڈالر تو یوں ہوتے ہیں ..... پھر دوسرے اخراجات ..... ٹرافی فیس ‘ لائسنس فیش وغیرہ ملا کر کوئی دس ہزار کا خرچ تو ہے ہی ..... میں جب الاسکا گیا تھا تو بہ آسانی اور نہایت ارزاں کی ریبو شکار کا لائسنس بھی مجھے مل گیا تھا اور میں نے دو عدد کیر یبو مارے ..... .... ان کے غول سینکڑوں پر مشتمل ہوتے ہیں ..... اور اس طرح ملے ہوئے بھاگتے ہیں اگر آنکھ بند کر کے بھی رائفل فائر کر دی جائے تو ایک نہ ایک کے گولی لگ جانا لازمی ہے نشانہ لینے کی ضرورت ہی نہیں ..... 

امریکہ میں قابل شکار جانوروں کی کثرت ہے ..... اور اس کی وجہ صرف وہ سخت قوانین ..... اور قوانین کے اجراء میں انتہائی غیر جانبدارانہ تعزیرات ہیں ..... خلاف قانون شکار کرنے والی کی گرفت بڑی سخت ..... امریکہ میں قانون کے ساتھ نہایت غیر معتصبانہ ‘ غیر جانبدارانہ ‘ اور کسی قسم کی رعایت کے بغیر ہوتا ہے ..... کوئی گرفت میں آجائے تو سفارش ‘ رسوخ یا رشوت کچھ نہیں چلتا ..... (جاری ہے )

شکاری۔۔۔ شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان... قسط نمبر 9 پڑھنے کیلئے یہاں

مزید : کتابیں /شکاری

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...