شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ صوفی محمد سرور کو ہزاروں عقیدت مندوں کی موجودگی میں سپرد خاک کر دیا گیا ،شہباز شریف،فضل الرحمن ،سراج الحق ،طاہر اشرفی اور احمد لدھیانوی سمیت دیگر کا اظہار تعزیت

شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ صوفی محمد سرور کو ہزاروں عقیدت مندوں کی موجودگی میں ...
شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ صوفی محمد سرور کو ہزاروں عقیدت مندوں کی موجودگی میں سپرد خاک کر دیا گیا ،شہباز شریف،فضل الرحمن ،سراج الحق ،طاہر اشرفی اور احمد لدھیانوی سمیت دیگر کا اظہار تعزیت

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ملک کے معروف دینی ادارے جامعہ اشرفیہ  مسلم ٹاؤن لاہور کے شیخ الحدیث ،مشہور جید عالم دین اور صوفی بزرگ حضرت مولانا صوفی محمد سرورؒ کو ہزاروں عقیدت مندوں کی موجودگی میں سپرد خاک کر دیا گیا ،ان کی نماز جنازہ میں ملک بھر سے ہزاروں علما ،انکے شاگردوں ،دینی جماعتوں کے رہنماؤں سمیت شہر یان لاہور نے بڑی تعداد میں شرکت کی جبکہ نماز جنازہ کے موقع پر کئی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے اور علما سمیت سینکڑوں افراد دھاڑیں مار کر روتے دیکھے گئے ،وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف،مولانا فضل الرحمن ،مولانا سمیع الحق ،مولانا محمد احمد لدھیانوی،علامہ طاہر محمو د اشرفی ،سینیٹر سراج الحق ،سینیٹر ساجد میر ،مولانا طارق جمیل ،مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق سکندر ،مولانا قاری محمد حنیف جالندھری سمیت دیگر کا صوفی محمد سرور کے انتقال پر رنج و غم کا اظہار ۔

تفصیلات کے مطابق معروف دینی ادارے جامعہ اشرفیہ لاہور کے شیخ الحدیث ،ملک کے مشہور عالم دین ،صوفی بزرگ اور تمام مکاتب فکر میں انتہائی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جانے والے جید عالم دین حضرت مولانا صوفی محمد سرورؒ  85سال کی عمر میں انتقال کر گئے ،ان کی وفات کی خبر منٹوں میں ہی پورے ملک میں پھیل اور دینی حلقوں کو سوگوار کر گئی ،صوفی محمد سرورؒ علم و عمل ،عجز و انکساری اور سادگی کا چلتا پھرتا نمونہ تھے، انکے دروس سے ہزاروں افراد نے فیض پایا اور  اپنی زندگی میں تبدیلی لے کر آئے،ان کے شاگردوں کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے جو اندرون و بیرون ملک دین اسلام کی تبلیغ میں مصروف ہیں  ۔مولانا صوفی محمد سرورؒ  7 دسمبر 1933 کو پیدا ہوئے جبکہ میٹرک کرنے کے بعد انہوں نے دینی تعلیم بھی جامعہ اشرفیہ سے ہی حاصل کی ۔مولانا صوفی محمد سرورؒ  نے 1954ء میں جامعہ اشرفیہ میں داخل ہوئے جبکہ تعلیمی فراغت کے بعد جامعہ اشرفیہ نیلا گنبد میں تدریس کا عمل شروع کر دیا ،انہوں نے تین سال خیر المدارس ملتان اور دس سال مسلسل دارالعلوم کبیروالہ میں بھی درس و تدریس کے فرائض سرانجام دیئے، حضرت صوفی محمد سرورؒ  سلسلہ تصوف میں حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ صاحب نوراللہ مرقدہ کے خلفا ء میں اعلی مرتبہ پر فائز تھے، آپ کی اصلاحی مجالس اور مواعظ حسنہ سے ہزاروں لوگ مستفیدہوئے اور ان کی زندگیاں سنت کے مطابق ڈھل گئیں،وہ جامعہ اشرفیہ میں گذشتہ 30سال سے شیخ الحدیث کی مسند پر فائز تھے ،ان کے تین صاحبزادے شفیق الرحمن ،عتیق الرحمن اور عبد الرحمن کا شمار بھی مشہور علماء میں ہوتا ہے ۔مولانا صوفی محمد سرورؒ کا نماز جنازہ جامعہ اشرفیہ مسلم ٹاؤن  میں ادا کیا گیا جسمیں ہزاروں علماء ،فضلا ،دینی جماعتوں کے رہنماؤں اور شہریان لاہور نے بڑی تعداد میں شرکت کی بعد ازاں انہیں ہزاروں عقیدت مندوں کی موجودگی میں سپرد خاک کر دیا گیا ۔

شیخ الحدیث صوفی محمد سرور کے انتقال پر متحدہ مجلس عمل کے سربراہ مولانا فضل الرحمن ،مولانا سمیع الحق ،مولانا محمد احمد لدھیانوی،علامہ طاہر محمو د اشرفی ،مولانا طارق جمیل ،مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق سکندر ،مولانا قاری محمد حنیف جالندھری،مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی ،مفتی محمد تقی عثمانی ،امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق ، شیخ الحدیث مولانا عبد المالک ،مولانا حافظ فضل الرحیم ،حافظ اسعد عبید ،مولانا اسد اللہ فاروق ،مولانا اورنگزیب فاروقی،مولانا محمد معاویہ اعظم طارق ،مولانا عبد الرؤف فاروقی ،مولانا عبد العزیز ، مولانا قاضی عبد الرشید ،مولانا زاہد الراشدی ، مولانا مفتی کفایت اللہ سمیت دیگر علما نے گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوفی محمد سرور نے اپنی ساری زندگی درس و تدریس اور اسلام کے حقیقی پیغام کو عام کرتے ہوئے گذار دی ،ان کہ تدریس اور دروس کا طریقہ اتنا دلنشین اور عام فہم ہوتا تھا کہ قرآن و سنت کی روشنی میں ان کی کہی گئی باتیں سننے والے کے دل و دماغ میں پیوست ہو جاتی تھیں ،وہ نمود و نمائش ،غرور و تکبر اور جھوٹی شان و شوکت سے کوسوں دور اور علم عمل کا وہ تابندہ ستارا تھے کہ ان کی کمی تادیر محسوس ہوتی رہے گی ۔دوسری طرف وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے بھی جامعہ اشرفیہ کے شیخ الحدیث مولانا صوفی سرور کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اپنے تعزیتی پیغام میں سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی روح کو جوار رحمت میں جگہ دے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

مزید : قومی