ہمیں گفتار کے غازی نہیں، کردار کے غازی چاہئیں!

ہمیں گفتار کے غازی نہیں، کردار کے غازی چاہئیں!
ہمیں گفتار کے غازی نہیں، کردار کے غازی چاہئیں!

  

تخیّل (Imagination) ماپنے کا اگر کوئی پیمانہ ہوتا اور اس کا کہیں بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کروایا جاتا تو برصغیر اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کی آبادیاں سارے کے سارے ایوارڈ اپنے نام کر لیتیں۔ شعر و سخن کا جو سرمایہ اس خطے میں موجود ہے، وہ دنیا کے کسی اور خطے میں نہیں پایا جاتا۔ اور شعر کیا ہے؟…… تخیل کی کارفرمائی ہی تو ہے۔ لیکن تخیل سے اگلا قدم کیا ہے؟ کیا اس تخیل کو عمل میں ڈھالنے کی کوئی روائت بھی اس خطے میں موجود ہے؟ ……اس کا جواب نفی میں ہو گا۔ اس سے اگلا سوال یہ ہو گا کہ اس خطے نے جتنے شعراء اور ادباء پیدا کئے ہیں، اتنے دستکار، کاریگر اور سائنس دان کیوں پیدا نہیں کئے؟ کیا تصور اور حقیقت میں کوئی ایسا فاصلہ ہے جسے طے نہیں کیا جا سکتا؟اس کا جواب بھی نفی میں ہو گا۔

ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں جتنے فلاسفہ قدیم یونان نے پیدا کئے اتنے کسی اور سرزمین نے پیدا نہیں کئے۔ سقراط، بقراط، ارسطو، افلاطون، جالینوس، فیثا غورث، دیوجانس کلبی اور اس طرح کے تمام یونانی دانشور جو افعال و اعمال سے بیگانہ تھے، وہ اسی خطے میں پیدا ہوئے۔ لیکن اگر سکندراعظم بھی اسی یونان میں پیدا ہوا تو اس کا جواب کیا ہے؟ وہ تو سراپا عمل تھا……کیا سکندر، اپنے ملک کے فلاسفروں کے جھرمٹ میں ایک دمدار ستارہ تھا کہ یکایک آسمانِ یونان پر ہویدا ہوا اور پھر جتنی تیزی سے طلوع ہوا تھا، اتنی ہی تیزی سے غروب ہو گیا؟ ……اورسکندر کے بعد اور کتنے یونانی جنگ باز تھے جنہوں نے عمل کو آگے رکھا اور نظریئے کو پیچھے چھوڑ دیا۔

اس تاریخی حقیقت میں ایک اور سوال بھی پوشیدہ ہے کہ کیا جس خطہ ء ارض میں فلاسفروں اور نظریات کے تخلیق کاروں کی بھرمار ہو اس میں عمل کرنے والے لوگ شاذ و نادر جنم لیا کرتے ہیں؟ رومن ایمپائر کس ایمپائر کی پیشرو تھی کہ رومیوں میں یکے بعد دیگرے جولیس سیزر جیسے لوگ اور عالمی سطح کے فاتحین پیدا ہوتے رہے۔

میں یہاں اس دور کی تاریخ بتا کر آپ کا وقت ضائع نہیں کروں گا۔ سوال صرف یہ کرنا چاہوں گا کہ رومیوں میں کوئی فلاسفر کیوں پیدا نہیں ہوا؟ وہاں اوپر تلے جنگ باز ہیرو ہی پیدا ہوتے اور مرتے رہے۔لیکن جب ان کا عہد تمام ہونے کو آیا تو یونانی فلاسفروں اور مفکروں کی فوج ظفر موج پیدا ہو گئی جس میں ہمیں سکندر یونانی کے علاوہ کوئی اور نام نظر نہیں آتا جو تخیل کی پرسکون وادیوں سے نکل کر عمل و تعامل کی پرشور فضاؤں کا خالق بنا ہو!

اس کے بعد مسلمانوں کا دور آیا۔ مسلمانوں کی تو شروعات ہی ’عمل‘ سے ہوئیں۔ دورِ رسالت مآبؐ سے لے کر خلفائے راشدین تک چلے جائیں، آپ کو کوئی ویسا فلاسفر نہیں ملے گا جس طرح کا سقراط، بقراط یا ارسطو وغیرہ تھے! اسلام کے اس اولین دور میں جتنے لوگ بھی عظمت کی سیڑھیوں پر چڑھے وہ بالعموم فعل و عمل کے پرستار تھے۔ اسلام صرف تھیوری نہیں، پریکٹس کا نام ہے۔ اگر صرف تھیوری ہوتی تو عیسائیت اور یہودیت کے علی الرغم فاتحین پیدا نہ ہوتے۔ میں اسلام کے علمائے دین، محدثین اور آئمہ کرام کا ذکر نہیں کروں گا کہ وہ تھیورسٹ تھے لیکن اسلام کو جن لوگوں نے عالمگیر شہرت اور جغرافیائی وسعت عطا کی وہ عالم کم تھے اور عامل زیادہ تھے ……یعنی ان کے ہاں تھیوری کو کم اور پریکٹس کو زیادہ بار حاصل تھا۔

کہا جاتا ہے کہ ہر عمل کی پشت پر ایک خیال ہوتا ہے۔ اور یہ بھی کہ خیال پہلے آتا ہے اور اس پر عمل بعد میں ممکن ہوتا ہے۔ عمل کبھی ایک دم اچھل کر سامنے نہیں آتا۔ اس کے پیچھے ایک تصور اور ایک تخیل ہوتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ تخیل اور عمل کی بحث نہائت قدیم ہے۔ یہ بھی پوچھا جا سکتا ہے کہ میں آج اس قصے کو کیوں لے بیٹھا ہوں؟……

میرے پاس اس کا جواب یہ ہے کہ مسلم امہ کو اس کی آج شدید ضرورت ہے۔ عالمِ اسلام نے بالعموم پریکٹس کو ہر اول بنایا اور تھیوری کو پیچھے رکھا۔ اگر میں یہ دعویٰ کروں کہ برصغیر کے سات آٹھ سو سالہ مسلسل مسلم دورِ حکومت میں فاتحین اور جنگ جو کمانڈر تو یکے بعد دیگرے پیدا ہوتے رہے، کوئی فلاسفر ایسا نہیں پیدا ہوا جس نے عالمی شہرت حاصل کی ہو تو بے جا نہ ہوگا۔ چنگیز خانی دور کو یاد کیجئے۔ مشہور ہے کہ اس نے مسلمانوں کی صدہابرس کی علمی،تہذیبی اور سائنسی کاوشوں کو یکم قلم اپنی شمشیرِ برہنہ کی بھینٹ چڑھا دیا۔ ہلاکو اور علمائے بغداد کا وہ مکالمہ تو آپ کو یاد ہو گا کہ جس میں اس نے ہمارے مورخوں کے بقول نہائت سفاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قدیم مسلم تہذیب و تمدن کے علمبردار علمائے دین کو برباد کرکے رکھ دیا تھا۔ کتب خانے جلا ڈالے اور مدرسے مسمار کر دیئے۔ اس کا موقف بڑا سیدھا سادا تھا کہ جو تہذیب اپنی حفاظت نہیں کر سکتی، اس کو مٹ جانا چاہیے۔ ”توانا ترین کی بقاء“ کا نظریہ بھی ہلاکو کو درست ثابت کرتا ہے جسے اقبال نے: ”ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات“…… والے مصرعے میں امر کر دیا ہے۔

شیخ سعدی نے ایک قطعہ میں اس تصور کو کمال صراحت سے بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں:”ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک صاحبِ دل صوفی، اپنی خانقاہ سے نکل کر مدرسے میں آ گیا…… اس سے پوچھا گیا کہ حضرت آپ تو عابدِ شب زندہ دار تھے، آپ کو کیا سوجھی کہ مسجد سے نکل کر مدرسے کی راہ لی اور عابد سے عالم بن گئے۔ ذرا بتایئے کہ ایک عبادت گزار بندۂ خدا اور ایک سکول ماسٹر (مدرس)میں کیا فرق ہے اور آپ نے صراطِ عبادت ترک کرکے اکتسابِ علم کا راستہ کیوں اختیار کیا؟…… اس عابد نے جو جواب دیا وہ آبِ زر سے لکھے جانے کے قابل ہے۔ اس نے کہا: ’عابد اپنی گدڑی کو دنیاوی آلائشوں کے سمندر سے بچا بچا کے رکھتا ہے۔ اور ہمیشہ یہی فکر کرتا رہتا ہے کہ اس سے فلاں گناہ نہ سرزد ہو جائے یا وہ فلاں برائی کا ارتکاب نہ کر بیٹھے۔ لیکن یہ سکول ماسٹر، یہ مدرس اور یہ عالم کوشش کرتا ہے کہ دنیاوی آلائشوں کے سمندر میں ڈوبنے والے کو بچائے…… یعنی وہ اپنی فکر نہیں کرتا، دوسروں کی فکر کرتا ہے……“

اجازت دیجئے اس قطعہ کو سعدی کی زبان سے آپ کے سامنے رکھوں:

صاحب دلے بہ مدرسہ آمد ز خانقاہ

بشکستِ عہدِ صحبتِ اہلِ طریق را

گفتم میانِ عالم و عابد چہ فرق بود؟

تا اختیار کر دی ازاں ایں فریق را

گفت آں گلیمِ خویش بروں می بردز موج

ویں جہد می کند کہ بہ گیرد غریق را

عابد محض عبادت کرتا ہے اور عالم، عمل کا درس دیتا ہے۔ اس لئے عالم، عابد سے زیادہ عظیم اور قابلِ تعظیم ہے…… اس کالم کے آغاز میں عرض کیا تھا کہ برصغیر ہندو پاک میں ”بے عمل“ شاعروں اور ادیبوں کے تو ٹھٹھ کے ٹھٹ نظر آتے ہیں لیکن عمل کرنے یا عمل کا درس دینے یا خود دریائے عمل میں غوطہ لگانے والے افراد ہمارے اس برصغیر میں کم کم پیدا ہوئے۔ جو لوگ آئے وہ باہر سے آئے۔ محمد بن قاسم، محمود غزنوی، شہاب الدین غوری، امیر تیمور،ظہیر الدین بابر، نادر شاہ افشار، احمد شاہ ابدالی اور آخر میں افرنگی اقوام سب کی سب ہندوستان میں باہر سے آئیں …… کوئی اندر سے نہ پھوٹ سکی…… اس کی وجہ کیا تھی یا کیا ہے؟…… ہمیں اس پر غور کرنا چاہیے۔ سوچنا چاہیے کہ کیا وجہ ہے کہ ہم نے مقلّد تو بے شمار پیدا کئے، کوئی موجد پیدا نہ کیا…… سب موجد باہر سے آئے۔

ایک اور تاریخی حقیقت کی طرف بھی آپ کی توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ حضرت اقبال بھی ایک شاعر اور فلاسفر تھے۔ دوسرے لفظوں میں وہ عمل کے آدمی نہیں تھے قول کے آدمی تھے، پریکٹیشنر (Practioner) نہیں تھے، تھیورسٹ (Theorist) تھے لیکن انہوں نے تمام زندگی عمل کا درس دیا، فرمایاکہ عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی…… فرمایا کہ تو ہے، تجھے جو کچھ نظر آتا ہے نہیں ہے…… اور مزید فرمایا کہ حرکت اور حرکیت زندگی ہے…… ان کا سارا کلام قول کی جگہ عمل کا پیامبر ہے۔ان کے پیامِ عمل پر کتابیں لکھی گئی ہیں جو ان کو قدیم یونانی فلاسفروں اور ان مسلم دانشوروں سے ممتاز کرتی ہیں جو سراپا گفتار تو تھے، سراپا کردار نہیں تھے۔یہی وجہ تھی کہ علامہ کے پیامِ عمل نے ایک جیتی جاگتی حقیقت کو جنم دیا۔ آج پاکستانی قوم ان اقوام کی برادری میں شامل ہے جو تخیل سے آگے نکل کر تعمّل کی راہ پر گامزن ہوئی۔

ایک اور پہلو کی طرف بھی غور کیجئے…… جس دور میں اقبال کی فکر جوان ہوئی وہ برصغیر میں بالخصوص اور عالمِ اسلام میں بالعموم مسلمانوں کا دورِ زوال تھا۔ دنیا کے پانچوں براعظموں میں گوری رنگت والے افرنگیوں کا غلغلہ برپا تھا اور ان کی تہذیب اور ان کے اقتدار کا سورج نصف النہار پر تھا۔ اقبال نے جب شاعری کو اپنے تخیل کے اظہار کا ذریعہ بنایا تو ان کے سامنے پنجابی، عربی، فارسی اور اردو کے چار پانچ سو سالوں کا ادبی سرمایہ ماسوائے آہ و زاری اور گریہ و فریاد کے اور کچھ نہ تھا۔ ہماری ان زبانوں کی بیشتر شاعری (غالب، حالی اور نظیر اکبر آبادی کے علاوہ) اپنے موضوعات و افکار کے لحاظ سے انفعالی شاعری تھی۔ محمد قلی قطب شاہ سے لے کر بہادر شاہ ظفر تک تمام شاعروں کے دواوین کھنگال لیجئے۔ آپ کو ان میں آہیں، شکوے، شکائتیں، کس مپرسی، بے چارگی، بے قراری، آہ و فغاں، بے تابی، ہجر، فراق، یاس، ناامیدی اور مردہ دلی کے مضامین تو جابجا بکھرے ملیں گے لیکن جرات، شہامت، مہم جوئی، جانبازی، خود اعتمادی، سخت کوشی، مشقت آزمائی، بے باکی، ہمت آفرینی، مردانگی اور رجائیت جیسے موضوعات خال خال ملیں گے…… میر تقی میر کا رنج و الم، میر درد کی خلوت گزینی اور تصوف کیشی، انیس و دبیر کی مرثیہ خوانی، غالب کی ظرافت اور فلسفہ ذاتی اور بہادر شاہ ظفر کی نوحہ خوانی وغیرہ اس قسم کا ادبی سرمایہ ہے جس پر ادب برائے ادب کی چھاپ تو لگ سکتی ہے لیکن اس ادب کا زندگی آموز ہونا البتہ دوسری بات ہے۔

شائد اس کی وجہ یہ ہو کہ اردو نے فارسی کی کوکھ سے جنم لیا اور اگر فارسی زبان کے شعرا کی فہرست پر نظر ڈالیں تو فردوسی و رومی کو چھوڑ کر فرخی، انوری، حافظ، سعدی، عمر خیام اور قاآنی کا تمام کلام یا تو بادشاہوں کی مدح سرائی ہے یا زندگی کی عملی اور تلخ حقیقتوں سے فرار ہے یا پھر وہی دشتِ تصوف کی جادہ پیمایاں اور پندو وعظ کے و فاترِ گفتار ہیں …… چنانچہ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ اقبال کے سامنے فارسی اور اردو ادب کا جو سرمایہ تھا وہ کسی بھی اعتبار سے اتنا جرات افزاء نہ تھا کہ اس پر کسی پُرشکوہ قوم کی نشاۃ ثانیہ کی بنیاد رکھی جا سکتی!

یہی وجہ تھی کہ اقبال کو نہ صرف برصغیر بلکہ دنیا بھر کی مسلم اقوام کی بیداری کا بیڑا اٹھانا پڑا۔ ایران کے ملک الشعراء آقائے بہار نے اسی لئے کہا تھا:

عصرِ حاضر خاصہ ء اقبال گشتواحدے کز صد ہزاراں برگزشت

آج پاکستان کو گفتار کے غازیوں کی ضرورت نہیں، ہمیں کردار کے غازی درکار ہیں۔

مزید : رائے /کالم