اکادمی ادبیات کا لیاقت مگسی کے انتقال پر گہرے دکھ و رنج کا اظہار

اکادمی ادبیات کا لیاقت مگسی کے انتقال پر گہرے دکھ و رنج کا اظہار

کراچی(پ ر) اکادمی ادبیات پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر راشد حمیداورکراچی کے ریزیڈنٹ ڈائریکٹر قادربخش سومرو نے معروف ،تاریخدان، محقق ، ادیب ۲۱ کتابوں کے مصنف لیاقت علی مگسی کے انتقال پر گہرے دکھ و رنج کا اظہار کیا ہے۔ ڈاکٹر راشد حمید نے کہا کہ لیاقت مگسی کے تحقیقی کام میںبھی ایک تخلیقی رنگ و آہنگ پایا جاتا ہے یہ انداز سندھی کے بہت کم محکموں کو نصیب ہوا ہے۔ آپ نے جولسانی علمی و ادبی کارنامے انجام دیئے ہیں وہ ہماری ادبی تاریخ کا روشن باب ہیں آپ کے تصنیفی اور تالیفی کارناموں پر سرسری نگاہ ڈالنے سے ہی حقیقت عیاں ہوجاتی ہے کہ وہ ایک فرد نہیں بلکہ ایک ادارے کی حیثیت رکھتے تھے ان کی فکر ونظر کا دائرہ کسی مخصوص منطقے تک نہیں تھا ۔بلکہ ان کے افکار و نظریات بیکراں کی حیثیت رکھتے ہیں آپ کے انتقال سے علمی و ادبی دنیا میں ایک خلا پیدا ہوا ہے ۔ جو صدیوں کے بعد پورا ہوگا ۔اور مرحوم کے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ ریزیڈنٹ ڈائریکٹر قادربخش سومرو نے کہا کہ لیاقت علی مگسی کی ۳ کتابیں بہت ہی معنٰی رکھتی ہیں جن میں خداآباد تاریخی بادشاھی مسجد، اور میانوال تحریک تاریخ کے پس منظر میں شامل ہیں اس موقع پر اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کے آفیس میں مرحوم کے ایثال و ثواب کے لئے دعائے مغفرت کروائی گئی جس میںبڑے تعداد میں ادیبوں اور شاعروں نے شرکت کی ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر