ٹیکس نظام کاروباردوست بنانے کیلئے چینی ڈل کو اپنایا جائے‘پی سی جے سی سی آئی

ٹیکس نظام کاروباردوست بنانے کیلئے چینی ڈل کو اپنایا جائے‘پی سی جے سی سی آئی

لاہور(نیوزرپوٹر)پاکستان میں ٹیکسوں کے نظام کو بزنس فرینڈلی بنانے کیلئے چین کے ٹیکسیشن ماڈل کو اپنایا جائے جس کی بنیاد ریگولیٹری دباؤ کی بجائے بزنس گروتھ پر رکھی گئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار پاک چین جوائینٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شاہ فیصل آفریدی نے آج یہاں چیمبر کی مجلس عاملہ کے اراکین کی مشاورت سے ٹیکس ریفارمز کی تجاویز مرتب کرتے ہوئے کیا۔ مشاورتی اجلاس میں پاک چین جوائینٹ چیمبر کے سینئر نائب صدر احمد حسنین اور سیکرٹری جنرل صلاح الدین حنیف بھی موجود تھے۔شاہ فیصل آفریدی نے کہا کہ پاکستان میں ٹیکسوں کے نظام میں انقلابی اصلاحات کی ضرورت ہے

جس میں انتظامی اصلاحات کے ساتھ ساتھ ٹیکس ریکوری کے نظام کو بھی تبدیل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس سلسلے میں چین کے ٹیکسیشن سسٹم کے بارے میں ایک پرزینٹیشن بھی پیش کی اور کہا کہ چین میں ٹیکسوں اور کاروبار کے درمیان ایک منصفانہ توازن برقرار رکھا گیا ہے اور ہمیں بھی ٹیکسوں کے ایسے نظام کی ضرورت ہے جس میں سرمایہ کار خائف نہ ہوں بلکہ انہیں ایسا انویسٹمنٹ فرینڈلی ماحول میسر ہو کہ وہ اپنے کاروبار کی گروتھ میں سے خو شی خوشی ٹیکس ادا کر سکیں۔اس موقع پر پاک چین جوائینٹ چیمبر کے سینئر نائب صدر احمد حسنین نے بتا یا کہ پاکستان میں مجموعی آبادی کا صرف 0.3 فیصدی حصہ انکم ٹیکس ادا کر تا ہے اور یہ شرح دنیا میں سب سے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں 7 ملین افراد انکم ٹیکس ادا کرنے کے قابل ہیں جبکہ عملی طور پر صرف 0.5 ملین افراد ٹیکس ادا کرتے ہیں جس کا قصوروار ٹیکسوں کا سخت اور کرپٹ نظام ہے جو کہ قابل ٹیکس افراد کو ٹیکسوں کی ترغیب کی بجائے ہراساں کر کے کرپشن کی طرف مائل کر تا ہے جس میں ریگولیٹری افسران کو ٹیکس دہندگان کے استحصال کا بھرپور موقع ملتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو چین کے ٹیکسیشن سسٹم کا مطالعہ کرکے نئی اصلاحات تشکیل دینی چاہیے کیونکہ چین کا ٹیکس ماڈل دنیا کا ایک کامیاب ترین ٹیکس سسٹم ہے۔پاک چین جوائینٹ چیمبر کے سیکرٹری جنرل صلاح الدین حنیف نے ایک پروفیشنل کی حیثیت سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چین نے ایک سوشلسٹ ریاست کے طور پر اپنے عوام کو صحت، تعلیم، بڑھاپے، روزگار اور ہاؤسنگ کے حوالے سے بہترین سہولتیں فراہم کی ہیں اور یہ تمام تر سہولتیں ٹیکسوں سے حا صل شدہ آمدن ہی کی مدد سے فراہم کی گئی ہیں،مگر ٹیکسوں کی آمدن حاصل کرنے کیلئے چین میں سب سے مثالی ٹیکس”ویلیو ایڈڈ ٹیکس“ ہے جس کی بدولت چین کے سروس سیکٹر کو ترقی ملی اور جس نے چین کو دنیا کی فیکٹری کے درجے پر پہنچا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین میں ویلیو ایڈیشن ٹیکس سمیت تمام ٹیکسوں کی بنیا د گروتھ پر ہے۔ پاکستانی حکومت کو بھی ٹیکسوں کی بنیاد بزنس گروتھ پر رکھنی چاہیے۔کاروبار بڑھیں پھولیں گے تو ٹیکس خود بخود بڑھ جائیں گے۔اس موقع پر پاک چین جوائینٹ چیمبر کے اراکین مجلس عاملہ نے اس امر پر اتفاق کیا کہ قابل ٹیکس افراد سے براہ راسٹ ٹیکسوں کی وصولی کے نظام کر بہتر بنا کر غریب عوام پربلواسطہ ٹیکسوں کی بوجھ کو کم کیاجانا چاہیے۔

مزید : کامرس