حکومت آئی ایم ایف معاہدہ پارلیمینٹ میں لائے

حکومت آئی ایم ایف معاہدہ پارلیمینٹ میں لائے

قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے مطالبہ کیا ہے کہ آئی ایم ایف معاہدہ ایوان میں لایا جائے، مسلم لیگ (ن) کے رکن احسن اقبال نے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف معاہدے اور گوادر حملے کے بارے میں ایوان کو بریفننگ دے۔ پیپلز پارٹی کے رکن راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ گوادر میں دہشت گردی کے واقعہ پر وزیراعظم اور وزیر داخلہ قومی اسمبلی کو اعتماد میں لیں، جبکہ حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ملکی مفاد پر سودے بازی نہیں کی جائے گی، سینیٹ میں بھی اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سینیٹروں نے یہ سوال اٹھایا کہ پیکیج کے بدلے کیا سیاسی قیمت ادا کرنا ہوگی۔ رضا ربانی نے پوچھا کہ کیا پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں ایران کے خلاف کوئی کردار ادا کرنا پڑے گا۔ جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پیکیج کو سیل آؤٹ پیکیج قرار دے کر ہدف تنقید بنایا۔ ایوان سے باہر بھی آئی ایم ایف معاہدے کو ہدف تنقید بنایا جارہا ہے۔

اسلام آباد میں آئی ایم ایف کے ساتھ جو معاہدہ طے ہوا ہے اس کا پورا متن تو سامنے نہیں آیا تاہم جو باتیں معلوم ہوئی ہیں ان کے مطابق پاکستان نے بجلی کی قیمتوں میں 20%اضافے پر اتفاق کیا ہے البتہ 300یونٹ استعمال کرنے والوں پر اس اضافے کا اطلاق نہیں ہوگا۔ ان صارفین کو لائف لائن صارفین کہا جاتا ہے، لیکن گرمیوں کے شدید موسم میں پنکھے تو مسلسل چلتے ہیں اس لئے انتہائی غریب صارفین بھی تین سو کی حد عبور کرجاتے ہیں، یوں یہ کہا جاسکتا ہے کہ بجلی کے نرخوں میں اضافے سے غریب بھی متاثر ہوں گے، البتہ حکومت کے وزیروں، مشیروں، حامیوں اور مداحوں کا خیال اب بھی یہ ہے کہ بجلی کے نرخ جتنے بھی بڑھ جائیں غریب بہرحال متاثر نہیں ہوں گے۔ اسی طرح وزیراعظم نے کہا ہے کہ بجٹ میں جو نئے ٹیکس لگنے والے ہیں ان سے غریب متاثر نہیں ہوں گے۔ ایک عام اندازے کے مطابق موجودہ معاشی حالات کی وجہ سے مزید 80لاکھ افراد خط غربت سے نیچے چلے جائیں گے۔ موجودہ حکومت کے آنے سے پہلے جن غربا کی آمدنیاں کم تھیں وہ اگر آج بے روزگار نہیں ہوگئے تو بھی ان کی قوت خرید میں کمی نے انہیں خط غربت سے نیچے دھکیل دیا ہے۔ بجلی کی قیمت میں اضافے کا اثر بھی محدود نہیں ہوگا کیونکہ اس سے چھوٹی موٹی صنعتیں بھی متاثر ہوں گی، عام دکاندار بھی اس کی زد میں آئے گا۔ اس لئے خدشہ یہی ہے کہ نئے بجٹ کے بعد مہنگائی کا ایک نیا چکر، جھکڑ کی طرح چلے گا جو ملک کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک مہنگائی کا سونامی لے کر آئے گا۔ اگر اس وقت کسی کو ایسے کسی طوفان کے بارے میں شک ہے تو وہ بہت جلد یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھے گا۔

آئی ایم ایف کے ساتھ روپیہ مارکیٹ میں کھلا چھوڑنے پر بھی اتفاق ہوا ہے، شاید اسی کا نتیجہ یہ ہے کہ گزشتہ روز بھی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت ایک روپیہ مزید گر گئی۔ اس کا آسان اور سادہ مطلب یہ ہوا کہ 88ارب ڈالر کے موجودہ غیر ملکی قرضے اسی شرح سے بڑھ گئے، قرضہ پاکستان کی معیشت کو دو طریقوں سے متاثر کر رہا ہے ایک تو قرضوں پر سود کی ادائیگی اور پھر روپے کی قیمت میں کمی کے باعث قرض کے بوجھ میں اضافہ، غالباً آئی ایم ایف کے ماہرین نے یہ شرط بھی معاہدے پر اسی لئے رکھی کہ ڈالر کی قیمت بڑھنے سے قرضہ بھی اپنے آپ بڑھتا رہے۔ اس وقت 143روپے سے بھی زیادہ میں ایک ڈالر کھلی مارکیٹ میں دستیاب ہے اور دیکھتی آنکھوں یہ 150کی حد کو جلدی چھولے گا اور کچھ عجب نہیں یہ حد بھی عبور کرلے۔ اس وقت دنیا میں کم ہی ملک ایسے ہوں گے جن کی کرنسی کی ویلیو اتنی کم ہوئی ہو، ایران اس سے اس لئے مستثنیٰ ہے کہ وہ طویل عرصے سے اقتصادی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے۔ پہلے اقوام متحدہ نے پابندیاں لگائے رکھیں، پھر نیوکلیئر ڈیل کے بعد یہ پابندیاں تھوڑے عرصے کے لئے اٹھیں تو صدر ٹرمپ نے اس ڈیل سے علیحدگی کا اعلان کردیا جب سے امریکہ اس سے علیحدہ ہوا ہے ایران دوبارہ پابندیوں کی زد میں ہے، اور بہت سے بین الاقوامی معاہدے بھی اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔ کئی ملک تو ڈر کے مارے ایران سے بزنس نہیں کرتے کہ ان پر بھی پابندیاں نہ لگ جائیں، یہ پابندیاں ایران کی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ بن گئی ہیں۔ البتہ ایرانی تیل اور گیس نے اسے قدرے سہارا دیا ہوا ہے۔

جہاں تک اپوزیشن کے اس مطالبے کا تعلق ہے کہ آئی ایم ایف معاہدہ قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے تو اصولی طور پر اس مطالبے کی مخالفت نہیں کی جاسکتی، یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ ماضی میں ایسا نہیں ہوتا رہا، لیکن موجودہ حکومت تو ماضی کے حکمرانوں کے ہر وقت لتے لیتی رہتی ہے، اگر اس نے ماضی کے حکمرانوں کاسا طرز عمل ہی اپنانا ہے تو پھر نیا کیا ہوا؟ کئی وفاقی وزرا معاہدے سے پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ حکومت کو معاہدہ پارلیمینٹ میں لانے پر اعتراض نہیں ہوگا تو پھر اس معاملے میں تاخیر کرنے کی بجائے جتنی جلدی ممکن ہو معاہدے کی تفصیلات اسمبلی میں پیش کر دی جائیں۔ ویسے تو قومی اہمیت کے ہر مسئلے پر بحث کے لئے پارلیمینٹ ہی بہترین فورم ہے۔ حکومت اگر سرکاری امور میں اپوزیشن کو شریک کرے تو اس کا نتیجہ بھی مثبت ہی نکلتا ہے، کیونکہ اس طرح بالواسطہ طور پر پوری قوم کسی بھی معاملے میں شریک ہو جاتی ہے اور اس کے عیب و ثواب سے آگاہ ہو جاتی ہے۔ آئی ایم ایف قرض کا معاملہ تو یہ ہے کہ اس سے زندگی کے ہر شعبے نے متاثر ہونا ہے۔ اگر اس کی وجہ سے روپیہ گرتا ہے تو مجموعی طور پر اس کا اثر وسیع تر ہوگا۔ اس لئے جس معاملے کا تعلق عوام سے ہو، وہ بہرحال عوامی نمائندوں کے سامنے پیش کرنا ضروری ہے۔ اب تک حکومتوں کا طرز عمل اس سلسلے میں زیادہ حوصلہ افزا نہیں رہا اور ماضی کی حکومتیں بھی اہم امور کے بارے میں عوام کو اندھیرے میں رکھتی رہی ہیں۔ موجودہ حکومت تو ہر معاملے میں شفافیت کی علمبردار ہے اس لئے اس سے قوی امید ہے کہ ایک ایسے معاملے کو پارلیمینٹ میں لائے گی جو نہ صرف سخت نکتہ چینی کا ہدف بنا ہوا ہے بلکہ اس کے دور رس اثرات قوم و ملک پر مرتب ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ سٹاک مارکیٹ نے بری طرح ری ایکٹ کیا ہے۔ اس لئے یہ جلد از جلد پارلیمینٹ میں پیش کردیا جائے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو اس پر تنقید کا دائرہ نہ صرف پھیلتا رہے گا بلکہ ایسی باتیں بھی کی جاتی رہیں گی جن سے بالآخر بات کا بنتگڑ بھی بن جاتا ہے۔ اس سب سے بچنے کے لئے بہتر یہی ہے کہ آئی ایم ایف معاہدہ پارلیمینٹ میں پیش کردیا جائے۔

مزید : رائے /اداریہ