پولیس افسران کے تبادلوں کا اختیار فرد واحد کے پاس نہیں: صوبائی وزرائ

پولیس افسران کے تبادلوں کا اختیار فرد واحد کے پاس نہیں: صوبائی وزرائ

کراچی (اسٹاف رپورٹر)صوبائی وزراءنے سندھ پولیس کے لیے نئی قانون سازی کے معاملے پرحزب اختلاف کی جماعتوں کے بائیکاٹ کو پوائنٹ اسکورنگ قراردیتے ہوئے کہاہے کہ مجلس عمل اورتحریک لبیک نے پولیس ترمیمی بل کی حمایت کا اعلان کیا ہے،اپوزیشن کی دیگرجماعتوں کے محتاج نہیں ہیں انہیں پولیس ترمیمی بل پر مشاورت کا موقع بھی دیا اوران کی تجاویز بھی شامل کیں ۔ صوبائی وزراءکا کہنا تھا کہ پنجاب، کے پی اور بلوچستان پولیس میں تبادلے سی ایم اور آئی جی کے مشاورت سے ہوتے ہیں سندھ میں ہونے والی قانون سازی کی مخالفت سمجھ سے بالاترہے۔ ان خیالات کا اظہار صوبائی وزرا اسماعیل راہو، سعید غنی ، امتیاز شیخ، مرتضی وہاب نے سندھ اسمبلی کی سیلیکٹ کمیٹی کے اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔حکمران جماعت پیپلزپارٹی کے صوبائی وزراءنے سندھ پولیس کے لیے من پسند قانون سازی کے اپوزیشن کے الزام کومسترد کرتے ہوئے کہاکہ پولیس کے اعلی افسران کے تبادلوں کا اختیارفرد واحد کے پاس رکھنے کا تاثر غلط ہے،ہم نے تبادلوں سمیت دیگراختیارات پبلک سیفٹی کمیشن کو منتقل کرنا چاہتے ہیں سندھ حکومت کے پاس کوئی اختیار نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ سیلیکٹ کمیٹی میں اپوزیشن جماعتوں کواعتماد میں لیا ہے اپوزیشن کو تمام اجلاسسز میں اعتماد میں لیا اور تجاویزبھی لیں اب سمجھ میں نہیں آیا کہ اپوزیشن نے سیلیکٹ کمیٹی کا بائیکاٹ کیوں کیا ہے سندھ پولیس کے لیے نئی قانون سازی کے لیے اپوزیشن کے ساتھ اعتماد سازی کے ساتھ مشاورت آگے بڑھ رہی تھی اور ہم ایسی قانون سازی کی طرف بڑھ رہے تھے کہ پولیس کو جوابدہ بنانے کا قانون تشکیل پاسکے،ملک کے دیگر صوبوں میں جو قانون ہے اس کو بہترانداز میں نافذ کرنے کے لیے کام کررہے تھے ہم اپوزیشن کے دو نہیں ایک ہاکستان کے مطالبے پر کام کررہے تھے،ہم نے چار اجلاس کیئے آج آخری اجلاس تھا تو اپوزیشن نے شرکت نہیں کی اس کے باوجود ہم نے اپوزیشن کی عدم شرکت پر ایک اور موقع دیا ہے تاکہ وہ اجلاس میں شریک ہوسکیں ہماری کو شش ہے کہ متفقہ قانون بنائیں ، سندھ حکومت نے نیک نیتی کے تحت آئی جی کو بھی پہلے اجلاس میں مدعو کیا تھا،سول سوسائٹی کو بھی مدعو کیا انہوں نے بھی پولیس نظام میں اصلاح کے لیے ہماری تجاویز سے اتفاق کیا۔ صوبائی وزراءکا کہنا تھا کہ ہماری اولین ترجیح پولیس قانون کو فعال بنانا اورپبلک سیفٹی کمیشن کا قیام تھا،آج کے اجلاس میں ایم ایم اے اور ٹی ایل پی نے پولیس ترمیمی بل کی حمایت کا اعلان کیا ہےبدھ کو فائنل اجلاس کرکے بل اسمبلی کے لیئے تیار کرلیا جائے گا اورسندھ اسمبلی کےآنے والے اجلاس میں بل پیش کردیا جائے گا۔اپوزیشن کے مطالبہ کے جواب میں صوبائی وزراءنے موقف اختیارکیا کہ گذشتہ اجلاسوں کے منٹس اجلاس کی تکمیل کے بعد فراہم کیئے جائیں گے،ہم نے قائد حزب اختلاف کی تجاویز ترمیمی بل میں شامل کی تھیں مگر پوائنٹ اسکورنگ کی گئی،عدالت کے متعلق غلط تاثر دیا جارہا ہے 21 مئی کو پولیس قانون میں ترامیم سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کرادی جائے گی۔صوبائی وزراءکا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی طرف سے حکومتی بل کی مخالفت کا مقصد حکومت کی اچھی کوششوں کا راستہ روکنا ہے،جمھوریت کسی کی منتظر نہیں اپوزیشن کے محتاج نہیں مگر ان کو مشاورت اورمتفقہ بل کی منظوری میں شامل ہونے کا موقع دینا چاہتے تھے وہ دیاہے اپوزیشن نے حوصلہ افزارد عمل نہیں دیا۔ انہوں نے کہاکہ پنجاب، کے پی اور بلوچستان میں تبادلے سی ایم اور آئی جی کے مشاورت سے ہوتے ہیں،منشوربھی کہتا ہے کہ دونوں سربراہ ملکر فیصلہ کریں گے ، پولیس اختیارات کے معاملے پر ہم نے اپوزیشن کو ساتھ لیکر چلنے کی کوشش کی ہے ،قانون سازی کے مسائل اسمبلی میں حل کرنے کی کوشش کی ہے اپوزیشن کا اعتراض صرف سیاسی ہے وہ صرف حکومت کو لعن طعن کا نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم پولیس کی غلطیوں پر ان سے پوچھ گچھ چاھتے ہیں کم از کم یہ اختیار تو حکومت کا ہونا چاہیئے،ہماری نیک نیتی ہے کہ ہم میڈیا، اپوزیشن سول سوسائٹی سے ملکرپولیس کے لیے قانون سازی کرنا چاہتے ہیں ۔

کراچی (اسٹاف رپورٹر)صوبائی وزراءنے سندھ پولیس کے لیے نئی قانون سازی کے معاملے پرحزب اختلاف کی جماعتوں کے بائیکاٹ کو پوائنٹ اسکورنگ قراردیتے ہوئے کہاہے کہ مجلس عمل اورتحریک لبیک نے پولیس ترمیمی بل کی حمایت کا اعلان کیا ہے،اپوزیشن کی دیگرجماعتوں کے محتاج نہیں ہیں انہیں پولیس ترمیمی بل پر مشاورت کا موقع بھی دیا اوران کی تجاویز بھی شامل کیں ۔ صوبائی وزراءکا کہنا تھا کہ پنجاب، کے پی اور بلوچستان پولیس میں تبادلے سی ایم اور آئی جی کے مشاورت سے ہوتے ہیں سندھ میں ہونے والی قانون سازی کی مخالفت سمجھ سے بالاترہے۔ ان خیالات کا اظہار صوبائی وزرا اسماعیل راہو، سعید غنی ، امتیاز شیخ، مرتضی وہاب نے سندھ اسمبلی کی سیلیکٹ کمیٹی کے اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔حکمران جماعت پیپلزپارٹی کے صوبائی وزراءنے سندھ پولیس کے لیے من پسند قانون سازی کے اپوزیشن کے الزام کومسترد کرتے ہوئے کہاکہ پولیس کے اعلی افسران کے تبادلوں کا اختیارفرد واحد کے پاس رکھنے کا تاثر غلط ہے،ہم نے تبادلوں سمیت دیگراختیارات پبلک سیفٹی کمیشن کو منتقل کرنا چاہتے ہیں سندھ حکومت کے پاس کوئی اختیار نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ سیلیکٹ کمیٹی میں اپوزیشن جماعتوں کواعتماد میں لیا ہے اپوزیشن کو تمام اجلاسسز میں اعتماد میں لیا اور تجاویزبھی لیں اب سمجھ میں نہیں آیا کہ اپوزیشن نے سیلیکٹ کمیٹی کا بائیکاٹ کیوں کیا ہے سندھ پولیس کے لیے نئی قانون سازی کے لیے اپوزیشن کے ساتھ اعتماد سازی کے ساتھ مشاورت آگے بڑھ رہی تھی اور ہم ایسی قانون سازی کی طرف بڑھ رہے تھے کہ پولیس کو جوابدہ بنانے کا قانون تشکیل پاسکے،ملک کے دیگر صوبوں میں جو قانون ہے اس کو بہترانداز میں نافذ کرنے کے لیے کام کررہے تھے ہم اپوزیشن کے دو نہیں ایک ہاکستان کے مطالبے پر کام کررہے تھے،ہم نے چار اجلاس کیئے آج آخری اجلاس تھا تو اپوزیشن نے شرکت نہیں کی اس کے باوجود ہم نے اپوزیشن کی عدم شرکت پر ایک اور موقع دیا ہے تاکہ وہ اجلاس میں شریک ہوسکیں ہماری کو شش ہے کہ متفقہ قانون بنائیں ، سندھ حکومت نے نیک نیتی کے تحت آئی جی کو بھی پہلے اجلاس میں مدعو کیا تھا،سول سوسائٹی کو بھی مدعو کیا انہوں نے بھی پولیس نظام میں اصلاح کے لیے ہماری تجاویز سے اتفاق کیا۔ صوبائی وزراءکا کہنا تھا کہ ہماری اولین ترجیح پولیس قانون کو فعال بنانا اورپبلک سیفٹی کمیشن کا قیام تھا،آج کے اجلاس میں ایم ایم اے اور ٹی ایل پی نے پولیس ترمیمی بل کی حمایت کا اعلان کیا ہےبدھ کو فائنل اجلاس کرکے بل اسمبلی کے لیئے تیار کرلیا جائے گا اورسندھ اسمبلی کےآنے والے اجلاس میں بل پیش کردیا جائے گا۔اپوزیشن کے مطالبہ کے جواب میں صوبائی وزراءنے موقف اختیارکیا کہ گذشتہ اجلاسوں کے منٹس اجلاس کی تکمیل کے بعد فراہم کیئے جائیں گے،ہم نے قائد حزب اختلاف کی تجاویز ترمیمی بل میں شامل کی تھیں مگر پوائنٹ اسکورنگ کی گئی،عدالت کے متعلق غلط تاثر دیا جارہا ہے 21 مئی کو پولیس قانون میں ترامیم سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کرادی جائے گی۔صوبائی وزراءکا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی طرف سے حکومتی بل کی مخالفت کا مقصد حکومت کی اچھی کوششوں کا راستہ روکنا ہے،جمھوریت کسی کی منتظر نہیں اپوزیشن کے محتاج نہیں مگر ان کو مشاورت اورمتفقہ بل کی منظوری میں شامل ہونے کا موقع دینا چاہتے تھے وہ دیاہے اپوزیشن نے حوصلہ افزارد عمل نہیں دیا۔ انہوں نے کہاکہ پنجاب، کے پی اور بلوچستان میں تبادلے سی ایم اور آئی جی کے مشاورت سے ہوتے ہیں،منشوربھی کہتا ہے کہ دونوں سربراہ ملکر فیصلہ کریں گے ، پولیس اختیارات کے معاملے پر ہم نے اپوزیشن کو ساتھ لیکر چلنے کی کوشش کی ہے ،قانون سازی کے مسائل اسمبلی میں حل کرنے کی کوشش کی ہے اپوزیشن کا اعتراض صرف سیاسی ہے وہ صرف حکومت کو لعن طعن کا نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم پولیس کی غلطیوں پر ان سے پوچھ گچھ چاھتے ہیں کم از کم یہ اختیار تو حکومت کا ہونا چاہیئے،ہماری نیک نیتی ہے کہ ہم میڈیا، اپوزیشن سول سوسائٹی سے ملکرپولیس کے لیے قانون سازی کرنا چاہتے ہیں ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر