گورنر سندھ عمران اسماعیل نے سندھ تقسیم والا بیان واپس لیا، پی ٹی آئی کی حمائت بھی نہیں تھی

گورنر سندھ عمران اسماعیل نے سندھ تقسیم والا بیان واپس لیا، پی ٹی آئی کی حمائت ...

گورنر سندھ عمران اسماعیل کا صوبہ سندھ کی تقیسم کا بیان پیپلز پارٹی نے آڑے ہاتھوں لیا اور ان کو یہ بیان دینا پڑا کہ ان کا مقصد یہ نہیں تھا۔ تحریک انصاف سندھ کی جانب سے بھی اس بیان کی تائید نہیں کی گئی ، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کے صوبے ، صوبائی خودمختاری کے بعد بھی مسائل کو درست انداز سے حل کرنے کی جانب نہیں بڑھ سکے۔ پاکستان انٹلیکچوئیل فورم کراچی میں قائم ہونے والے اےک نئے تھنک ٹینک نے پاکستان کو مزید صوبوں میں تقسیم کرنے کی بجائے تمام ڈویژنز کو ریجن میں تبدیل کرنے کی تجویز دی ہے اور ایم کیو ایم نے بھی تقریباً ایسے ہی فارمولے کی حمایت کی ہے۔تھنک ٹینک کے ذمہ داران کا خیال ہے کہ ڈویژن ایک ایسا انتظامی یونٹ ہے جو اس ڈویژن میں بسنے والے افراد کے 80 فیصد سے زائد مسائل ان کی دہلیز پر حل کرسکتا ہے۔ ملک ترقی کے راستے پر تیزی سے گامزن ہوسکتا ہے۔ تعلیم ، صحت، روزگار، ٹرانسپورٹ ، سیکورٹی امن وامان کے مسائل جلد حل کیے جاسکتے ہیں۔

لاپتہ افراد کی حمایت میں ان کے لواحقین کا دھرنا صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے گھر کے باہر جاری ہے، دھرنے کے شرکاءکو پولیس کی طرف سے بہت تنگ کرنے کی خبریں بھی آرہی ہیں، البتہ دھرنے کے منتظم اسے سوشل میڈیا پر زندہ رکھے ہوئے ہیں، ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق لاپتہ افراد کی جو لسٹ منتظمین نے تیار کی ہے، ان کی تعداد 91ہے۔ جن میں کراچی سے تعلق رکھنے والے 54افراد ہیں۔ دو ہفتے کے دھرنے کے بعد 32 افراد کو کورٹس میں پیش کیا گیا ہے، چار افراد کو چھوڑ دیا گیا تھا۔ایک لاپتہ شخص پنجاب کے شہر لیہ سے تعلق رکھتا ہے، اسے بھی کورٹ میں پیش کیا جاچکا ہے، چار افراد کے لیے ملٹری کورٹس ملیر میں پیش کرنے کا حکم تھا، لیکن ابھی ملک میں ملٹری کورٹس کام نہیں کررہیں، اس لیے گورنر سندھ عمران اسماعیل سے دھرنا منتظمین کے مذاکرات کے بعد انہیں انسدادِ دہشتگردی کی عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔ دھرنے کے شرکاءنے عزم ظاہر کیا ہے کہ تمام افراد کی بازیابی تک جدوجہد جاری رہے گی، ان کا مطالبہ ہے کہ تمام افراد کو رہا کردیا جائے، یا پھر عدالت میں پیش کیا جائے۔

سانحہ 12مئی 2007 کے زخم ابھی تک تازہ ہیں کیونکہ سزا اور جزا کا عمل 12 برس گزرنے کے باوجود مکمل نہیں ہوسکا، پولیس چیف ڈاکٹر امیر شیخ کے مطابق 36 مقدمات کے چالان پیش کیے گئے ہیں۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ 12 مئی کے کئی کردار موجودہ حکومت کا حصہ ہیں۔ ان کا اشارہ اگر ایم کیو ایم کی جانب ہے تو حیرت ہے کیونکہ 2008 میں بننے والی پیپلزپارٹی کی حکومت نے ایم کیو ایم کو اپنا حکومتی اتحادی بنایا تھا ۔ لگتا ہے بلاول بھٹو زرداری بہت معصوم ہیں ، ان کے سیاسی اساتذہ ان کو تاریخی سبق دینے میں بخل سے کام لے رہے ہیں۔ تاریخ سے واقفیت کے بغیر ان کے بیانات تیار کیے جاتے ہیں۔یوم مزدور پر انہوں نے عوامی شاعر حبیب جالب کی شاعری پڑھی ، حالانکہ ان کے نانا مرحوم ذوالفقار علی بھٹو نے ہی حبیب جالب کو پابند زندان کیا تھا۔ اور اس عوامی شاعر کی بیشتر شاعری بھٹو صاحب کے خلاف ہی تھی۔ اسی طرح 18 اکتوبر کے سانحہ کارساز کا جن پر الزام لگایا گیا تھا، ان میں اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی بھی تھے۔ جو پیپلز پارٹی کے اتحادی بنے اور ڈپٹی وزیراعظم بنائے گئے۔

ایسا ہی ایک واقعہ گذشتہ دنوں قومی اسمبلی میں پیش آیا، جب خواجہ آصف نے پاکستان کے مسائل کا ذمہ دار دو فوجی حکمرانوں کو قرار دیا، ان میں سابق صدر جنرل ضیاءالحق اور سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف اشارہ کیا گیا، لیکن خواجہ آصف اگر حقیقت پر مبنی بات کرتے تو سب سے پہلے اپنے قائد میاں نواز شریف کی مذمت کرتے، جنہوں نے ضیاءالحق کی زیرسایہ سیاست کا آغاز کیا اور اعلیٰ عہدے حاصل کیے یا پھر وہ اپنے والد گرامی خواجہ صفدر مرحوم کے بارے میں کچھ اظہار رائے کرتے جو جنرل ضیاءالحق کے دست راست تھے۔ اسی طرح ان کے ہمراہ چوہدری احسن اقبال بھی دوران تقریر موجود تھے، جن کی والدہ گرامی آپا نثار فاطمہ، جنرل ضیاءالحق کی منہ بولی بہن تھیں۔ گویا ہماری سیاسی تاریخ ایسے ہی واقعات سے بھری ہوئی ہے جس میں آج کے مخالف کل کے اتحادی اور آج کے اتحادی کل کے دشمن، عام سی بات ہے ۔ اگر ہم اپنی سیاسی تاریخ کو ایک نئی جہت دینا چاہتے ہیں تو ”Truth & Recancilation“ کا فارمولا اپنانا ہوگا تاکہ گذشتہ راہ صلوٰة آئندہ راہ احتیاط ۔ بہرحال سانحہ 12 مئی کے تمام واقعات کا جائزہ لینے کے لیے کوئی کمیشن قائم نہیں ہوا، اگر ایسا ہوجاتا تو بہت سے راز افشا ہوتے اور سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان جو کہ تمام معاملات کے اصل محرک تھے، ضرور زیربحث آتے۔

جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں شہری سندھ کو مکمل طور پر گورنر سندھ ہی چلا رہے تھے اور خاص طور پر کراچی کے سیاسی معاملات پر ان کا کنٹرول تھا۔ حیرت کی بات ہے کہ ان کا نام اس طرح چھپایا گیا ہے جس طرح جنرل پرویز مشرف کے بہت سے سیاسی معاملات کے پیچھے سابق آرمی چیف جنرل پرویز کیانی کو زیربحث نہیں لایا گیا۔ محترمہ بینظیر بھٹو نے مذاکرات کے لئے جنرل پرویز کیانی (اُس وقت سربراہ آئی ایس آئی) پر بھروسہ کیا۔ این آر او کروانے میں جنرل پرویز کیانی کی فلاسفی شامل تھی حتی کہ باوثوق ذرائع کے مطابق جنرل پرویز مشرف کے خلاف وکلاءموومنٹ بھی انہی کا برین چائلڈ (Brain child) تھا۔ محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت پر پیپلز پارٹی جنرل پرویز مشرف کو ذمہ دار قرار دیتی ہے ، لیکن جنرل پرویز کیانی کو کلین چٹ کیوں دی اور بعد میں پیش آنے والے بہت سے اہم واقعات جن میں مئی میں ہی اسامہ بن لادن کا واقعہ ہوا ، اس پر بھی ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ آج تک منظرعام پر نہیں آئی۔

جسٹس (ر) جاوید اقبال نے ایک مرتبہ یہ بیان بھی دیا تھا کہ ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر لائی جائے، حیرت ہے کہ قومی اسمبلی اور سینٹ میں اپوزیشن آئی ایم ایف پر تو شور مچارہی ہے، لیکن اس رپورٹ کو شائع کرنے کا مطالبہ نہیں کررہی۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے اس کمیشن سے اپنے لیے استثنیٰ حاصل کرلیا تھا، لیکن واشنگٹن پوسٹ میں کالم ضرور شائع کروایا تھا۔ ایسے ہی حمود الرحمن کمیشن جو سانحہ مشرقی پاکستان پر بنایا گیا ، سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے لیے استثنیٰ حاصل کیا تھا۔ حالانکہ وہ کئی واقعات کے عینی شاہد اور اہم کردار تھے۔ اسی لیے پاکستان کو ”Truth & Recancilation“ کی اشد ضرورت ہے، ورنہ یاد ماضی ایک عذاب کی طرح ہمارا پیچھا کرتی رہے گی، ہمیں آگے بڑھنے کے لیے تاریخ کو درست کرنا ضروری ہے۔

مزید : ایڈیشن 1