پیشگی اجازت کے بغیر کاروباری مراکز اور دفاتر پر چھاپے نہیں مارے جائینگے: چیئر مین ایف بی آر

پیشگی اجازت کے بغیر کاروباری مراکز اور دفاتر پر چھاپے نہیں مارے جائینگے: ...

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کاروباری مراکز اور دفاتر پر چھاپے مارنے پر پابندی لگادی۔فیڈرل بیورو آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ کاروباری مراکز اور دفاتر پر چھاپوں  اور ٹیکس دہندگان کی لسٹ میں سے کسی کا نام معطل کرنے پر بھی پابندی لگادی گئی ہے۔اعلامیے میں مزید بتایا گیا ہے کہ اگر کسی کا نام ٹیکس دہندگان فہرست سے معطل کرنا ہو تو ممبر آپریشن اور چیئرمین ایف بی آر سے اجازت لینا ہوگی۔اس کے علاوہ کسی ادارے کی ٹیکس چوری سے متعلق ثبوت ہونے پر چھاپے سے قبل ممبر آپریشن اور چیئرمین ایف بی آر سے پیشگی اجازت لینا ہوگی۔دریں اثنا   فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر انجینئردارو خان اچکزئی نے ایف بی آر کے چیئر مین شبرزیدی سے ان کے دفتر میں ملا قا ت کی۔ اس موقع پر نا ئب صدور ایف پی سی سی آئی عبدالو حید شیخ، محمد اعجاز عبا سی، قر بان علی اور شیر یں ارشد خان بھی مو جو د تھیں۔ ایف پی سی سی آئی کے صدر انجینئردارو خان اچکزئی نے ٹیکس پیئر ز کے مختلف مسائل اور ٹیکس دہند گان کی تعداد بڑھانے کے لیے مختلف تجا ویز دی، اس موقع پر انجینئردارو خان اچکزئی نے کہاکہ پاکستان کی بز نس کمیو نٹی ایف بی آر کے احکامات کا خیر مقدم کر تی ہے جس میں ایف بی آر ٹیکس پیئر ز کو کم از کم 24گھنٹے پہلے اطلاع کئے بغیر ان کے بینک آکا ؤنٹس تک رسا ئی حاصل نہیں   کر ے گی کیو نکہ ایف بی آر افسران اپنے اختیارات کو غلط استعمال اور ٹیکس پیئر ز کو ہراساں کر تے رہے ہیں جو کہ اعتماد کے فقدان کی بنیا دی وجہ ہے۔ صدر ایف پی سی سی آئی نے کہاکہ ایف بی آر کے بہتر اقدامات سے ٹیکس پیئر ز کے اعتماد میں اضافہ ہو گا اور ٹیکس ریونیو کے حدف کو پورا کر نے میں مد د ملے گی۔ اس موقع پر چیئر مین ایف بی آر شبرزیدی نے کہاکہ حکومت پاکستان  نے ایمنسٹی اسکیم کا اعلان کر دیا ہے جس سے پاکستان کے صنعتکاروں کو ریلیف ملے گا، انہوں نے کہاکہ رئیل اسٹیٹ کے ٹیکس کے مسائل کو بھی جلد حل کیا جا ئے گا۔ شبرزیدی نے مز ید کہاکہ اگر ٹیکس پیئر ز ٹیکس کی ادائیگی میں تا خیر کر تے ہیں تو پہلے کی طر ح وہ Non Active Listمیں نہیں ڈالیں جا ئیں گے۔ملاقا ت کے دوران ایف پی سی سی آئی کے صدر انجینئردارو خان اچکزئی نے چیئرمین ایف بی آر شبر ذیدی کو ایف پی سی سی آئی کے ہیڈآفس کراچی اور کیپٹل آفس اسلا م آباد کے دورہ کر نے کی دعوت دی تاکہ ایف پی سی سی آئی بجٹ تجا ویز سے متعلق تفصیل سے با ت چیت ہو سکے۔دریں اثنا چیئر مین ایف بی آر  شبر زیدی  نے کہا  کہ بے نامی ایکٹ 2017   سے موجود  تھا مگر  اسے نافذ نہیں کیا گیا   ہم نے اس قانون  کو فروری 2019   میں نافذ کیا اس قانون  کے تحت بے نامی ٹرانزیکشنز  غیر قانونی  ہوں گی اور بے نامی اثاثوں کی صورت میں جائیداد ضبط  کر دی جائے گی اور 5 سے7  برس قید  کی سزا بھی ہو گی پاکستان  میں اورپاکستان سے باہر  1 لاکھ 15 ہزار اکاؤنٹس  ٹیکس میں ظاہر  نہیں کئے گئے۔  نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے  سید شبر زیدی نے کہا ہے کہ عام آدمی پر  ابھی ٹیکس  ایمنسٹی  اسکیم  واضح نہیں ہوئی اس سکیم کا  مقصد  معیشت کی ڈاکو مینٹیشن  ہے یہ اسکیم  ایمنسٹی  نہیں بلکہ ایسٹ  ڈیکلر  یشن  لاء ہے  لوگ بے نامی ایکٹ 2017   کو  نظر انداز  کر رہے ہیں بے نامی قانون  کا مطلب  یہ ہے کہ اثاثے  آپ نے خریدے ہیں اور اس کے فوائد  بھی آپ کو  حاصل ہیں  مگر یہ اثاثے آپ کے نام پرنہیں ہیں  یہ قانون 2017   سے موجود  ہے اور 2018   میں ایمنسٹی  اسکیم بھی آئی  تھی مگر بے نامی ایکٹ 2017  کو نافذ  نہیں کیا گیا  تھا اس قانون  کے تحت بے نامی  اثاثوں کی صورت میں جائیداد   بحق سرکاری ضبط  ہو گی  اور 5 سے 7   برس  قید بھی ہو گی۔ شبر زیدی نے کہا ہے کہ جو لوگ ٹیکس ایمنسٹی سکیم میں آئیں گے، ان کا نام خفیہ رکھا جائے گا۔ تمام اثاثے جو پاکستان میں ہیں ان پر ٹیکس 4 فیصد جبکہ بیرون ملک اثاثے رکھنے والوں کو 6 فیصد ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔ مقامی رئیل سٹیٹس کو اثاثے ظاہر کرنے پر ایک اعشاریہ پانچ فیصد ٹیکس دینا ہوگا۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے شبر زیدی نے کہا کہ ایمنسٹی سکیم پر سیلز ٹیکس کی شرح بھی رکھی گئی ہے۔س سلسلے میں صوبائی حکومتوں کو بھی اعتماد میں لے رہے ہیں۔شبر زیدی نے کہا کہ پاکستان میں قانونی کاروبار کرنا مشکل جبکہ غیر قانونی کام کرنا آسان ہے۔ بے نامی قانون سے پانچ سال کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔ اگر کسی کو کوئی غلط فہمی تو پہلے بے نامی قانون کو پڑھیں۔

مزید : صفحہ اول