سعودی عرب میں سائنسدانوں کو 85ہزار سال پرانی ایک ایسی چیز مل گئی کہ دیکھ کر ہر کسی کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں کیونکہ۔۔۔

سعودی عرب میں سائنسدانوں کو 85ہزار سال پرانی ایک ایسی چیز مل گئی کہ دیکھ کر ہر ...
سعودی عرب میں سائنسدانوں کو 85ہزار سال پرانی ایک ایسی چیز مل گئی کہ دیکھ کر ہر کسی کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں کیونکہ۔۔۔

  

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) ہزاروں سال قبل کے دور میں انسان کس طرح براعظم افریقہ سے دنیا کے دیگر خطوں کی جانب منتقل ہوا، ماہرین آثار قدیمہ اور علم بشیریات کے ماہرین کے لئے یہ موضوع بے حد اہمیت کا حامل ہے۔ اس ضمن میں ایک بہت ہی اہم دریافت سعودی عرب میں سامنے آئی ہے جہاں انسانی پیروں کے 85 ہزار سال پرانے نقش ملے ہیں جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ قدیم افریقہ کے لوگوں نے غالباً صحرائے سینائی کے راستے سعودی عرب کے صحرائے نفود کا رخ کیا۔

گلف نیوز کے مطابق یہ نقوش صحرائے نفود کی ایک جھیل کے کنارے چٹانوں پر نقش پائے گئے ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ جگہ کبھی ہرے بھرے جنگلات پر مشتمل تھی جہاں پانی اور جانوروں کی فراوانی تھی۔ یہ نقوش جھیل کے کنارے سے مختلف اطراف میں جاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ہزاروں سال قدیم کے دور میں جب انسان جنگلی جانوروں کا شکار کیا کرتا تھا غالباً یہ نقوش اس دور کے ہیں اور شاید اس جھیل سے وہ لوگ مچھلی بھی پکڑتے ہوں گے۔

ماہرین آثار قدیمہ نے اسے ایک نایاب دریافت قرار دیا ہے جو جزیرہ نما عرب میں انسانوں کی آمد کے متعلق نئی معلومات فراہم کرتی ہے۔ یہ دریافت سعودی عرب کی تاریخی اہمیت اور اس کی ثقافتی گہرائی کی عکاس بھی ہے اور ظاہر کرتی ہے کہ انسانی تہذیب کے آغاز میں سعودی سرزمین کا بیش قیمت حصہ ہے۔

آثار قدیمہ ، تاریخ انسانی اور علم بشریات کے میدان کی یہ اہم دریافت سعودی جیولوجیکل سروے، ایس سی ٹی ایچ، کنگ سعود یونیورسٹی، میکس پلانک فاﺅنڈیشن فار ہیومن ہسٹری، آکسفورڈ یونیورسٹی، کیمبرج یونیورسٹی، آسٹریلیا نیشنل اور یونیورسٹی آف نیو ساﺅتھ ویلز آسٹریلیا کے سائنسدانوں کی مشترکہ ٹیم نے کی ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /عرب دنیا