اور اب جعلی چینی شادی گینگ خیبرپختونخوا میں !

اور اب جعلی چینی شادی گینگ خیبرپختونخوا میں !

بیاہ رچانے کے سبز باغ دکھا کر دھوکہ دہی سے پاکستانی لڑکیوں کو اپنے چنگل میں پھنسانے کے بعد بدکاری پر لگانے والے چینی گروہ کی بازگشت پنجاب کے بعد خیبرپختونخوا میں بھی سنائی دینے لگی ہے کہ اب چینی شادی گینگ کی خیبر پختونخوا میں بھی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے جس کے مطابق پشاور کے علاقہ تہکال کی رہائشی 19 سالہ مسیحی لڑکی مسکان کی شادی 27 فروری کو چینی باشندے سو بینجی سے ہوئی جس کے بعد مسکان شوہر کے ساتھ اسلام آباد منتقل ہوگئی۔مسکان کی والدہ فریدہ بی بی کا کہنا ہے کہ اسلام آباد منتقلی کے بعد سے میرا بیٹی کے ساتھ رابطہ نہیں کروایا گیا، جس کی وجہ سے میں بہت پریشان ہوں کیونکہ معلوم نہیں ہے کہ میری بیٹی کس حال میں ہوگی۔مسکان کا رشتہ مقامی شہری یوسف بھٹی اور اس کی اہلیہ نے کروایا تھا، چینی داماد نے بیٹی کو شادی کی تیاری کے لئے ڈیڑھ لاکھ روپے نقد بھی دیئے تھے، یوسف بھٹی نے اپنی سوتیلی بیٹی کی شادی بھی چینی باشندے سے کروائی ہے۔ ملک کے مختلف شہروں سے اس قسم کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں اور ایف آئی اے نے ان دھوکہ باز چینی باشندوں کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے اور وفاقی دارالحکومت سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں چھاپوں کے دوران 40چینی باشندوں سمیت مجموعی طور پر 88 افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔ دوسری طرف معاملے کی چھان بین کیلئے بیجنگ سے ٹیم پاکستان پہنچ گئی جس نے اعلیٰ پاکستانی حکام سے ملاقاتیں بھی کیں اور ہرممکن تعاون کا وعدہ بھی کیا۔ سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے خاصی شکایات مل رہی ہیں جن میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد اپنے ساتھ ہونے والے فراڈ کی کہانیاں سناتی دکھائی دے رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان ان شکایات کا سخت نوٹس لے اور اس حوالے سے جوائنٹ انوسٹی گیش ٹیم تشکیل دے کر معاملات کا باریک بینی سے جائزہ لے ، پہلے مرحلے میں ان تمام خاندانوں کی فہرست تیار کی جائے جو اس گروہ کی ریشہ دوانیوں کا شکار ہوئے ہیں، بہت سے اہل خانہ ایسے ہوں گے جو اپنی بدنامی کے خوف سے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، اس لئے متعلقہ ٹیم کو فہرست کی تیاری کے حوالے سے خاصی محنت کرنا ہو گی پھر اس بارے میں کوئی ٹھوس لائحہ عمل طے کر کے چینی سفارت کاروں کے ساتھ گفتگو کی جائے اور ایسی تمام پاکستانی لڑکیوں کو بازیاب کروایا جائے جو چینی دھوکے بازوں کے چنگل میں ہیں۔ تحقیقات کے دوران اس امر کا خاص خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ جو پاکستانی بچیاں چینی باشندوں سے بیاہ کر خوش و خرم زندگی گزار رہی ہیں انہیں کسی نئے امتحان میں نہ ڈالا جائے۔

چند روز قبل خبر آئی تھی کہ الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا کے انضمام شدہ قبائلی علاقہ جات میں 2 جولائی کوانتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے لیکن اب جو صورت حال دکھائی دے رہی ہے اس سے محسوس ہوتا ہے کہ شائد مذکورہ تاریخ کو الیکشن نہ ہو پائیں اور انہیں ملتوی کر دیا جائے، گزشتہ روز قومی اسمبلی میں خیبرپختوانخوا کے قبائلی اضلاع کی قومی اور صوبائی نشستوں میں اضافے سے متعلق 26ویں آئینی ترمیم کی متفقہ منظوری دے دی گئی جس کے تحت ان اضلاع میں قومی اسمبلی کی نشستیں 6سے بڑھ کر 12اور صوبائی اسمبلی کی 16سے بڑھ کر 24ہو جائیں گی۔آئین میں ترمیمی بل 2019ءمنظور کرنے کی تحریک پشتون تحفظ موومنٹ سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی محسن داوڑ نے پیش کی تھی جس کے حق میں حکومتی اراکین سمیت 288ارکان نے ووٹ دیا۔چھ روز قبل ای سی پی نے قبائلی اضلاع میں 16 کے پی اسمبلی نشستوں کیلئے انتخابی شیڈول جاری کیا تھا کہ پولنگ 2 جولائی کو ہوگی۔اس اعلان کے بعد ضم ہونے والے اضلاع کے باشندوں میں خوشی کی ایک لہر دوڑی تھی اور انتخابی سرگرمیوں کا آغاز بھی ہو گیا تھا لیکن موجودہ صورت حال نے ایک دفعہ پھر ابہام کو جنم دیا ہے، صوبائی حکومت کو چاہئے کہ معاملات کو دانشمندی سے حل کرے اور ان علاقوں کے رہائشیوں کو حق رائے دہی کے استعمال میں تاخیر کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

جدید سفری سہولیات کی فراہمی کے لئے شروع کئے گئے بی آر ٹی پر رمضان المبارک کے دوران بھی بڑی تیزی سے کام جاری ہے اور بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے میں 22سٹیشنوں پر الیکٹرانکس سیڑھیوں کی تنصیب کاکام مکمل ہوگیا ہے جبکہ ہائی پاور 200کے وی کے 22ٹرانسفارمر کی تنصیب بھی کردی گئی ہے ۔ جنریٹیرز کی کی تنصیب کاکام پہلے سے ہی مکمل ہو چکا ہے ۔ عید الفطر کے بعد بی آر ٹی کے روٹس پر آزمائشی بنیادوں پر دوبارہ بسیں چلیں گی۔ اس حوالے سے یہ اطلاع بھی آئی ہے کہ بی آر ٹی کے مختلف سائٹس کے ٹھیکیداروں نے رقم کی عدم ادائیگی پر شدید احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ بی آرٹی پشاور کے مین کنٹریکٹر کے ساتھ REACH-1 میں بطور سب کنٹریکٹر 27نومبر 2017کوان کا معاہدہ ہوا ،بی آر ٹی میں اپنے ٹھیکے کا کام مکمل کیا مگرکمپنی کی طرف سے ادئیگیاں نہیں ہوئیں اور مذکورہ کمپنی بلوں کی ادائیگی میں ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔ ان حالات کا بھی باریک بینی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔

صوبائی دارالحکومت میں صفائی ستھرائی اور آب نوشی کی سہولیات کی فراہمی پر مامور ادارے واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز پشاور (ڈبلیو ایس ایس پی) کے ملازمین کی استعداد کار بڑھانے کے لئے تربیت کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے جو اکتوبر تک جاری رہے گا مجموعی طور ساڑھے تین ہزار سے چار ہزار تک ملازمین کو تربیت دی جائے گی تربیت میں انہیں حفاظتی اقدامات، ہنگامی حالات میں دوران فرائض احتیاطی تدابیر، ممکنہ خدشات سے نمٹنے، بیماریوں، انفیکشن سے بچاﺅ اور دیگر ضروری پہلوﺅں سے آگاہی اورر ہنمائی دی جارہی ہے۔ ادارے کے سربراہ سید ظفر علی شاہ آج کل عمرے کی سعادت حاصل کرنے سعودی عرب گئے ہوئے ہیں اور انہوں نے اپنی روانگی سے قبل ملازمین کی تربیت کے لئے خصوصی پروگرام تشکیل دیا تھا جس پر تیزی سے عمل درآمد جاری ہے، جسے ہر سطح پر خوب سراہا جا رہا ہے۔ امید کی جانی چاہئے کہ ڈبلیو ایس ایس پی کے تربیت یافتہ اور ہنر مند اہلکار عوامی شکایات کے ازالے کے لئے سود مند ثابت ہوں گے ۔

مندرجہ بالا سطور تحریر کی جا چکی تھیںکہ افسوسناک اطلاع ملی کہ انضمام شدہ قبائلی علاقے کے امور سے متعلق وزیراعلیٰ خیبر کے مشیر اجمل وزیر کے والد بزرگواراللہ کو پیارے ہو گئے ہیں، ہم ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور دعا گو ہیں کہ خدا تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور اجمل وزیر سمیت غم زدہ اہل خانہ کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق دے۔

مزید : ایڈیشن 1