جیو نیوز کی جانب سے پروگرام ’کیپٹل ٹاک‘کو سنسر کیے جانے پر حامد میر پھٹ پڑے،وہ بات کہہ دی جس کی کسی کو توقع نہ تھی ،نیا ہنگامہ برپا ہو گیا

جیو نیوز کی جانب سے پروگرام ’کیپٹل ٹاک‘کو سنسر کیے جانے پر حامد میر پھٹ ...
جیو نیوز کی جانب سے پروگرام ’کیپٹل ٹاک‘کو سنسر کیے جانے پر حامد میر پھٹ پڑے،وہ بات کہہ دی جس کی کسی کو توقع نہ تھی ،نیا ہنگامہ برپا ہو گیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )پیمرا کی جانب سے سابق وزیراعظم نواز شریف کی تقاریر کے فوج اورعدلیہ سے متعلق حصوں کو سنسر کرنے کے احکامات کے بعد نیوز چینلز میں سنسر شپ کا سلسلہ چل نکلا ہے ،گزشتہ روز قومی سلامتی کمیٹی کی میٹنگ کے بعد پی ٹی وی نے وزیراعظم کی پریس کانفرنس نشر نہیں کی ،آ ج جاوید ہاشمی کی میڈ یا ٹاک کو بھی نشر نہیں کیا گیا ۔سینئر صحافی اور اینکر پرسن حامد میر کے پروگرام کو بھی سنسر کردیا گیا جس پر انہوں نے اپنے خدشات کا اظہار کیا ۔ان کا کہنا ہے کہ سنسر شپ کی یہ غیر اعلانیہ پالیسی نا قابل قبول ہے ۔

مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر حامد میر نے اپنے پروگرام ’کیپٹل ٹاک‘کا ایک حصہ شیئر کیا جسے جیو نیوز نے سنسر کردیا تھا ۔انہوں نے کہا کہ اپنے پروگرام میں میں نے لیگی رہنما مصدق ملک سے ہنستے ہوئے کہا کہ اگر انہیں میری بات اچھی نہیں لگی تو میں معذرت کرتا ہوں ،بدقسمتی سے جیو نیوز نے یہ حصہ سنسر کردیا ،نیشنل سیکیورٹی کے نام پر یہ سنسر پالیسی مجھے سمجھ نہیں آرہی ۔

سنسر شدہ حصے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس حصے میں فوج اور عدلیہ سے متعلق کوئی بات بھی نہیں تھی ،میں مصدق ملک اور عارف علوی سے ہنستے ہوئے بات کر رہا تھا ۔ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مصدق ملک گلہ کرتے ہوئے حامد میر سے کہہ رہے ہیں عارف علوی خوشبو دار ہیں اور ہم بدبو دار ہیں،قائد اعظم اور عمران خان کی جماعت ایک ہے اور ہم بدبو دار ہیں ۔حامد میر نے کہاکہ میں نے صرف یہ یاد دلا یا ہے کہ فلسطین کی حمایت تحریک پاکستان کا حصہ تھی لیکن اگر آپ کے جذبات میرے بیان سے مجروح ہوئے تو میں معذرت چاہتا ہوں ۔

ان کا کہنا تھا کہ سنسر شپ کی یہ پالیسی نا قابل قبول ہے ۔

مزید : قومی