قومی اسمبلی میں نئی تاریخ بن گئی، نجی آئینی ترمیم متفقہ طور پر منظور

قومی اسمبلی میں نئی تاریخ بن گئی، نجی آئینی ترمیم متفقہ طور پر منظور

چشم فلک نے حالیہ پارلیمانی تاریخ کا پہلا انوکھا واقع دیکھا اور دنگ رہ گئی کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان آئے۔ا نہوں نے خطاب کیا کسی پر تنقید نہ کی، روایت ہی تبدیلی کر دی، جواب میں اپوزیشن کی طرف سے بھرپور رواداری کا مظاہرہ بھی ہوا اور ان کا خطاب پورے سکون سے سنا گیا۔ تحریک انصاف کے حضرات نے ڈیسک بجا کر اپنے راہنما کو داد بھی دی، گزشتہ نو ماہ سے یہ ایوان ہنگامہ آرائی ہی کے منظر دیکھتا رہا اور یہاں تک کہا گیا کہ اگر اپوزیشن کو وقت نہ دیا گیا تو قائد ایوان عمران خان کو بھی ایوان میں آنے دیں گے نہ تقریر کرنے دیں گے۔ یہ شاید سابق فاٹا اور حال پختون خوا کے مزید اضلاع میں نمائندگی میں اضافے کے بل کی وجہ تھی کہ سب فریق ان متاثرہ قبائلی بھائیوں کے حق میں بول رہے تھے۔

ایوان میں یہ ترمیم جو آئین میں مقصود ہے سابق فاٹا سے قومی اسمبلی کے آزاد رکن اور پی ٹی ایم کے راہنما محسن داوڑ نے پیش کی تھی۔ جو مکمل اتفاق رائے سے منظور ہوئی۔ یہ بھی قومی اسمبلی کی پارلیمانی تاریخ کا پہلا ہی واقع ہے کہ ایوان میں ایک نجی بل کسی اختلاف کے بغیر متفقہ طور پر منظور کیا گیا وہ بھی آئین میں ترمیم سے متعلق تھا جس کے لئے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے، رائے شماری بھی خفیہ بیلٹ سے ہوئی اس کے باوجود حق میں 288 ووٹ آئے اور مخالفت کسی نے نہ کی یوں یہ مرحلہ بحسن و خوبی طے ہوا اور اب اگلا مرحلہ سینٹ سے بھی اتنی ہی اکثریت سے منظوری ہے جو یقیناً مل جائے گی۔

یہ بل گزشتہ سے پیوستہ سیشن میں پیش کیا گیا۔ تاہم اسے اس اجلاس تک مجلس قائمہ میں رکھا گیا اور پس پردہ (بیک ڈور) ڈپلومیسی چلتی رہی، اب لوگ کریڈٹ شاہ محمود قریشی یا سپیکر اسد قیصر کو دیتے ہیں کہ ان کی کاوشوں سے نہ صرف اپوزیشن کو منایا گیا بلکہ وزیر اعظم کو بھی آمادہ کیا گیا کہ وہ اس مرحلے پر تحمل کا ثبوت دیں اور تنقید سے گریز کریں۔ ایسا ہوا، ماحول بہتر ہوا، اب یہ توقع کی جانے لگی ہے کہ مستقبل میں حالات بہتر صورت اختیار کریں گے اور وزیر اعظم عمران خان بھی ایوان میں آنا شروع کر دیں گے۔ یہ درست ہے کہ پارلیمان میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے اپنے اپنے نظریات اور خیالات ہوتے ہیں لیکن جمہوری عمل کو بہتر چلانے کے لئے برداشت اور تحمل ضروری ہے۔ اس ماحول کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فریقین کو اپنے ”ہاکس“ کو بھی نرم کرنا ہوگا اور یہ اسی طرح ممکن ہے کہ تنقید کو ذاتیات تک نہ لے جایا جائے، بلا شک کرپشن اور بد عنوانی کی بھی بات کی جائے لیکن یہ سب کے لئے ہونا چاہئے۔ چور، ڈاکو نام لے کر کہنا مناسب نہیں۔ اسی طرح بلاول بھٹو اور خواجہ آصف کو بھی احتیاط کرنا ہو گی۔ کہ دوسروں کی دل آزاری نہ ہو کہ وہ جواب دیں۔

حکومت کی نئی مالیاتی ٹیم اور آئی ایم ایف کے وفد کے درمیان عوام پر مزید معاشی اور اقتصادی بوجھ ڈالنے کے معاہدے پر اتفاق ہو گیا جس کے بعد آئی ایم ایف چھ ارب ڈالر کا قرض تین سال کے اندر دے گا اور اس کے لئے نہ کہتے ہوئے بھی اس عالمی مالیاتی ادارے کی تمام شرائط منظور کر لی گئی ہیں۔ ان کے تحت بجلی اور گیس مہنگی ہو گی اور نرخ عام آدمی کے لئے ناقابل برداشت ہوں گے اب بھی یہ نرخ تکلیف دہ ہیں۔ جب اضافہ ہوگا تو پریشانی بڑھ جائے گی۔ اس کے علاوہ آئی ایم ایف کی تو یہ شرط بھی تسلیم کر لی گئی کہ سات سو ارب روپے کے نئے ٹیکس آئندہ بجٹ میں لگائے جائیں گے۔ اور ان کا بوجھ بھی عوام پر ہی منتقل ہوگا، تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اراکین نے مہنگائی کے حوالے سے اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا تو وزیر اعظم نے تسلی دی اور کہا کہ عام آدمی پر ٹیکسوں کا بوجھ نہیں آئے گا۔ حالانکہ یہ ممکن نہیں۔ یوٹیلیٹی کے نرخوں میں اضافہ ہو یا کسی بھی ٹیکس کا نفاذ اس کا براہ راست یا بالواسطہ بوجھ عوام پر ہی آتا ہے۔ اب معلوم نہیں وزیر اعظم کے نزدیک وہ کون سے عوام ہیں جن پر بوجھ نہیں آتا۔ بازار میں آٹا مہنگا اور روٹی دس روپے کی ہو گئی اور دال کی کٹوری اسی روپے میں ملنے لگی تو یہ عام آدمی تنور سے ایک سو روپے میں دال روٹی کھائے گا۔ بہر حال اس صورت حال سے سابق حکمرانوں پر الزام لگا کر چھٹکارا حاصل نہیں کیا جا سکتا کہ متاثر تو اس حکومت کے دور میں ہو رہے ہیں۔

ادھر مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے مرکزی اور دوسری صفوں کے راہنما نیب کے شکنجے میں ہیں۔ سابق وزیر اعظم نوازشریف جیل میں اور سابق صدر آصف علی زرداری احتساب عدالتوں کے چکر لگا رہے ہیں۔ نیب راولپنڈی نے ان کو آج (بدھ) کے لئے طلب کیا ہے، جبکہ گزشتہ روز ان کی ضمانت میں توسیع کا معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں تھا توسیع نہ ہونے کی صورت میں گرفتار بھی ہو سکتے ہیں، اس سے پیپلزپارٹی کو احتجاج کا موقع ملے گا۔

مزید : ایڈیشن 1