نئے انتخابات کیوں نہیں کروادیئے جاتے؟

نئے انتخابات کیوں نہیں کروادیئے جاتے؟
نئے انتخابات کیوں نہیں کروادیئے جاتے؟

  

خیر سے آئی ایم ایف سے چھے ارب ڈالر قرضے کا معاہدہ ہو گیا، اس کے بعد ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے بھی ہو جائے گا، اس کے نتیجے میں زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ جائیں گے ، پھر برآمدات بڑھ جائیں گی ، پھر ایکسپورٹر ملک میں ڈالر لائیں گے ، پھر پاکستانی روپیہ مستحکم ہو جائے گا، پھر انڈسٹری لگے گی ، پھر کاروبار چلے گا ، پھر انتخابات ہوں گے ، پھر عمران خان ہار جائے گا اور اگر عمران خان اس سب کے باوجود بھی ہار ہی جائے گا تو ابھی سے نئے انتخابات کیوں نہیں کروادیئے جاتے ، ایک نیا سیٹ اپ کیوں نہیں لایا جاتا ، آخر اگلے تین چار سالوں کی اذیت اور تکلیف کو عوام کا مقد ر کیوں بنایا جائے ، ایک نیا عوامی مینڈیٹ کیوں نہ لیا جائے ، سچا اور کھرا مینڈیٹ جو ازخود کسی چھو منتر سے کم نہیں ہوتا، ایک ایسا چھو منتر جس سے معیشت کا پہیہ گھومتا ہے ،

سی پیک جیسا منصوبہ 62ارب ڈالر کی سرمایہ کاری لے کر آتا ہے ، ملک کے اندر بجلی کے کارخانے لگتے ہیں اور جی ڈی پی کی شرح بڑھتی ہے ، مہنگائی کی شرح گھٹتی ہے اور ایکسپورٹر اس طرح سے

حکومت کا داماد بن کر سارے وسائل نہیں کھاتا جس طرح جنرل پرویز مشرف کے زمانے میں کھاتا رہا تھا اور اب عمران خان کی حکومت میں دوبارہ سے کھا رہا ہے ۔ اگر نواز شریف کے دور میں ملکی برآمدات نہیں بڑھیں تو کیا قیامت آئی ہوئی تھی ، عوام تو سکون میں تھی ، ہمارا ایکسپورٹر اگر نااہل ہے تو اس کو گیس اور بجلی کی قیمت میں 44ارب روپے کی سبسڈی کیوں دی جائے اور عوام کی جیبوں سے وہ پیسہ کیونکر ریکور کیا جائے ، اگر ایکسپورٹروں نے پی ٹی آئی اور شوکت خانم کو فنڈ دیئے ہیں تو عوام کے ٹیکسوں سے ان کی وصولی کیوں کروائی جا رہی ہے !

دیکھا جائے تو اس وقت پاکستان کے اندر عمران خان اور پاکستان کے حوالے سے بیرونی دنیا میں چین غیر متعلقہ آئٹم بن چکے ہیں، پاکستان کے لئے ان کا ہونا اور نہ ہونا ایک برابر ہو چکا ہے کیونکہ آئی ایم ایف ٹیک اوور کر چکا ہے جس نے ہمیں معاہدہ ہونے کی پریس ریلیز بھی جاری کرنے کی اجازت نہیں دی ، جو بولا خود بولا، جو معیار مقرر کیا خو د کیا، جو ہدف دیا خود دیا، حکومت پاکستان صرف وضاحت کے لئے رہ گئی ہے ، اللہ اللہ....آئی ایم ایف کی وضاحت اور وہ بھی عمران خان کے منہ سے ، وہ عمران خان جو 22سال تک آئی ایم ایف کو لعنت قرار دیتا رہا ، آج بتارہا ہے کہ آئی ایم ایف ایک رحمت ہے حالانکہ اگر آئی ایم ایف کے گزشتہ 22پروگراموں سے کچھ نہیں بدلا تو 23ویں پروگرام سے کیا تبدیلی آئے گی ، بس ایک بھونچال ہے جو پروگرام سے پہلے بھی تھا اور اب بھی ہے ،

جنونیوں کا جنون ہوا ہوچکا ہے مگر ان کے لئے بس یہی کافی ہے کہ نواز شریف اقتدار میں نہیں ہے ، حالانکہ وہ نہیں جانتے کہ ان کا محبوب وزیر اعظم عمران خان اب ایک خودکش وزیر اعظم بن چکا ہے جس نے اپنی اور ملک کی ساکھ کو بیچ چوراہے لا کھڑا کیا ہے ، ان کی قیادت اب ایک گونگی قیادت میں تبدیل ہو چکی ہے ، اب سے آگے سب کچھ ریموٹ کنٹرول سے کنٹرول کیا جائے گا بلکہ بقول بلاول کا لفظ لفظ درست ثابت ہونے جا رہا ہے کہ ’تم تو ایک کٹھ پتلی ہو، تمھاری ڈوریں تو کوئی اور ہلا رہا ہے ۔‘

سوال یہ ہے کہ آیا پانامہ سکینڈل کا مقصد سوائے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے اور کچھ نہیں تھا ، کیا ہماری اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ بتائے گی کہ انہیں اس غلطی کا ادراک ہے جس کا ذکر آئی ایم نے اپنی پریس ریلیز میں کیا کہ سابق حکومت کے پہلے تین سال معیشت کی بہتری اور آخری دوسال تباہی کے تھے جب پانامہ سکینڈل کا مقدمہ قائم ہوا اور پھر نواز شریف کو ایک ایسی تنخواہ لینے پر نکال باہر کیا جو اس نے کبھی لی ہی نہیں تھی ، یہ وہی بے یقینی ہے جو نئی حکومت کے نو مہینے پورے ہونے کے بعد بھی جانے کا نام نہیں لے رہی ، نو مہینے پورے ہونے پر پی ٹی آئی نے آئی ایم ایف کو جنم دے دیا جسے کوئی بھی ولدیت دینے کے لئے تیار نہیں ہے !

بے یقینی ہے تو اس بات کی کہ آئی ایم ایف سب کچھ ختم کردے گا، سوائے پاکستان کے ۔ اسے عوامِ پاکستان سے کچھ غرض نہیں ہے اور گالیاں پڑیں گی حکومت کو جسے آئی ایم ایف نے آگے جانے کے قابل چھوڑا ہے نہ پیچھے ہٹنے کے قابل چھوڑا ہے ، اب اس حکومت کے بس میں آگے بڑھنا ہے نہ پیچھے ہٹنا ہے ، بہتر ہے مڈٹرم انتخابات کروالئے جائیں !

مزید : رائے /کالم