شریف خاندان کیخلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں واجد ضیاءکا بیان قلمبند

شریف خاندان کیخلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں واجد ضیاءکا بیان قلمبند

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )احتساب عدالت میں شریف خاندان کیخلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت میں پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاءکا بیان قلمبند کرلیا گیا۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیرنے شریف خاندان کیخلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت کی۔مسلم لیگ (ن)کے قائد نواز شریف احتساب عدالت میں پیش ہوئے جبکہ جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاءکا بیان قلمبند کرلیا گیا جس پرجرح کل کی جائے گی۔

واجد ضیاءنے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کوفنانشل اسٹیٹمنٹ اوردیگردستاویزات فراہم کرنے کا کہا، ہل میٹل سے متعلق مانگا گیا ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا۔جے آئی ٹی سربراہ نے کہا کہ حسین نوازاورہل میٹل کی بھیجی گئی رقوم پرمبنی ٹیبل تیارکیا، 8.9 ملین ڈالر حسین نوازاورہل میٹل میں 2010 سے 2015 میں بھیجے گئے، یہ رقم نوازشریف کوبھیجی گئی۔

استغاثہ کے گواہ نے بتایا کہ 88 فیصد منافع حسین نوازنے اس عرصہ میں نوازشریف کوبھجوایا، بطور تحفہ بھیجی گئی رقم منافع اورنقصان سے مطابقت نہیں رکھتی۔واجد ضیاءنے کہا کہ 2015 میں کمپنی کو1.5ملین ڈالرکا نقصان ہوا، 1.5ملین ڈالرکے نقصان کے باوجود2.1 ملین نوازشریف کوبھیجے گئے۔

جے آئی ٹی سربراہ نے بتایا کہ حسن نوازنے بیان میں کہا 2015میں 8 لاکھ پاو¿نڈ حسین نوازسے لئے، اس وقت کمپنی خسارے میں تھی، جےآئی ٹی اس نتیجہ پرپہنچی 8 فیصد منافع نوازشریف کوگیا۔

دوسری جانب احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں ملزمان کے بیان قلمبند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بعدازاں عدالت نے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت کل صبح 9:30 بجے تک ملتوی کردی گئی۔

احتساب عدالت میں گزشتہ روز سابق وزیراعظم نوازشریف کے اکاو¿نٹ کی ٹرانزکشنزکا اصل ریکارڈ اور جاری چیکس کی تفصیلات نجی بینک منیجرنورین شہزادی نے عدالت میں پیش کیں تھی۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...