دانیال عزیز نے پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ چیلنج کر دیا 3رکنی فل بنچ تشکیل 

     دانیال عزیز نے پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ چیلنج کر دیا 3رکنی فل بنچ تشکیل 

لاہور(نامہ نگارخصوصی)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اورسابق وفاقی وزیر دانیال عزیز چودھری نے بھی پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019 ءکولاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا جبکہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے نئے بلدیاتی نظام کےخلاف دائر درخواستوں کی سماعت کےلئے جسٹس مامون رشید شیخ ،جسٹس شاہد وحیداور جسٹس جوادحسن پر مشتمل 3رکنی فل بنچ تشکیل دےدیاہے ،جو اب اس نوعیت کی تمام درخواستوں کی مشترکہ سماعت کرےگا۔جسٹس مامون رشید شیخ نے پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019ءکے خلاف دائر درخواستیں باقاعدہ سماعت کےلئے منظور کرتے ہوئے انکی مزید سماعت کیلئے فل بنچ تشکیل دینے کی سفارش کی تھی۔دانیال عزیز کی درخواست میں موقف اختیار کیا گیاہے کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ مجریہ 2019ءآئین کے آرٹیکل 32 اور140(اے) کی صریحاً خلاف ورزی ہے،ضلعی حکومت،کونسل کو سرے سے ختم کر دیا گیا جو کہ خلاف آئین و قانون ہے،نئے نظام میں انتخاب کوجماعتی اور غیر جماعتی دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا جو کہ اعلیٰ عدالتوں کے فیصلہ جات اور آئین کے آرٹیکل17 کی صریحاً خلاف ورزی ہے، لوکل گورنمنٹ کی 5 سال کی میعاد کو غیر قانونی و غیر آئینی طور پر ختم کرنا سیکشن30 ایکٹ 2013 ءاور آرٹیکل 32 اور140(اے)کی خلاف ورزی ہے، لوکل گورنمنٹ کی سیاسی ، انتظامی اور مالی اختیار اور ذمہ داری کو پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے عملاً سلب کر لیا ہے، لوکل گورنمنٹ ایکٹ2019 ءاور نوٹیفکیشنز کو خلاف آئین و قانون قرار دیتے ہوئے کالعدم اور لوکل گورنمنٹ کی آئینی خود مختاری کو یقینی بنایا جائے۔دوسری طرف سابق وفاقی وزیر دانیال عزیز نے لاہور ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان نے بلدیاتی اداروں کے معاملے پر بھی یو ٹرن لے لیا ہے، تحریک انصاف کی حکومت کہتی کچھ ہے اور کرتی کچھ ہے، پہلے کہتے رہے کہ مقامی حکومتوں کو بااختیار بنائیں گے مگر 8 ماہ سے فنڈز روک لئے، غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کروانے کا مقصد امیدواروں پر دباﺅبڑھانا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ نئے قانون سے بلدیاتی اداروں کی خود مختاری کو سلب کر لیا گیا ہے، مالی اور انتظامی معاملات لےکر بلدیاتی اداروں کو بے وقت کر دیا گیا ہے۔

دانیال عزیز

مزید : صفحہ آخر