کمیٹی تشکیل ‘ ایم ٹی آئی ایکٹ آنکھیں بند کرکے منظور نہیں کرینگے ‘ ڈاکٹر محمد افضل

کمیٹی تشکیل ‘ ایم ٹی آئی ایکٹ آنکھیں بند کرکے منظور نہیں کرینگے ‘ ڈاکٹر ...

ملتان (وقائع نگار) پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ملتان کے زیراہتمام نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے ہسپتال آڈیٹوریم میں حکومت پنجاب کے مجوزہ ایم ٹی آئی ایکٹ کے خلاف ایک کنونشن منعقد کیا گیا جس میں بی ایم اے فیصل آباد سے ڈاکٹر رائے عارف پی ایم اے،بہاولپور سے ڈاکٹر مبشر صدیقی مظفر گڑھ سے ڈاکٹر یوسف لغاری وہاڑی سے ڈاکٹر غلام حسین عارف، وائی ڈی اے ریفارمز کے ڈاکٹر میاں عدنان، ینگ نرسنز ایسوسی ایشن سے نورین کوثر، پرائم گروپ بسرا میڈیکل سٹاف ایسوسی ایشن کے جنرل(بقیہ نمبر34صفحہ12پر )

 سیکرٹری مہر اشرف ساقی، ہاﺅس آفیسرز ایسوسی ایشن نشتر میڈیکل یونیورسٹی چوہدری پرویز الٰہی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی، گورنمنٹ ڈسٹرکٹ شہباز شریف ہسپتال، ایم ایم ڈی سی شجاع آباد، جلالپور پیر والا کے مختلف علاقوں کے ڈاکٹرز ممبر پنجاب اسمبلی مخدوم رضا بخاری، ملک سلیم اصغر لابر، پنجاب بار کونسل سے ملک حیدر عثمان، لیڈی ہیلتھ وزیٹر سے رخسانہ انور اور ڈاکٹر محمد افضل چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی برائے سیکنڈری ہیلتھ کیئر و ممبر پنجاب اسمبلی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ صدر ٹی ایم اے ملتان پروفیسر ڈاکٹر مسعود العرﺅف ہراج نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت پنجاب کے پہلے سے منظور کئے گئے یونیورسٹی ایکٹ کی موجودگی میں ایم ٹی آئی سسٹم سے نظام میں ٹکراﺅ کا خطرہ موجود ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ بہتر نظام کے لئے ایک تھرڈ پارٹی آڈٹ کرائے۔ اگر آڈٹ میں کسی بھی نظام کی بہتری ثابت ہو جائے تو پھر اسی سسٹم کو نافذ کردیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جانب سکیورٹی ہر سرکاری ملازم کا آئینی حق ہے اور کوئی اسے ہم سے چھین نہیں سکتا۔ڈاکٹر محمد افضل نے اپنے خطاب میں کہا کہ سٹینڈنگ کمیٹی کا بطور چیئرمین ہونے کے ناطے میں ڈاکٹروں کو یقین دلاتا ہوں کہ م اس ایکٹ کو آنکھیں بند کرکے منظور نہیں کریں گے، حکومت پنجاب نے اس سلسلے میں جو کمیٹی تشکیل دی ہے اس کی تمام تر سفارشات اور جنوبی پنجاب کی تمام پی ایم ایز کی باہمی مشاورت کے بعد اس ایکٹ میں ترامیم کی جائیں گی۔ ہماری پہلے ترجیحی ڈاکٹر، پیرا میڈیکل سٹاف۔ انہوں نے کہا کہ میری ذاتی رائے یہی ہے کہ پہلے سے موجود تمام سرکاری ملازمین پر ایم ٹی آئی ایکٹ نافذ العمل نہیں ہونا چاہئے بلکہ نئے آنے والے ملازمین پر یہ لاگو ہونا چاہئے۔ میری تجویز ہے کہ ہسپتالوں میں بورڈ آف گورنرز کی بجائے بورڈ آف ڈاکٹرز ہونے چاہئیں۔ ہماری کوشش یہی ہے کہ ایسے حالات سے دور رہا جائے جس سے ڈاکٹر سڑکوں پر احتجاج پر مجبور ہو جائیں۔ ہمیں ا±مید ہے کہ ہم بہتر نظام کے لئے انتھک کام کریں گے اور پھر ہی ہم قائد اعظم کے پاکستان کو درست معنوں میں ایک مملکت بنا سکھیں گے۔صدر پی ایم اے فضل آباد ڈاکٹر رائے عارف نے کہا کہ ایم آئی ٹی ایکٹ سے سراسر نقصان مریضوں کا ہوگا، اگر یہ ایکٹ نافذ ہو گیا تو نظام کو چلانے والے افراد اقربا پروری کرنے لگیں گے، ایسے میں اگر انہوں نے میڈیکل پروفیشن کے کلیدی عہدوں پر موجود سرجنز کو ملازمتوں سے فارغ کردیا جائے پھر ان کا متبادل سسٹم میں نہیں ہوگا اور ویسے بھی یہ ایم ایک ٹی ایکٹ ہائیر ایجوکیشن سسٹم سے متصادم کی حیثیت رکھتا ہے۔ کنونشن سے پی ایم اے بہاولپور کے ڈاکٹر مبشر صدیقی، مظفر گڑھ سے یوسف لغاری، وہاڑی سے غلام حسین عارف، وائی ڈی اے ریفارمز سے ڈاکٹر میاں عدنان نے بھی خطاب کیا اور اپنے تحفظات سے آگاہ کیا اور بی ایم اے ملتان کا مکمل ساتھ دینے کا اعلان کیا۔ پنجاب بار کونسل ملتان کے ملک حیدر عثمان ایڈووکیٹ نے ہا کہ کسی بھی حکومت کی قابلیت کو جانچنے کیلئے جن دو پیرامیٹوز کو دیکھنا ہوتا ہے وہ تعلیم اور صحت کے شعبے ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطالبات بالکل درست ہیں او روکلائ برادری آپ کے ساتھ ہے۔ تقریب سے مہر اشرف ساقی، نورین کوثر ودیگر عمائدین نے بھی خطاب کیا۔ آخر میں ایم آئی ٹی بارے ایک قرارداد پیش ی گئی جسے ڈاکٹروں اور میڈیکس نے ہاتھ اٹھاکر اس کے خلاف اپنی رائے کا اظہار کیا اور اسے مستردکردیا۔

ڈاکٹر افضل

مزید : ملتان صفحہ آخر