”سب سے بڑا روپیہ“

”سب سے بڑا روپیہ“
”سب سے بڑا روپیہ“

  

انڈیا کی مشہور اداکارہ امرتا سنگھ اور اس کی بیٹی اداکارہ سارہ علی خان کی بیٹھے بیٹھے کروڑوں روپے کی لاٹری نکل آئی ہے۔ امرتاسنگھ کے سوتیلے ماموں اور سارہ علی خان کے سوتیلے نانا ”مدہوسوڈن بمبٹ“کروڑوں کی جائیداد چھوڑ کر اگلے جہان سدھار گئے ہیں۔ سارہ علی خان نے اپنے اس نانا کو کبھی زندہ نہیں دیکھا تھا جس نے اس کو کروڑوں پتی بنا دیا،”نانا ہو تو ایسا“ نانا ہندو، ماں سکھ، بیٹی مسلمان،واہ کیا”معجون مرکب“ ہے!۔پچھلے دنوں ہندو بنیاد پرست تنظیموں نے ”لو جہاد“ کے نام پرپروپیگنڈا شروع کیا ہوا تھا کہ مسلمان نوجوان ایک منصوبے کے تحت ہندو لڑکیوں کو مسلمان بنانے کے لئے ان سے محبت کاڈھونگ رچا کر شادیاں کررہے ہیں۔ اس سلسلے میں ان تنظیموں نے ہنگامے اور فسادات بھی کئے تھے۔

راقم نے کچھ عرصہ قبل ”لو جہاد“ کے عنوان پر ایک کالم بھی لکھا تھا جس کا خلاصہ یہی تھا کہ ایسے لوگ اصل میں نہ ہندو ہوتے ہیں، سکھ نہ مسلمان اور یہ سلسلہ آج کانہیں بلکہ بڑا پرانا ہے۔ سارہ علی خان کا یہ نانا کہاں سے آیا، یہ بھی ایسی ہی ایک دلچسپ کہانی ہے بلکہ کہانیاں ہیں اور ”بات نکلے گی تو دور تلک جائے گی“ اتنی ددر کہ سارہ علی خان کی ماں،پھر اس کی ماں اور پھر اس کی بھی ماں یعنی ”پڑنانی“ تک جائے گی اور یہ سلسلہ کوئی ستر سال پرانا ہے۔ سارہ علی خان کی پڑنانی کا نام زرینہ حق تھا۔ وہ انتہائی امیر کبیرخاندان سے تعلق رکھتی تھی۔ وہ ریاست بیکانیر کے سابق چیف جسٹس میاں احسان الحق کی بڑی بیٹی تھی جن کی جالندھر میں کافی زمین جائیداد تھی۔ میاں احسان الحق کی چھوٹی بیٹی اداکارہ بیگم پارہ تھی جس نے دلیپ کمار کے چھوٹے بھائی اداکار ناصر خان سے شادی کی تھی۔زرینہ حق کو عشق کا بخار چڑھا اور اس نے باپ کی مرضی کے خلاف انڈین ائرفورس کے ایک ہندو آفیسر گروپ کیپٹن مدن موہن بمبٹ سے شادی کرلی۔ اس شادی سے ایک بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام ”مینو بمبٹ“ رکھا گیا۔

مدن موہن بمبٹ کا گھرانہ پڑھا لکھا اور پیشہ وارانہ امور میں کامیاب لیکن محدود مالی وسائل رکھتا تھا جبکہ زرینہ حق آرام و آسائش کی زندگی کی عادی اایک رئیس خاندان کی بیٹی تھی۔ مالی مسائل اٹھ کھڑے ہوئے اور میاں بیوی کے جھگڑے بڑھنے لگے۔میاں احسان الحق اپنی بیٹی سے ناراض تھے،انہوں نے موقع غنیمت جانتے ہوئے اپنے ہندو داماد کو پیشکش کی کہ اگر وہ مسلمان ہو جائے اور اپنی بیٹی کا نام اور تربیت بھی بطور مسلمان ہونے دے تو اس کو بہت بڑی نقدرقم دینے کے ساتھ ساتھ کافی جائیداد بھی اسکے نام کردی جائے گی لیکن مدن موہن بمبٹ اس ترغیب اور لالچ میں نہ آئے اور انہوں نے زرینہ حق کو طلاق دینے کے بعد ایک ہندو عورت آشا سے شادی کرلی جس سے ایک بیٹی طاہرہ بمبٹ اور بیٹا مدہوسوڈن بمبٹ پیدا ہوئے۔ طلاق کے بعد زرینہ حق اپنی بیٹی کے ساتھ مستقل طور پر اپنے باپ کے گھر آگئی۔ اسکے ایمان کی تجدید کی گئی، دوبارہ مسلمان کیا گیا، اس کی بیٹی مینو بمبٹ کا نام تبدیل کر کے رخسانہ سلطانہ رکھ دیا گیا۔ میاں احسان الحق کی وفات کے بعد رخسانہ سلطانہ کو اپنے نانا کی وراثت میں کافی دولت اور جائیداد ملی۔

کچھ عرصہ بعد ماں کی تاریخ، بیٹی دہرانے لگی، مگر اس بار ہیروہندو کی بجائے سکھ تھا۔ رخسانہ سلطانہ سکھ آرمی آفیسر شیوندر سنگھ ورک سے محبت کی شادی کرکے رخسانہ سنگھ بن گئی۔ بیٹی پیدا ہوئی تو اسکا نام امرتا سنگھ رکھا گیا۔ شیوندر سنگھ ورک کی ماں مہندر کور، مشہور صحافی اور لکھاری خوشونت سنگھ کی بہن تھی۔مہندر کور کی بیٹی اور شیوندر سنگھ ورک کی بہن ریاست شملہ کے حکمران راجہ وجندر سنگھ کی رانی تھی۔ یہاں معاملہ مالی مسائل کا نہ تھا بلکہ فرق مزاج اور اقدار کا تھا۔ شیوندر کا گھرانہ تعلیم یافتہ،رکھ رکھاؤ، الگ الگ رہنے والا،خاموشی پسند اور روایت پرست قسم کا تھا جبکہ رخسانہ سنگھ پارٹیوں اور محفلوں کی شوقین”ڈسکو دیوانی ٹائپ“ تھی سو معاملہ یہاں بھی ختم اور رخسانہ بیٹی کو لے کر الگ ہو گئی۔رخسانہ سلطانہ اس وقت اخبارات کی سرخیوں میں چھا گئی جب اندرا گاندھی نے انڈیا میں ایمر جنسی لگا دی۔

رخسانہ اس وقت کے ایمرجنسی کے انچارج سنجے گاندھی کا دایاں بازو بن گئی۔اس کے شب وروز سنجے گاندھی کے ساتھ گزرنے لگے۔ 1975اور 1977کے دو سالہ ایمرجنسی دور میں سنجے گاندھی نے رخسانہ کو نس بندی کا انچارج بنا دیا۔رخسانہ نے پرانی دہلی جامعہ مسجد کے مسلم علاقوں کے گرد مختلف کیمپ لگا کر ہزاروں مسلمانوں کی جبری نس بندی کردی۔رخسانہ سلطانہ کی دہشت کا یہ عالم تھا کہ جب وہ پرانی دہلی میں مسلم علاقوں کا اپنی گاڑی میں دورہ کرتی تھی توڈر سے لوگ گھروں اور دکانوں سے بھاگ جاتے تھے۔ اس کی گاڑی کا ہارن سن کر مسلمانوں کا رنگ خوف سے پیلا پڑ جاتا تھا۔رخسانہ سلطانہ اپنے وقت کی حسین ترین عورت تھی۔ جس طرح بے نظیر بھٹو سے ملنے کے لئے پہلے ناہید خان سے ملنا پڑتا تھا اسی طرح سنجے گاندھی سے ملنے کے لئے پہلے رخسانہ سلطانہ کی اجازت ضروری تھی۔1980میں سنجے گاندھی کی حادثاتی موت کے بعد رخسانہ سلطانہ بھی منظر سے غائب ہو گئی کیو نکہ وہ ایک متنازع شخصیت تھی اور اسے مخالفین خصوصاً مسلمانوں کی جانب سے جان کا مسلسل خطرہ رہتا تھا۔وہ تقریباً13سال بعد اس وقت معمولی خبروں میں آئی جب اس کی بیٹی امرتا سنگھ کی سنی دیول کے ساتھ پہلی فلم ”بے تاب“ ریلیز اور سپر ہٹ ہوئی۔

نانی اور ماں کی راہوں پر بیٹی کیوں نہ چلے۔ امرتا سنگھ نے محبت کا آغاز سنی دیول کے ساتھ ہی کیا،مگر سلطانہ کو یہ پسند نہ تھااور اس کے کھوجیوں نے یہ بھی پتہ چلا لیا کہ سنی دیول نے لندن میں پہلے ہی پوجا نامی کسی لڑکی سے شادی کی ہوئی ہے۔ امرتا سنگھ نے سنی دیول کوچھوڑ کر پہلے مشہور کرکٹر روی شاستری اور پھر اس کو بھی چھوڑ کر اپنی عمر سے بارہ سال بڑے ونودکھنہ کو محبت کے جال میں پھنسا لیا۔ رخسانہ کو یہ بھی منظور نہ تھا کیونکہ اب وہ مقبولیت کھو چکا تھا نیز پہلے سے شادی شدہ اور دو تین بچوں کا باپ تھا اور بیوی کو بھی طلاق دے چکا تھا۔ امرتا ونود سے شادی کے لئے بضد تھی لیکن رخسانہ ان کے لئے ظالم سماج بن چکی تھی اور اس نے یہ شادی رکوانے کے لئے اپنے خالو کے بڑے بھائی دلیپ کمار سمیت کئی لوگوں سے مدد مانگی۔ اسی دوران نواب آف پٹوڈی منصور علی خان اور شرمیلا ٹیگور کے بیٹے سیف علی خان اپنی عمر سے بارہ سال بڑی امرتاسنگھ پر عاشق ہو گئے۔ ماں کو پتہ چلا تو وہ بڑی خوش ہوئی اور بیٹی سے کہا کہ یہی دولت والا راستہ سیدھا ہے، باقی کنگالوں سے کیالینا دینا۔ امرتا سنگھ اور سیف علی خان کی بے جوڑ شادی دو بچوں کی پیدائش کے بعد ختم ہوگئی اور سیف علی خان نے اپنی عمر سے بارہ سال بڑی امرتا سنگھ کو چھوڑ کر اپنی عمر سے بارہ سال چھوٹی کرینہ کپور سے شادی کرلی۔

امرتا اور سیف علی خان کی بیٹی سارہ علی خان بھی ایک کامیاب اداکارہ بنتی جارہی ہے۔ امرتا اور سارہ علی خان اس وقت پھر اخبارات کی سرخیوں میں آئیں جب سارہ علی خان کے پڑنانا کے سگی پڑنانی کو طلاق دینے کے بعد سوتیلی پڑنانی سے بیٹے یعنی سوتیلے نانا ”مدہوسوڈن بمبٹ“ کا انتقال ہوا،جس کے انتقال کا ماں بیٹی کو شدت سے انتظار تھا۔ دونوں ممبئی سے بھاگم بھاگ ہوائی جہاز سے ڈیرہ دون پہنچیں، پہلی اور آخری دفعہ اپنے سوتیلے نانا اور ماموں کا منہ دیکھا، آخری رسومات میں شرکت کے بعد پھر بھاگم بھاگ ڈیرہ دون کے پولیس اسٹیشن پہنچیں کہ پولیس کروڑوں روپے کی ہماری ہونے والی جائیداد پر اپنا پہرہ بٹھائے تاکہ وہ کسی قبضہ گروپ کے قبضے میں نہ آ جائے۔مدہوسوڈن بمبٹ نے شادی نہیں کی ہوئی تھی اور وہ مثانہ کے کینسر کی انتہائی تکلیف دہ بیماری میں مبتلا تھے اس کے باوجود ان کا اپنی بہن سے جائیداد کا عدالتی جھگڑا چل رہا تھا۔ وہ اپنی جائیداد کو ایک ٹرسٹ کے حوالے کرنا چاہتے تھے اور اس سلسلے میں کاروائی چل رہی تھی کہ امرتااور مدہوسوڈن بمبٹ کی بہن کی لاٹری نکل آئی۔یہی دونوں فریق تھے اور دونوں نے عقلمندی کی کہ آپس میں ”مک مکا“ کرلیا۔ عدالت کے سامنے ان کو چیلنج کرنے والا کوئی نہ تھا سو جج نے کروڑوں کی جائیداد ان کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

آنجہانی مدہوسوڈن بمبٹ کے ملازم خوشی رام نے بھی پولیس کو درخواست دی تھی کہ سالہاسال سے ان کا کوئی رشتہ دار ان کی خبر گیری کے لئے نہیں آیا۔ مالک نے ان کو حکم دیا تھا کہ ان کے مرنے کے بعد گھر کو تالا لگا دیا جائے اور کسی بھی نام نہادرشتے دار کو گھسنے نہ دیا جائے، مگر خوشی رام کی کون سنتا ہے۔ آنجہانی مدہوسوڈن بمبٹ کے قریبی دوست دھریندر اس بات پر حیران ہیں کہ میں سالہا سال سے اپنے دوست کی انتہائی تکلیف دہ حالت کو دیکھ رہا تھا۔ اس دوران کوئی رشتہ دار اس کے پاس کبھی نہیں آیالیکن اس کی موت کے فوراً بعدیہ لوگ دوڑے دوڑے پہنچ گئے۔ دھریندر جی کو اب کون بتائے کہ ان لوگوں نے اسکے دوست کے لئے نہیں، بلکہ اس کی دولت کے لئے دوڑ لگائی تھی اور وہ یہ ریس جیت گئے ہیں کیونکہ سچ یہی ہے:

”باپ بڑا نہ بھیا ۔۔۔ سب سے بڑا روپیہ“

مزید : رائے /کالم