حکومت ادویات کی قیمتیں کم کرانے میں ناکام

حکومت ادویات کی قیمتیں کم کرانے میں ناکام

سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے اجلاس میں سیکرٹری ہیلتھ نے انکشاف کیا کہ دوا ساز کمپنیوں نے 395ادویات کی قیمتوں میں کیا گیا اضافہ واپس لینے سے انکار کر دیا اور سندھ ہائیکورٹ سے حکم امتناعی بھی حاصل کر لیا ہے۔ سیکرٹری صحت نے تفصیل سے ادویات ساز کمپنیوں اور سرکاری اداروں کے درمیان مذاکرات سے آگاہ کیا اور بتایا کہ نرخوں میں پانچ سے پندرہ فیصد تک اضافے کی منظوری دی گئی لیکن رپورٹس کے مطابق کمپنیوں نے زیادہ اضافہ کیا۔وفاقی سیکرٹری صحت کے مطابق حکومت زیادہ اضافی قیمت واپس کرائے گی اور اس کے لئے باقاعدہ قانونی چارہ جوئی بھی کی جائے گی۔یہ تعجب انگیز حقیقت ہے کہ ادویات ساز اداروں نے یک طرفہ طور پر ادویات کے نرخوں میں پچاس سے دو سو فیصد تک اضافہ کر لیا، بازار میں دکانوں پر جلد ہی ادویات مہنگی بکنے لگیں۔ عوامی احتجاج کی میڈیا رپورٹوں کے بعد وزیراعظم نے نوٹس لے کر اضافہ واپس کرانے کی ہدایت کی، تاہم ابھی تک محکمہ صحت کسی بھی دور کے نرخ، کم کرانے میں کامیاب نہیں ہو سکا کہ جن ادویات کے نرخوں میں کمی کا اعلان کیا گیا، بازار میں عملی طورپر ایسا نہیں ہوا، عوام بدستور ادویات مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہیں کہ صحت کا معاملہ ہے۔ اس سلسلے میں افسوسناک امر یہ ہے کہ ابتدا میں وزیراعظم کو یہ رپورٹ دے کر مطمئن کیا گیا کہ ادویات کی قیمتوں میں کمی کرا لی گئی ہے، مسئلہ صرف 395ادویات کا ہے، تاہم بازار میں ایسا نہیں ہوا، اب مجلس قائمہ برائے صحت (سینٹ) میں بالکل مختلف رپورٹ پیش کی گئی اور تمام مراحل سے آگاہ کیا گیا کہ کس مرحلے پر 15سے 25فیصد تک اجازت دی گئی اور ادویات ساز اداروں نے از خود زیادہ قیمتیں بڑھا لیں جو غیر قانونی ہے اور ان کے خلاف کارروائی ہو گی۔ مجلس قائمہ نے مزید افسروں کو بھی طلب کیا ہے۔وزیراعظم عمران خان کو اب نئی صورت حال کا نوٹس لینا چاہیے کہ ان کے احکام پر عمل درآمد کیوں نہیں ہوتا۔

مزید : رائے /اداریہ