آلو اور حکومتی فیصلہ سازی

آلو اور حکومتی فیصلہ سازی

مرحوم دادا حضور فرمایا کرتے تھے کہ بیٹا فیصلہ وہی سود مند ہوتا ہے جو بروقت اور درست کیا جائے. صحیح فیصلہ غلط وقت پر کرنے سے مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہوتے. پچھلے سال کے شروع میں جبکہ آلو کی فصل ابھی برداشت کرنا تھی تو وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب نے کسان تنظیموں کے باربار اصرار پر اور کسانوں کی جانب سے کیے گئے احتجاجی مظاہروں کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب اور وفاقی وزیر فوڈ سیکورٹی کو ہدایات دیں کہ کاشتکاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے آلو کی امدادی قیمت کا اعلان کیا جائے اور ہو سکے تو کچھ آلو خرید کر سٹور میں رکھ لیا جائے تا کہ ماہ رمضان میں غریب عوام کو آلو کی سستے داموں فراہمی ممکن بنائی جا سکے. چونکہ یہ کام پاکستانی بیوروکریسی کے ذمہ لگایا گیا تھا اس لئے انہوں نے وہی کچھ کرنا تھا جو پچھلے کئی سالوں سے کاشتکاروں کے ساتھ کرتے آ رہے ہیں. حتیٰ کہ پنجاب کے ایک بیوروکریٹ نے مجھے اپنے جوابی مراسلہ میں یہ فرما دیا کہ چونکہ پاکستان بننے سے لے کر اب تک کسی بھی حکومت نے آلو کی خرید نہیں کی اس لیے موجودہ حکومت بھی ایسے کسی کام میں ملوث نہیں ہو گی.چونکہ حکومت کی جانب سے بروقت آلو کی خریداری کا صحیح فیصلہ نہ ہو سکا جس کی وجہ سے آلو کی فصل تو مارکیٹ میں آئی لیکن غریب کسان موجودہ حکومت کو دعائیں دیتے رہے اور نقصان اٹھاتے رہے.

یہ ایسا واقعہ ہے جس کا میں چشم دید گواہ ہوں بوجہ انتہائی کوششوں کے غریب کسان اپنے آلو کی فصل سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکا اور اب رمضان کے مقدس مہینے میں عوام سستے آلو سے محروم ہو چکی ہے. آلو ایک مہنگی فصل ہے اور آلو کا کاشتکار آلو پیدا کرنے پر 8 روپے فی کلو گرام خرچ کرتا ہے. لیکن بروقت مناسب حکومتی پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے بیچارا کاشتکار 4 روپے فی کلو گرام آلو فروخت کرنے پر مجبور تھا. اس وقت 70 فیصد آلو کے کاشتکار تقریباً کنگال ہو چکے ہیں اور یہ ایسی فصل ہے جس کا کاشتکار اس فصل کے منافع سے اپنے بچوں کی تعلیم اور شادیوں کے اخراجات کا مداوا کرتا ہے. اس سلسلے میں محترم جہانگیر ترین صاحب جو کہ خود ایک اچھے کاشتکار ہیں اور کاشتکاروں کے مسائل سے متعلق بخوبی آگاہ ہیں, وہ بھی اپنی سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے سوائے اخباری بیان دینے کے کوئی خاطر خواہ عملی اقدامات نہ اٹھا سکے. ابھی بھی وقت ہے کہ پاکستان کے چھوٹے کاشتکاروں کے متعلق ایک جامع پالیسی مرتب کی جائے. اس وقت ملک میں صوبائی زرعی ادارے اپنے تئیں اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق کوششیں کر رہے ہیں لیکن حکومت کی کوئی سنجیدہ اور واضح پالیسی نظر نہیں آ رہی. اب جبکہ IMF کی طرف سے ہر طرح کی سبسڈی ختم کرنے کو کہا جا رہا ہے تو شنید ہے کہ زرعی کھادوں کے اوپر دی گئی حکومتی سبسڈی کو بھی ختم کر دیا جائے گا جس سے چھوٹے کاشتکاروں پر اخراجات کا اضافی بوجھ متوقع ہے.

مزید برآں ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے ملک بھر کے کاشتکار متاثر ہو رہے ہیں اور ملک میں ضلع اور تحصیل کی سطح پر بروقت موسمی تبدیلی کی آگاہی کا کوئی مناسب انتظام نہیں ہے. لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ چائنہ اور ترقی یافتہ مغربی ممالک کی جدید ٹیکنالوجی اور طریقہ کار کو استعمال میں لایا جائے تاکہ نچلی سطح پر کاشتکار کو بروقت اپنے موسمی حالات کا اندازہ ہو اور اس کے مطابق فصلوں کی کاشت کے متعلق رہنمائی حاصل ہو سکے. اس کے علاوہ کاشتکار کو اس کی فصلوں کی پیداوار کی مناسب قیمت نہیں ملتی جبکہ عام خریدار مہنگے داموں سبزیاں اور پھل خرید رہا ہوتا ہے. ساری رقم "middle man" کی جیب میں چلی جاتی ہے اور بیچارا کسان کم قیمت پر اپنی فصلوں کی پیداوار بیچنے پر مجبور ہوتا ہے. اس سلسلے میں حکومت کو عملی اقدامات اٹھانے چاہئیں. اگر کوئی راہ نہ سوجھے تو کسی سیانے سے مشورہ کر لینا چاہیے.

وزیراعظم جناب عمران خان صاحب سے گزارش ہے کہ ملکی سطح پر ہر فصل کے ماہرین کی ایک زرعی کونسل بنائی جائیجو اپنی سفارشات پر عملدرآمد کی پابند ہو. بصورت دیگر ہمارے چھوٹے کاشتکار بیوروکریسی کے کاغذی جمع خرچ کی نظر ہو جائیں گے اور حکومت کو "سب اچھا " کی رپورٹ ارسال ہوتی رہے گی اور چھوٹے کاشتکار پچھلی حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت کو بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھا کریں گے.

مزید : رائے /کالم