ایک نیکی انسانیت کے نام

ایک نیکی انسانیت کے نام
ایک نیکی انسانیت کے نام

  

آپ کے بہتر علم میں ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کے رفقائے کار نے دن رات اور انتھک محنت کرکے پاکستان کوایٹمی و میزائل صلاحیت دی تاکہ وطن عزیز کے خلاف کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جا سکے۔ ڈاکٹر صاحب اکثر ذاتی دوستوں کی محفل میں یہ کہتے رہتے ہیں کہ میں نے پروردگار کی عطا کی ہوئی صلاحیتوں کا صرف 20 فیصد استعمال کیا جبکہ بقیہ 80فیصد میں اپنے ساتھ قبر میں لے جاؤں گا جو میرے لیے ایک المیہ ہے کہ میں اپنی قوم کے لئے بہت کچھ کرنا چاہتا تھا مگر بعض وجوہات کی بنا پر ایسا نہ ہو سکا اور میری یہ خواہش حسرت میں بدل گئی جس کی خلش میرے دل میں آخری سانس تک رہے گی۔ایسے میں باری تعالیٰ نے میرے دل و دماغ میں وطن عزیز اور اپنے بہن بھائیوں کی خدمت کا ایک اچھوتا خیال عطا کیا اور میں نے فلاحی منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچانے شروع کردئیے۔متعدد ہسپتال بنائے، مساجد تعمیر کیں اور اس طرح میں نے اپنے ہم وطنوں کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھا اور اللہ تعالی نے اس مقصدمیں مجھے کامیابی عطا فرمائی۔ اس حوالے سے ڈاکٹر صاحب کا سب سے بڑا منصوبہ ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال ہے جو مینار پاکستان کے قریب مولانا احمد علی روڈ لاہور پر واقع ہے جہاں 2015ء سے غریب، نادار اور مستحق مریضوں کا مفت علاج کیا جارہا ہے اور اب تک تین لاکھ پچاس ہزار سے زائد مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے اور جاری رہے گا۔

یہاں اس امر کا اظہار بھی بے جانہ ہوگا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی آلودگی، ملاوٹ، خالص اشیائے خورونوش کا فقدان، آلودہ پانی اور ہوا اور ایسی ہی دیگر متعدد اشیاء کی بدولت ملک میں گردوں کے امراض میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا اور اس مرض میں تیزی سے اضافہ ہونے کے باعث ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال میں ایک سٹیٹ آف دی آرٹ ڈائیلسز سنٹر بھی قائم کیا گیا ہے جس کے پیش نظر یہ خیال تھا کہ یہ ایک مہنگا علاج ہے اور عام آدمی کی دسترس سے باہر ہے۔ اس ڈائیلسز سنٹر میں لیبارٹری ٹیسٹ بھی مفت ہوتے ہیں اورمفت ادویات کے ساتھ ساتھ ڈائیلسز بھی مفت ہی کئے جاتے ہیں۔ ا س سے پہلے کہ اس حوالے سے تفصیل بتائی جائے ہسپتال کے قیام اور اس کے اغراض و مقاصد بتاتا چلوں۔ میرایہ پختہ ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہر کام میں حکمت کارفرما ہوتی ہے۔ ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال میں مشیت ایزدی کی ہی کرم فرمائی کا نتیجہ ہے کہ 2012ء کے اوائل میں اس ہسپتال کے قیام کا منصوبہ بنایا گیا۔

جب ہسپتال کے لیے جگہ کی تلاش شروع کی تو مختلف مقامات پر زمین دینے کی بہت سی آفرز کی گئیں اور ہر ایک کی خواہش تھی کہ یہ ہسپتا ل اس کی اراضی پر تعمیر کیا جائے مگر یہ ساری زمینیں لاہو رکے مضافات میں تھیں اور ان میں ہسپتال قائم کرنے سے ہمارا مقصد پورا نہیں ہوتا تھا جو اس ہسپتال کے قیام کی بنیادی وجہ تھی اوروہ یہ کہ ہم غریب اور مستحق مریضوں کا مفت علاج کر سکیں۔ جگہ کے انتخاب کے سلسلے میں جب ہم نے مینار پاکستان کے پاس ہسپتال کی موجودہ جگہ قلعہ لچھمن سنگھ، مولانا احمد علی روڈ پہنچے۔تو وہاں جا کر ہمیں معلوم ہوا کہ اس جگہ اردگرد کچی ا ٓبادی، مزدور، چھوٹے چھوٹے کاروبار کرنے والے، دیہاڑی دار اورغریب لوگ آباد تھے۔ ہسپتال کے ایریا میں لکڑ منڈی، فروٹ منڈی، بادامی باغ، لاری اڈہ اور متعدد ورکشاپس قائم ہیں اس کے علاوہ کچے پکے مکان جن کے مکیں غربت اور پسماندگی کی منہ بولتی تصویر تھے اس کے علاوہ اس علاقے میں دور دور تک کوئی ہسپتال بھی موجود نہیں تھا ان سب کو حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ جگہ ہر لحاظ سے آئیڈل تھی اور ہمارے ہسپتال کے قیام کے مقصد کو بھی پورا کرتی تھی۔

16کنال پر محیط اس جگہ پر ہسپتال قائم کرنے کا تہیہ کر لیاگیا اور اکتوبر2013ء میں ہسپتال کی تعمیر شروع کردی او ر فروری 2015ء میں ہسپتال نے اپنی طبی خدمات کا آغاز کر دیا اب ہسپتال میں مختلف شعبے کام کررہے ہیں۔ ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال خالصتاً پاکستانی بہن بھائیوں کی امداد سے چل رہا ہے۔ یورپ، امریکہ یا کسی دوسرے ملک سے ہسپتال کو کوئی امداد نہیں ملتی اس کی وجہ آپ سب بخوبی جانتے ہیں کہ اس کے چیئر مین وطن عزیز کو ایٹمی ومیزائل بنانے والے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہیں جودشمنان اسلام اور پاکستان کو کسی بھی طور پر پسند نہیں اس سارے کام کا تمام تر سہرا پاکستانیوں کے سر ہے جو ابتدا سے تاحال اپنی محبت کا ثبوت دیتے رہتے ہیں آج تک نہ تو ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال کو کوئی بیرونی امداد ملی نہ ہی کوئی حکومتی اوریہ سب پاکستانی بہن بھائیوں سے ایک ایک روپیہ اکٹھا کرکے اس ہسپتال کو چلا یا جا رہا ہے، ہسپتال کو کامیابی سے چلانے کے بعد اکتوبر 2017ء میں ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال کی سات منزلہ مین بلڈنگ کی تعمیر کا آغاز کیا گیا جو 300بستروں پر مشتمل ہوگی۔ اس کا گرے سٹرکچر تقریبا مکمل ہوچکا ہے۔

ہماری درخواست ہے کہ آپ ہمارا ساتھ دیں اور غریبوں کے اس ہسپتال کو دل کھول کر عطیات سے نوازیں کہ ہمیں اب پہلے سے زیادہ آپ کے تعاون کی ضرورت ہے کہ ایک طرف مین بلڈنگ کی تعمیر جاری ہے اور دوسری طرف نادار اور مستحق مریضوں کا مفت علاج ہورہا ہے۔ آپ اپنے پیاروں کے نام کوئی وارڈ، بلاک یا کمرہ منسوب کروا سکتے ہیں۔غریب لوگ جو علاج کی سکت نہیں رکھتے جب ہم ان کا علاج ومعالجہ کرتے ہیں انہیں صحت مند دیکھتے ہیں تو ایک گونہ سکون حاصل ہوتا ہے آج مہنگائی کے اس دور میں غریب آدمی کے لیے علاج کرانا تقریباً نا ممکن ہوچکا ہے اس سلسلے میں مخیر حضرات کو آگے آنا ہوگا اور اس کارخیر میں حصہ لینا ہوگا ہمارے ہسپتال کی جلد تکمیل کے لیے آپ ہمارا ساتھ دیں۔ اللہ کریم آ پکو اس کا اجر و ثواب دے گا۔

مزید : رائے /کالم