صوبہ جنوبی پنجاب: کیا بات تحریک سے آگے بڑھے گی؟

صوبہ جنوبی پنجاب: کیا بات تحریک سے آگے بڑھے گی؟
صوبہ جنوبی پنجاب: کیا بات تحریک سے آگے بڑھے گی؟

  

قومی اسمبلی نے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کی تحریک کثرت رائے سے منظور کر لی ہے۔ مسلم لیگ(ن) نے تحریک کی مخالف کی اور تنہا رہ گئی۔ بعدازاں مختلف تاویلیں پیش کرکے یہ جتانے کی کوشش کی کہ الگ صوبے کی مخالفت نہیں کی،بلکہ دو صوبے بنانے کی بات کی ہے۔ بہرحال اس تاریخی موقع پر مخالفت کرکے مسلم لیگ(ن) نے ایک بڑا سیاسی بلنڈر کیا ہے۔ جنوبی پنجاب میں دو روز سے مسلم لیگ(ن) کی پالیسی کے خلاف احتجاجی بیانات کا سلسلہ جاری ہے اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مسلم لیگ(ن) نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ تختِ لاہور کا تسلط قائم رکھنا چاہتی ہے۔ پیپلزپارٹی نے دانشمندی کا مظاہرہ کیا اور تحریک کی حمایت کر دی، حالانکہ توقع اس کے برعکس تھی کہ تحریک انصاف کو الگ صوبے کا کریڈٹ نہ دینے کی کوشش میں وہ بھی شاید تکنیکی وجوہات کی بناء پر الگ صوبے کی مخالفت کر دے۔ پیپلزپارٹی کو البتہ یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے 2013ء میں بھی قومی اسمبلی میں جنوبی پنجابی کو الگ صوبہ بنانے کی قرارداد پیش کی تھی اور اس وقت بھی مسلم لیگ (ن) نے اس کی مخالفت کی تھی۔ اگرچہ یہ کوئی بہت بڑی کامیابی نہیں، کیونکہ صرف ایک تحریک یا تجویز کی حد تک منظوری وہ اشک شوئی ہے جو اس سے پہلے بھی ہوتی رہی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اب اس معاملے میں پیش رفت کیسے ہوتی ہے؟ اگر اس تحریک کی منظوری کے بعد پھر خاموشی کا ایک طویل عرصہ شروع ہو جاتا ہے تو سمجھو کہ تحریک انصاف بھی اپنی آئینی مدت پوری کر جائے گی، الگ صوبہ نہیں بنے گا۔

البتہ اس تحریک کی ایک اچھی بات یہ ہے کہ اس سے الگ صوبے کے ابتدائی خد و خال واضح ہو گئے ہیں، پہلے یہ سب کچھ ہوا میں تھا اب زمین پر آ گیاہے۔ مثلاً صوبے کی حدود متعین ہو گئی ہیں۔ صوبائی حدود اور قومی اسمبلی کی نشستیں اس تحریک میں شامل ہیں۔ ملتان کو صوبائی دارالحکومت بنانے کی بات سامنے آئی ہے، ہائی کورٹ کی ساخت اور ابتدائی تقرریوں کے بارے میں وضاحت کر دی گئی ہے۔ گویا بہت سے ایسے معاملات تھے جن پر ابہام موجود تھا یا پھر اتفاق رائے پیدا نہیں ہوا تھا۔مثلاً صوبے کی حدود پر کافی اختلاف تھے۔ قوم پرست تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ میانوالی سے جھنگ تک کے علاقے کو نئے صوبے میں شامل کیا جائے۔ ان کا یہ مطالبہ دراصل اس بنیاد پر ہے کہ یہ علاقے سرائیکی زبان و ثقافت کا مرکز ہیں، اس لئے انہیں ایک صوبے میں ہونا چاہیے، تاہم قومی اسمبلی نے جو تحریک منظور کی ہے، اس میں ملتان، بہاولپور اور ڈیرہ غازی ڈویژنوں کو جنوبی پنجاب میں شامل کیا گیا ہے، یہ بہت سادہ اور آسان فارمولا ہے۔ اگر صوبے کی حدود کا تعین کسی اور فارمولے کے تحت کیا گیا تو بڑا پنڈورا بکس کھل جائے گا۔ پھر شاید صوبے کا خواب شرمندۂ تعبیر ہی نہ ہو سکے۔ اب بھی جو سب سے بڑی رکاوٹ ہے، وہ بہاولپور کو مجوزہ جنوبی پنجاب میں شامل کرنا ہے۔

مسلم لیگ(ن) یہ قرارداد پیش کر چکی ہے کہ جنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبہ بنایا جائے۔ بظاہر اس کی بنیاد یہ ہے کہ بہاولپور چونکہ قیام پاکستان سے پہلے ایک الگ ریاست تھی، اس لئے اسے اب صوبے کا درجہ دیا جائے، مگر ایسا مطالبہ کرنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ پاکستان کو بنے بھی 71برس ہو گئے ہیں۔ اب معاملات کو آج کے تناظر میں دیکھنا ہو گا۔ اگر بہاولپور کو صوبہ بنا دیا جاتا ہے تو پھر ہر ڈویژن کی طرف سے یہ مطالبہ سامنے آ سکتا ہے کہ اسے صوبے کا درجہ دیا جائے۔ کیا بہاولپور کے پاس اتنے وسائل ہوں گے کہ وہ علیحدہ صوبے کا بوجھ اٹھا سکے؟ اسے صرف اسٹیبلشمنٹ نے ایک زمانے میں جنوبی پنجاب صوبے کی آواز کو متنازع بنانے کے لئے اٹھایا تھا۔ پھر سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لئے مسلم لیگ(ن)، پیپلزپارٹی اور اب تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں یہ شوشہ چھوڑتی رہی ہے۔

بہاولپور کے عوام الگ صوبے کو کتنی اہمیت دیتے ہیں، اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ بہاولپور صوبہ تحریک آج تک عام انتخابات میں کوئی ایک نشست بھی نہیں جیت سکی، بلکہ پچھلے انتخابات میں تو وہ سامنے ہی نہیں آئی تھی۔ جہاں تک مسلم لیگ (ق) کا تعلق ہے تو وہ طارق بشیر چیمہ کی سیاست کے آگے بے بس ہے۔ طارق بشیر چیمہ چونکہ بہاولپور صوبے کی سیاست کرتے ہیں، اس لئے انہوں نے مسلم لیگ (ن) کو قائل کیا ہے کہ وہ اس تحریک کی حمایت نہ کرے، حالانکہ چودھری برادران کو مستقبل میں خاص طورپر جنوبی پنجاب کے اندر بڑا سیاسی نقصان ہو سکتا ہے۔اس تحریک کو منظور کرا کے تحریک انصاف نے اپنے سر سے بہت بڑا بوجھ اتار دیا ہے۔ یہ تحریکِ عملی شکل اختیار کرتی ہے یا نہیں، اس سے قطع نظر تحریک انصاف کے رہنما اب یہ کریڈٹ لیتے نہیں تھکتے کہ انہوں نے جو وعدہ کیا تھا، اسے پورا کر دیا ہے۔ اس وقت تحریک انصاف کو کچھ ایسے کام کرنے کی اشد ضرورت ہے جو اس کی اقتصادی شعبے میں بدترین کارکردگی پر پردہ ڈال سکیں۔ اس لئے یہ تحریک ایوان میں پیش کی گئی، جسے کثرت رائے سے منظور بھی کرا لیا گیا۔

وزیراعظم عمران خان نے الیکشن سے پہلے صوبہ محاذ تحریک والوں سے جو معاہدہ کیا تھا، اس میں پہلے چھ ماہ میں صوبہ بنانے کی حامی بھری تھی۔ نوے دن میں صوبے کے خد و خال کو فائنل کیا جانا تھا، مگر نو ماہ بعد کہیں جا کر یہ نوبت آئی ہے کہ قومی اسمبلی سے ایک سادہ تحریک منظور کرا لی گئی ہے۔ آگے کے کڑے مرحلے کیسے طے ہوں گے، اس بارے میں کچھ نہیں کہا گیا، البتہ اس حوالے سے ایک خصوصی کمیٹی بنائی جائے گی جو اتفاق رائے پیدا کرے گی۔ ابھی سے یہاں جنوبی پنجاب میں اس تحریک کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ سیاسی جماعتوں سے ہٹ کر ایک اور قوت جو الگ صوبے کے لئے سال ہا سال سے مطالبہ کر رہی ہے، وہ سرائیکی قوم پرست تنظیمیں اور جماعتیں ہیں۔

وہ جنوبی پنجاب کے نام سے صوبے کو اپنے لئے ایک گالی سمجھتے ہیں، وہ سرائیکستان چاہتے ہیں اور اس سے کم پر راضی نہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا جو کمیٹی بنائی جائے گی وہ اسمبلی سے باہر کی ان قوتوں سے بھی مذاکرات کرے گی۔ ان کے ساتھ بھی اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے گفت و شنید ہو گی یا انہیں نظر انداز کرکے صرف پارلیمانی قوتوں سے مشاورت کی جائے گی۔ ایسا ہوا تو کئی نئی پیچیدگیاں پیدا ہو جائیں گی۔ انہیں مطمئن کرنا ضروری ہے۔ اس کے لئے کئی پہلوؤں پر مذاکرات ہو سکتے ہیں، مثلاً صوبے کی سرکاری زبانیں پنجابی اور سرائیکی قرار دی جا سکتی ہیں۔ اسی طرح سرائیکی زبان و ثقافت کے لئے پلاک لاہو رکی طرز پر ایک ادارہ بھی بنایا جا سکتا ہے۔ سرائیکی قوم پرستوں کو جوہات سمجھ نہیں آ رہی، وہ اس وقت جنوبی پنجاب کا مخلوط معاشرہ ہے، جس میں اردو بولنے والے، پنجابی، بلوچی اور ہریانوی زبان و ثقافت سے جڑی بڑی آبادی بھی موجود ہے۔

اگر لسانی بنیاد پر صوبے کا نام رکھا جاتا ہے تو آگے چل کر نسلی تعصب کے باعث انتشار بھی پھیل سکتا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ نام کے مسئلے پر سیاسی جماعتوں میں کوئی اختلاف موجود نہیں اور وہ صوبہ جنوبی پنجاب پر متفق ہیں، اس لئے امید کی جانی چاہیے کہ سرائیکی صوبے کا مطالبہ کرنے والے اپنے رویے میں لچک پیدا کریں گے۔ اصل مسئلہ جنوبی پنجاب کے لئے صوبائی خود مختاری ہے، تاکہ اس کی محرومیوں کا ازالہ ہو سکے۔ گزشتہ 71برسوں میں اپر پنجاب نے اس کا جو حق مارا ہے، اب اسے مل سکے۔ الگ صوبہ بن جائے تو یہاں کی تہذیب و ثقافت خودبخود اپنا وجود اور شناخت منوا لے گی۔ اگر صوبہ نہیں بنتا تو نہ اقتصادی خوشحالی آئے گی اور نہ ہی اس خطے کو شناخت مل سکے گی ابھی بڑا لمبا سفر باقی ہے، لیکن اتنا ضرور ہے کہ جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کی گونج اب اقتدار کے ایوانوں میں اپنا وجود منوا چکی ہے۔

اب معاملہ پیچھے نہیں آگے ہی جائے گا۔ تحریک انصاف یکم جولائی سے ملتان میں الگ سیکرٹریٹ قائم کرنے جا رہی ہے۔ جہاں چیف سیکرٹری سمیت تمام محکموں کے سیکرٹری صاحبان تعینات ہوں گے۔ یہ بہت بڑی پیش رفت ہو گی، کیونکہ آبادی کے لحاظ سے بجٹ میں جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کو حصہ بھی دینا پڑے گا۔ اس سیکرٹریٹ کے قیام سے جنوبی پنجاب صوبے کی راہ مزید ہموار ہو جائے گی، پھر صرف الگ ہائیکورٹ کا قیام باقی رہ جائے گا جو ظاہر ہے الگ صوبے کے بغیر ممکن نہیں، تاہم یہ بات طے ہے کہ جنوبی پنجاب کی چھ کروڑ آبادی کا سب سے بڑا مطالبہ الگ صوبہ بن چکا ہے، جسے اس تحریک کے ذریعے تسلیم بھی کر لیا گیا ہے۔ اب اس مطالبے کو پس پشت ڈالنا یا اس سے پیچھے ہٹنا حکومت اور سیاسی جماعتوں کے لئے ممکن نہیں، مگر اس کے باوجود جنوبی پنجاب کے لوگوں میں یہ سوال اب بھی موجود ہے کہ کیا بات اس تحریک سے آگے بڑھے گی، کیا واقعی جنوبی پنجاب علیحدہ صوبہ بن جائے گا؟

مزید : رائے /کالم