ایم ٹی آئی ایکٹ ‘ پی ایم اے ‘ پائنیر یونٹی آمنے سامنے ‘ کنونشن کابائیکاٹ

ایم ٹی آئی ایکٹ ‘ پی ایم اے ‘ پائنیر یونٹی آمنے سامنے ‘ کنونشن کابائیکاٹ

ملتان (وقائع نگار) نشتر ہسپتال کے ڈاکٹروں کی بڑی تعداد نے ایم ٹی آئی ایکٹ ترمیمی کنونشن کا بائیکاٹ کرتے ہوئے کہا کہ پی ایم اے کی طرف سے بلایا گیا کنونشن ایم ٹی آئی کی راہ ہموار کرنے کیلئے تھا،پی ایم اے حکومت کی بی ٹیم بھی نہیں اے ٹیم کے طور پر کردار ادا کر رہی ہے گزشتہ روز پائینئر یونٹی کے اجلاس سے پروفیسر ڈاکٹر شاہد راو¿ اور پروفیسر ڈاکٹر مہناز خاکوانی کی زیر صدارت ہوا ، اجلاس (بقیہ نمبر33صفحہ12پر )

سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر شاہد راو¿ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ملتان کی پی ایم اے نے جو کنونشن کرایا جس کے مہمان خصوصی چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی ہیلتھ ڈاکٹر افضل تھے،اصل میں حکومت اور میڈم یاسمین راشد کی معاونت کیلئے تھا،اس کے نتیجے میں کچھ ترامیم کے ساتھ ایم ٹی آئی کو قبول کرنے کی تیاری کی جارہی ہے پائینئر یونٹی ایم ٹی آئی ایکٹ کو یکسر مسترد کرتی ہے، ہمیں کسی بھی شکل میں ایم ٹی آئی قابل قبول نہیں پروفیسر ڈاکٹر مہناز خاکوانی نے کہا کہ نشتر ہسپتال انتظامیہ کے تعاون،جنوبی پنجاب کی مختلف پی ایم اے تنظیموں سے کمک ، ملتان کے دیگر ہسپتالوں سے ڈاکٹرز ، نرسنگ سٹوڈنٹس ، چند نرسز ، پیرامیڈیکل سٹاف کے کچھ لوگوں کو اکٹھا کر کے بھی دو اڑھائی سو لوگ اکٹھے نا کر سکے ،ملتان کے ڈاکٹرز ، نرسز ،پیرامیڈیکل سٹاف نے ایم ٹی آئی ایکٹ میں ترامیم کیلئے بلائے گئے اجلاس کو مسترد کر دیا ہے ، ڈاکٹر آفتاب شاہ نے کہا کہ پی ایم اے ملتان ایم ٹی آئی کو مکمل طور پر مسترد کرے ، ہمیں ترمیم شدہ ایم ٹی آئی بھی قبول نہیں ، پی ایم اے جرات کا مظاہرہ کرے کمیونٹی کے مستقبل کا سودہ نہ کرے،میڈم منسٹر کو خوش کرنے کیلئے اس حد تک نہ گریں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عاطر فیاض نے کہا کہ پائینئر یونٹی ہر اس تحریک میں آگے بڑھ کر لڑے گی جو ایم ٹی آئی کے خلاف ہوگا اجلاس کے دیگر شرکائ میں ڈاکٹر عبدالمنان ، ڈاکٹر نصرت بزدار ، ڈاکٹر عاطر فیاض ، ڈاکٹر زاہد سرفراز ، ڈاکٹر شہاب خاکوانی ، ڈاکٹر یاسر زیدی ، ڈاکٹر ساجد اختر ، ڈاکٹر عارف ، ڈاکٹر آصف راو¿ ، ڈاکٹر سکندر ، ڈاکٹر شہزاد ملانہ ، ڈاکٹر کاشف راو¿ ، ڈاکٹر رانا شہزاد ، ڈاکٹر عبدالعزیز بھٹہ ، ڈاکٹر سرمد ضیاءبزدار ، ڈاکٹر عبدلقدوس ، ڈاکٹر راو¿ سجاد ودیگر درجنوں ڈاکٹرز موجود تھے۔

ایم ٹی آئی ایکٹ

مزید : ملتان صفحہ آخر