’تم سب کو مار دیا جائے گا اگر۔۔۔‘ مسلمانوں کا وہ علاقہ جہاں لڑاکا طیاروں سے دھمکیوں سے بھرے پرچے گرادئیے گئے، کون سی جگہ ہے؟ جان کر ہر مسلمان اپنی خاموشی پر شرم سے پانی پانی ہوجائے

’تم سب کو مار دیا جائے گا اگر۔۔۔‘ مسلمانوں کا وہ علاقہ جہاں لڑاکا طیاروں سے ...
’تم سب کو مار دیا جائے گا اگر۔۔۔‘ مسلمانوں کا وہ علاقہ جہاں لڑاکا طیاروں سے دھمکیوں سے بھرے پرچے گرادئیے گئے، کون سی جگہ ہے؟ جان کر ہر مسلمان اپنی خاموشی پر شرم سے پانی پانی ہوجائے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

تل ابیب(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ کی طرف سے اسرائیل میں واقع اپنا سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرنے کے بعد فلسطینی سراپا احتجاج ہیں اور ان پر امن مظاہرین پر اسرائیلی فوج گولیوں اور بموں کی بوچھاڑ کر رہی ہے جس میں اب تک 60سے زائد فلسطینی شہید اور سینکڑوں شدید زخمی ہو چکے ہیں۔ اب اسرائیلی فوج نے لڑاکا طیاروں سے فلسطین کے علاقے میں پمفلٹ گرا ئے ہیں، جن پر ایسی تحریر لکھی ہے کہ جان کر ہرمسلمان اپنی خاموشی پر شرم سے پانی پانی ہو جائے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں سے گرائے گئے پمفلٹس پر در ج تحریر میں فلسطینیوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر انہوں نے حماس کی قیادت کی ہدایات پر عمل کیا اور سرحدی باڑ کے قریب بھی آئے تو ان سب کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے گا۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز 2014ءکی اسرائیل فلسطین جنگ کے بعد بدترین دن تھا جس میں فلسطینیوں کی سب سے زیادہ شہادتیں ہوئیں۔ تمام دن فلسطینیوں کی طرف سے امریکہ کا سفارتخانہ مقبوضہ بیت المقدس میں منتقل کیے جانے کے خلاف ٹائر جلا کر احتجاج کیا گیا۔ اس دوران جگہ جگہ ان کا اسرائیلی فوج سے سامنا ہوا۔ ان نہتے فلسطینیوں نے غاصب فوج پر پتھراﺅ کیا جبکہ اس کی طرف سے ان پر سیدھی گولیاں برسائی گئیں۔ اسرائیل کے بارڈر پر دیگر مظاہرین کے ساتھ موجود حماس کے رہنما اسماعیل رضوان کا کہنا تھا کہ ”ہم قابض اسرائیل سے صفر فاصلے پر موجود ہیں اور فلسطینیوں کا حق حاصل کیے بغیر یہاں سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اپنا سفارتخانہ یروشلم منتقل کرنے کا اقدام امریکی انتظامیہ کے لیے خوفناک حادثہ ثابت ہو گااور تاریخ میں امریکی عوام اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر منائیں گے۔وہ فلسطین پر قبضے اور فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم میں اسرائیل کے شراکت دار ہیں۔“

مزید : بین الاقوامی