تمام سیاسی جماعتوں کا 26ویں آئینی ترمیم پر متفق ہونا پارلیمانی تاریخ کا یاد گار لمحہ ہے: تیمور سلیم جھگڑا

تمام سیاسی جماعتوں کا 26ویں آئینی ترمیم پر متفق ہونا پارلیمانی تاریخ کا یاد ...

پشاور( سٹاف رپورٹر)خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے کہا ہے کہ 26 ویں آئینی ترمیم کا متفقہ طور پر منظور ہونا نہ صرف قبائلی عوام بلکہ پورے پاکستان کے عوام کے لئے ایک تاریخی لمحہ ہے۔وہ دن دور نہیں جب قبائلی اضلاع میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات منعقد ہوں گے اور وہاں کے عوام کی تاریخی آواز خیبر پختونخوا اسمبلی میں گونجے گی۔پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت سابقہ فاٹا کے عوام سے کئے گئے اپنے وعدوں کو پورا کرے گی اور قبائلی اضلاع کی ترقی اور وہاں کے عوام کی 70 سالہ محرومیوں کے ازالے اور انہیں ترقی کے قومی دھارے میں شامل کرنے کے لئے این ایف سی ایوارڈ میں اپنے حصے میں سے3 فی صد فنڈز فراہم کرے گی۔ یہاں کے عوام گھاس کھا لیں گے لیکن قبائلی بھائیوں کی ترقی پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔قبائلی اضلاع میں انفراسٹرکچر کی بحالی اور وہاں کے عوام کی معاشی و سماجی ترقی کے لئے تمام صوبوں کو قومی سوچ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں سے جاری ہونے والے اپنے ایک خصوصی اخباری بیان میں کیا۔صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت ضم اضلاع کی ترقی اور وہاں کے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے پر عزم ہے لیکن یہ صرف ایک صوبے کے بس کی بات نہیں بلکہ اس قومی مقصد کے لئے وفاق سمیت تمام صوبوں کو یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ 26 ائینی ترمیم کی منظوری کے بعد قبائلی اضلاع میں انتخابات کا انعقاد بھی یقینی ہو گیا ہے اور وہ دن دور نہیں جب ضم اضلاع میں بلدیاتی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات منعقد ہوں گے اور خیبر پختونخوا اسمبلی میں قبائلی عوام کی تاریخی آواز گونجے گی۔صوبائی وزیر نے کہا کہ بدقسمتی سے ماضی میں فاٹا کے عوام کے نام پر اربوں روپے کے فنڈز حاصل کئے گئے جو وہاں کی ترقی اور عوام کی فلاح وبہبود پر کبھی خرچ نہیں کئے گئے جس سے وہاں کے عوام کے احساس محرومی میں مزید اضافہ ہوا۔تیمور سلیم نے مزید کہا کہ 18 وین ائینی ترمیم کے بعد این ایف سی میں ہر صوبہ اپنی مرضی سے فنڈز کا استعمال کرتا ہے،سابقہ فاٹا کی ترقی کے لئے خیبر پختونخوا،پنجاب اور بلوچستان سمیت وفاقی حکومت نے اپنے حصے سے 3 فی صد دینے پر اصولی طور پر اتفاق کیا ہے لیکن اس سلسلے میں پیپلز پارٹی اور اس کی قیادت کا طرز عمل متعجب ہے۔انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ سے متعلق سندھ حکومت نے قبائلی اضلاع کے لئے حصہ دینے کی بظاہر مخالفت نہیں کی لیکن پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہم نہیں سمجھتے کہ ہم اپنے حصے سے 3 فی صد قبائلی اضلاع کو دیں۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت کی سوچ کو دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ وہ پارٹی جو کسی وقت وفاق کی سب سے بڑی پارٹی اور وفاق کی زنجیر تھی اب وہ رورل سندھ سے باہرنہ دیکھ سکتی ہے اور نہ دیکھنے کے قابل ہے۔ صوبائی وزیرخزانہ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی گزشتہ صوبائی حکومت نے ملک کی تاریخ کے کامیاب ترین بلدیاتی انتخابات صوبے میں منعقد کروائے اور اب انشاءاللہ قبائلی اضلاع میں بھی نئے بلدیاتی نظام کے تحت انتخابات منعقد کئے جائیں گے جن سے نہ صرف اختیارات نچلی سطح پر منتقل ہوں گے بلکہ وہاں کے عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل بھی ہوں گے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر