خادم رضوی، پیر افضل قادری کی ضمانت منظور، 5،5لاکھ کے مچلکوں کے عوض پر رہائی کا حکم

خادم رضوی، پیر افضل قادری کی ضمانت منظور، 5،5لاکھ کے مچلکوں کے عوض پر رہائی کا ...

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے تحریک لبیک پاکستان کے رہنماؤں خادم حسین رضوی کی معمول کے مطابق جبکہ پیر افضل قادری کی عبوری طور پر ضمانت منظور کرلی ہے۔عدالت نے دونوں رہنماؤں کو 5،5لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض رہاکرنے کا حکم جاری کیاہے،عدالت نے پیر افضل قادری کی عبوری بنیادوں پر 15جولائی تک ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں حکم دیاہے کہ وہ 15جولائی کو اپنے تمام میڈیکل ریکارڈ کے ہمراہ اس عدالت میں پیش ہوں جس کے بعد ان کی درخواست ضمانت کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔جسٹس محمد قاسم خان اورجسٹس اسجدجاوید گھرال پر مشتمل ڈویژن بنچ نے دونوں رہنماؤں کی طبی بنیادوں پر ضمانتیں منظور کی ہیں۔ فاضل بنچ نے 8مئی 2019ء کو ان درخواستوں کی سماعت مکمل ہونے کے بعدفیصلہ محفوظ کرلیاتھا،جو گزشتہ روز سنادیاگیا،آسیہ بی بی کیس کے حوالے سے ان رہنماؤں نے اپنے کارکنوں کو 25نومبر 2018ء کیلئے فیض آباد میں دھرنا دینے کی کال دی تھی،حکومت نے دھرناروکنے کیلئے 23نومبر کوخادم حسین رضوی کو لاہورجبکہ اسی روزپیر افضل قادری کو گجرات سے گرفتارکرلیاتھا،ان کیخلاف دہشتگردی کی دفعات،سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اورعوام میں اشتعال پھیلانے جیسے الزامات کے تحت مقدمات پہلے ہی درج تھے، جن میں ضمانت کیلئے انہوں نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا،درخواست گزاروں کا موقف تھا کہ انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا جو دہشت گردی کے زمرہ میں آتاہو، 8مئی 2019ء کو پیر افضل قادری کی طرف سے عدالت میں بیان حلفی کی صورت میں معافی نامہ بھی داخل کیا گیا،پیر افضل قادری کے وکیل نے ان کی جانب سے بیان عدالت میں پڑھ کر سنایاتوفاضل بنچ نے ریمارکس دیئے تھے کہ اتنے لمبے بیان کی بجائے لکھتے کہ آپ کا بیان اسلام اور ملکی سالمیت کے خلاف تھا واپس لیتے ہیں، کس نے آپکو یہ اختیار دیا کہ آئینی اداروں کے متعلق فتوے جاری کریں۔پیر افضل قادری کے وکیل نے استدعا کی کہ ان کے موکل کی ضمانت منظور کی جائے کیونکہ سینکڑوں بچوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے،پیر افضل قادری نے جذباتی ہو کر بیان دیا،ان سے مولاناخادم حسین رضوی کا کوئی تعلق نہیں،عدالت کے استفسار پر سرکاری وکیل کی طرف سے بتایا گیا کہ دھرنوں سے املاک کو30 سے 32 کروڑ کا نقصان پہنچا۔عدالت نے 5صفحات پر مشتمل اپنے فیصلے میں قراردیاہے کہ عدالت نے خادم حسین رضوی کی تقرریوں کا جائزہ لیاہے،یہ معاملہ مزید انکوائری کامتقاضی ہے کہ یہ تقریریں کس حد تک اشتعال انگیز ہیں۔عدالت نے مزید قراردیا کہ ٹرائل کورٹ ہی درخواست گزارخادم حسین رضوی کے اس موقف کا جائزہ لے گی جس میں ان کا کہناہے کہ انہوں نے حضرت محمد ﷺ کی شان اوروقار کیلئے یہ تقرریں کی تھیں،عدالت نے قراردیا کہ اس کیس کے کئی شریک ملزم ضمانت پر رہاہوچکے ہیں، عدالت کے علم میں آیا کہ خادم حسین رضوی 54سال کی عمر کو پہنچ چکے ہیں، وہ جسمانی طور پر مفلوج ہیں، وہ اپنے جسم کے نچلے حصے کو حرکت بھی نہیں دے سکتے،عدالت نے اس سلسلے میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف کوآرڈیو ویسکولر(این آئی سی وی ڈی)کی رپورٹ کا تذکرہ بھی کیاہے۔عدالت نے قراردیا کہ پراسیکیوشن نے بھی خادم حسین رضوی کی میڈیکل رپورٹ کی مخالفت نہیں کی۔عدالت نے پیر افضل قادری کے حوالے سے قراردیاہے کہ ان کی عمر 68سال ہے اور وہ دل کے مریض ہیں،ان کا بائی پاس بھی ہوچکاہے، 5مارچ2019ء کی جیل کے ڈاکٹر کی رپورٹ کے مطابق وہ ذیابیطس کے بھی مریض ہیں، ان کے طبی معائنہ کیلئے سپیشل طبی بورڈ بھی تشکیل دیاگیا جس نے ان کی بیماریوں کے حوالے سے پیش کی گئی ماضی کی رپورٹوں کی تصدیق کی،وہ مختلف طبی مسائل کا شکار ہیں اور پیس میکر بھی استعمال کررہے ہیں، ان کی طبی بنیادوں پر 15جولائی تک عبوری ضمانت بعد ازگرفتاری منظور کی جاتی ہے،وہ 15جولائی کو رہائی کے بعد ہونے والے علاج اور اپنی طبی رپورٹوں کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوں گے،جس کے بعد ان کی درخواست ضمانت ک

مزید : صفحہ اول