کالا دھن سفید کرنے کا آخری موقع، وفاقی کابینہ نے ایمنسٹی سکیم کی منظوری دے دی، 30جون تک اندرون، بیرون ملک رقوم جائیدادیں ظاہر کرنے پر 4فیصد ٹیکس دینا ہو گا

کالا دھن سفید کرنے کا آخری موقع، وفاقی کابینہ نے ایمنسٹی سکیم کی منظوری دے ...

 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی)حکومت نے طویل مشاورت کے بعد اپنی پہلی ٹیکس ایمنسٹی اور اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم متعارف کروادی جسے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے نافذ کیا جائیگاجبکہ وزیر اعظم کے مشیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ کابینہ نے اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم کی منظوری دیدی جس کے تحت بے نامی اثاثے اپنے نام کروائے جا سکتے ہیں،سکیم سادہ رکھی گئی ہے،لوگوں کو ڈرانا مقصود نہیں، اسکیم کا مقصد ٹیکس حاصل کرنا نہیں،بیرون ملک بینک اکاؤنٹس کو واپس لانا ہوگا،جائیداد پر ایف بی آر ریٹ سے ایک فیصد زیادہ لاگو ہوگا،بے نامی قانون کے تحت بے نامی جائیداد ضبط اور سزا بھی ہوسکتی ہے، ہمارے پاس 28 ممالک میں پاکستانیوں کے ڈیڑھ لاکھ اکاؤنٹس کی تفصیلات ہیں، ایمنسٹی اسکیم کے تحت کالے دھن والوں کو آخری موقع دیا جا رہا ہے،گزشتہ روز وزیر اعظم کی زیر صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں  ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کی منظوری دے دی جسے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے نافذ کیا جائے گا۔کابینہ کے اجلاس کے دوران ٹیکس ایمنسٹی اسکیم پر بریفنگ دی گئی اور کابینہ نے اتفاق رائے سے اس کی منظوری دے دی۔   ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھانے کیلئے 30 جون تک کی مہلت دی گئی ہے۔سکیم کے تحت ملک اور بیرون ملک موجود رقوم اور جائیدادیں ظاہر کرنے پر 4 فیصد رقم جمع کرانی ہوگی، رقم ہر صورت میں بینکوں میں جمع کرانی ہوگی، پیسا پاکستان نہ لانے پر 6 فیصد رقم قومی خزانے میں جمع ہوگی، جائیداد کی مالیت ایف بی آر ویلیو سے ڈیڑھ گنا زیادہ تسلیم کی جائے گی اور اسکیم سے فائدہ اٹھانے والوں کیلئے ٹیکس ریٹرنز دینا لازمی ہوگا۔وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران ٹیکس ایمنسٹی اسکیم پر بریفنگ دی گئی اور کابینہ نے اتفاق رائے سے اس کی منظوری دے دی۔مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کابینہ اجلاس کے بعد بریفنگ میں بتایا کہ ایمنسٹی اسکیم کی منظوری دے دی گئی ہے اور اس کا بنیادی مقصد پیسا اکٹھا کرنا نہ?ں بلکہ اثاثوں کو معیشت میں ڈال کر انہیں فعال بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ کوشش کی ہے کہ یہ اسکیم بہت آسان ہو، تاکہ لوگوں کو دقت نہ ہو کیونکہ اس کے پیچھے فلسفہ لوگوں کو ڈرانا دھمکانا نہیں بلکہ قانونی معیشت میں حصہ ڈالنے کے لیے حوصلہ افزائی کرنا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس اسکیم میں ہر پاکستانی حصہ لے سکے گا،اگر ملک باہر کے اثاثے ڈکلیئر کیے جائیں گے تو شرط یہ ہے کہ وہ کسی بینک اکاؤنٹ میں رکھے جائیں۔ "ملک سے باہر لے جائی گئی رقم پر چار فیصد دے کر انہیں وائٹ کیا جاسکتا ہے اور وہ رقم پاکستان کے بینک اکاؤنٹ میں رکھنا ہوگا تاہم اگر کوئی شخص رقم وائٹ کرواکر پاکستان سیباہر ہی رکھنا چاہتے ہیں تو ان کے لیے وائٹ کرنے کی شرط چھ فیصد ہوگی۔"حفیظ شیخ نے کہا کہ رئیل اسٹیٹ کی ویلیو ایف بی آر کی ویلیو سے 1.5 گنا زیادہ ہو۔انہوں نے کہا کہ حال ہی میں بے نامی کا قانون پاس ہوا ہے جس کے تحت بے نامی اثاثے ظاہر نہ کرنے کی صورت میں ضبط کیے جا سکتے ہیں اس لیے یہاں پر سہولت دی جارہی ہے کہ بے نامی اثاثو ں کو وائٹ کرلیا جائے اس سے پہلے کہ بے نامی کا قانون حرکت میں آجائے۔حفیظ شیخ نے واضح کیا کہ اثاثے ڈیکلریشن اسکیم 30 جون تک کے لیے ہے اور اس کی مدت میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے وفاقی کابینہ سے منظوری پانے کے بعد ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کو صدارتی آرڈیننس کے ذریعے نافذ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پچھلے پانچ سال کے دوران پاکستان کی برآمدات میں رتی بھر اضافہ نہیں ہوا۔وزیرمملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے کہا کہ پچھلے سال جو اسکیم آئی تھی اس میں ٹیکس فائلر بننے کی کوئی شرط نہ?ں تھی، لیکن اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے والوں کو ہر صورت ٹیکس فائلر بننا ہوگا۔حفیظ شیخ نے کہا کہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کی تار?خ میں اضافہ نہیں کیا جائے گا جب کہ ایف بی ا?ر کے نئے چیئرمین کو مکمل اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ایف بی آر میں جو بھی تبدیلیاں کرنا چاہیں کریں۔ایک سوال کے جواب میں حفیظ شیخ نے کہا کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات اچھے انداز میں مکمل ہوئے،کچھ لوگوں کو خدشہ ہے کہ بجلی اور گیس قیمتیں بڑھیں گی لیکن ہم نے اس مشکل کو کم کرنے کے لیے تین چار فیصلے کیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تین سو یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والوں پر کوئی اثر نہیں پڑنے دیں گے، اس کے لیے بجٹ میں 216 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔مشیرخزانہ نے بتایا کہ گیس کی قیمت بڑھی تو چالیس فیصد کمی والے صارفین کو اثرات سے بچانے کے فیصلے کیے گئے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر ملکی اثاثے ظاہر کرنے والوں کو 'پاکستان بناؤ' سرٹیفیکیٹ میں سرمایہ کاری کی سفارش کی گئی جب کہ غیر ملکی اثاثے پاکستان واپس لانے کی بھی تجویز شامل ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اسکیم کا اطلاق بے نامی بینک اکاؤنٹس پر بھی ہوگا جس کے تحت بے نامی اکاؤنٹس کی ٹرانزیکشن یکم جولائی 2017 سے 30 جون 2018 تک کی ٹرانزیکشنز کا اطلاق ہوگا۔ان ڈیکلیئر سیلز ظاہر کرنے پر 3 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔حفیظ شیخ نے بتایا کہ سال 2000 کے بعد سرکاری عہدہ رکھنے والے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ نہیں اٹھاسکیں گے اور یہ اسکیم تمام افراد اور کمپنیوں پر لاگو ہوگی۔ مشیرخزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف ایگزیکٹیو بورڈ سے قرض کی منظوری میں ایک ماہ سے زیادہ لگ سکتا ہے۔دریں اثناوفاقی کابینہ  کے فیصلوں کے بارے میں بریفنگ  دیتے ہوئے  فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ  قومی ائیرلائن کے چارٹر اور ایریل ورک لائسنس تجدید،پی ٹی ڈی سی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے قیام کی منظوری اور الجیریا کے ساتھ تجارتی معاہدے کی توثیق کردی ہے جبکہ  مہنگائی اس وقت بہت بڑا ایشو ہے،مہنگائی پر قابو پانے کے لیے وزیراعظم نے صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر لائحہ عمل بنانے کی ہدایت کی ہے،ادویات کی قیمتوں میں کمی سے متعلق وزیر مملکت صحت پریس کانفرنس کریں گے۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوانن نے کہاکہ میڈیا جو عوام کی جنگ لڑ رہا ہے اس کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ عوام کے مسائل کے حل کے لیے ہم پْرعزم ہیں۔انہوں نے کہاکہ حفیظ شیخ  نے چیزوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان کا وژن ہے کہ میں اصلاحات کی جانب جانا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایم ایف کے علاوہ بھی وزیراعظم عمران خان کا ویژن ہے کہ اصلاحات ضروری ہیں۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم کی ٹیم ملکی معیشت کو بہتر بنانا کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ کابینہ میں 18 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا،وزیراعظم عمران خان کا ہر اجلاس کی طرح آج بھی عوامی ایشوز کو حل کرنا تھا۔انہوں نے کہاکہ بیرون ملک قیدیوں کو قانونی سہولتیں فراہم کرنے حوالے سے سمری تبدیلی کے بعد منظور کی گئی،ملائشیا میں بسے پاکستانیوں کو واپس لانے کے لیے فوری اقدامات کی منظوری دی گئی۔ انہوں نے کہاکہ وزیر صحت بہت جلد ادویات کے حوالے سے میڈیا کو مکمل بریفننگ دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ وفاقی کابینہ نے قومی ائیرلائن کے چارٹر اور ایریل ورک لائسنس تجدید کی منظوری دے دی،کابینہ نے پی ٹی ڈی سی کے بورڈ ا?ف ڈائریکٹرز کے قیام کی منظوری دے دی۔انہوں نے کہاکہ کابینہ نے الجیریہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کی توثیق کردیانہوں نے کہاکہ وزیراعظم پاکستانی عوام کو سہولیات فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ کابینہ اجلاس میں اٹارنی جنرل نے بریفنگ دی۔ انہوں نے کہاکہ اس قوم کا اربوں روپے بین الاقوامی معاہدوں پر لگ گیا۔ انہوں نے کہاکہ عالمی عدالت انصاف میں پاکستانی قوم کے اربوں روپے خرچ ہوئے۔انہوں نے کہاکہ ریکوڈک،  کارکے،  کلبھوشن،  سمجھوتہ ایکسپریس جیسے معاہدے شامل ہیں،ہم ایک سو ملین ڈالر گزشتہ 5 سال میں دے چکے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ دس ملین ڈالر ان کیسز کو جاری رکھنے کیلئے چاہئیں،وزیراعظم نے اٹارنی جنرل کو اہم ہدایات دی ہیں،وزیر قانون،  اٹارنی جنرل پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ کابینہ ارکان نے 22 کروڑ عوام کا مقدمہ لڑا،مہنگائی اس وقت بہت بڑا ایشو ہے،مہنگائی پر قابو پانے کے لیے وزیراعظم نے صوبائی حکومتوں کیساتھ مل کر لائحہ عمل بنانے کی ہدایت دی ہے۔

وفاقی کابینہ

مزید : صفحہ اول