71میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کر دی، صوبہ کو سالانہ 2ارب روپے آمدن ہو گی: محمود خان

71میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کر دی، صوبہ کو سالانہ 2ارب روپے آمدن ہو گی: ...

پشاور(سٹاف رپورٹر) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ آج صوبے کیلئے تاریخی دن ہے کیونکہ صوبے کے اپنے وسائل سے پیدا ہونے والی 71 میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کی جارہی ہے، جس سے صوبے کو سالانہ 2 ارب روپے آمدن ہو گی۔ انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت بہت جلد مزید 200 میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کرے گی، جو لوگ منفی پروپیگنڈہ کر رہے تھے اور کہتے تھے کہ صوبے کے پاس کچھ نہیں اُنہیں آج جواب مل گیا ہے۔ صوبائی حکومت پن بجلی کے متعدد چھوٹے منصوبوں پر کام کر رہی ہے، بیشتر منصوبے مکمل ہو چکے ہیں اور باقی ماندہ منصوبے جلد مکمل ہو جائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں پیڈو / محکمہ توانائی و بجلی خیبرپختونخوا اور پاور ڈویژن اسلام آبادکے مابین بجلی کی خرید و فرخت کے حوالے سے معاہدوں پر دستخط کے تقریب اور پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے میڈیا افتخار درانی، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے توانائی حمایت اللہ خان اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ صوبائی حکومت کے اپنے وسائل سے مکمل شدہ تین پن بجلی گھروں پیہور ہائیڈرو پاور پراجیکٹ (صوابی)18 میگاواٹ، رانولیہ ہائیڈروپراجیکٹ (کوہستان)17 میگاواٹ، درال خوڑ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ (سوات)36.6 میگاواٹ سے مجموعی طور پر پیدا ہونے والی 71 میگاواٹ بجلی کو نیشنل گرڈ میں شامل کرنے کیلئے معاہدے پر دستخط کئے گئے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ یہ صوبائی حکومت کی توانائی کے شعبے میں غیر معمولی دلچسپی کا واضح ثبوت اور صوبے کیلئے ایک تاریخی دن ہے۔ اس معاہدے سے صوبے کو سالانہ 2 ارب روپے کی آمدن ہو گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ معاہدے کے تحت صوبائی حکومت کسی بھی وقت اپنی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے اس معاہدے سے نکل سکتی ہے اور دوبارہ سی سی پی اے۔جی کو فروخت کر سکتی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ پن بجلی کے دیگر جاری منصوبے بھی جلد مکمل کر لئے جائیں گے، جن کی تکمیل سے مجموعی طور پر 216 میگاواٹ بجلی پید اہو گی۔ انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت صوبے کے مختلف اضلاع میں بیشتر چھوٹے پن بجلی گھر مکمل کر چکی ہے جبکہ باقی ماندہ بھی جلدمکمل کر لئے جائیں گے۔

پشاور(سٹاف رپورٹر) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے سوات موٹر وے پر باقی ماندہ کام تیز کرنے اور سوات موٹر وے کو ہر قسم ٹریفک کے لئے عید سے پہلے کھولنے کی ہدایت کی ہے۔ سوات موٹر وے کا باضابطہ افتتاح عید کے بعد وزیراعظم پاکستان عمران خان خود کریں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ سوات موٹر وے پر کام اور معیار کا جائزہ لینے کیلئے بہت جلدوہ خود دورہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کی تاریخ میں سیاحت کو فروغ دینے کیلئے پہلی مرتبہ موٹر وے بنائی گئی ہے جو لنکنگ ہائی ویز اور سروس روڈزپر مشتمل ہو گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ سوات موٹر وے پورے پاکستان کے سیاحوں کے ساتھ ساتھ انٹر نیشنل سیاحوں کیلئے بھی سیاحتی مقامات تک رسائی میں مرکزی کردار ادا کرے گی۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت سوات موٹر وے پر جائزہ اجلاس وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا، اجلاس میں وزیر برائے مواصلات اکبر ایوب، سیکرٹری مواصلات، ایم ڈی پی کے ایچ اے اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کومنیجنگ ڈائریکٹر پی کے ایچ اے نے سوات موٹر وے پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس کو سوات موٹر وے پر پانچ انٹر چینجز میں مینگورہ کانجو انٹر چینج،مالم جبہ انٹرچینج، شیر پالم انٹرچینج، مٹہ خوازہ خیلہ انٹر چینج، باغ ڈھیری انٹر چینج پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ سوات موٹر وے کی تکمیل سے نیشنل ہائی وے N-95پر ٹریفک کی کمی ہو سکے گی جبکہ پراونشل ہائی وے ایس 3 سوات کو ہائی سپیڈ ٹرانسپورٹ کوریڈورکے ذریعے نیشنل ہائی وے سے منسلک کیا جائیگا۔ مزید بتایا گیا کہ سوات موٹر وے سے لوگوں کی آمد و رفت میں وقت کی بچت ہو گی اور ملاکنڈ اور سوات کے عوام کو سوات موٹروے تک براہ راست رسائی ممکن ہو جائے گی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ سوات موٹر وے سے سوات میں زرعی معیشت کو فروغ ملے گا جبکہ مقامی زمینداروں کو مارکیٹ تک رسائی میں بھی مدد فراہم ہو سکے گا۔ سوات موٹروے سے ملاکنڈ، سوات، دیر اور چترال کے اضلاع میں سیاحت کو بہت زیادہ فروغ ملے گا۔ اجلاس کو سوات موٹر وے فیزiiiپر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو چار لائنزپر مشتمل سوات موٹر وے فیز iii کی کراس سیکشن خصوصیات پر بھی تفصیلاً بتایا گیا۔ وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ مالم جبہ جو کہ ایک انٹر نیشنل ٹورسٹ ریزارٹ بننے جارہا ہے کیلئے سوات موٹر وے پر ایک خصوصی انٹر چینج بنایا جائیگا جس سے مالم جبہ تک سیاحوں کی رسائی آسان ہو جائے گی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ مٹہ، خوازہ خیلہ انٹر چینج اور شیر پالم انٹر چینج کے درمیان موٹر وے کو مٹہ بائی پاس کے طور پر بھی استعمال کیا جائیگا۔سوات موٹر وے کے ساتھ لینکنگ ہائی ویز سے مقامی عوام کو موٹر وے تک براہ راست رسائی دی جائیگی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ سوات موٹروے پر ایک ٹنل سو فیصد مکمل ہو چکا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ سوات موٹر وے پر آخری انٹر چینج فتح پور کی جگہ باغ ڈھیری کے مقام پر بنایا جائے تاکہ سیاحوں کو فتح پور بازار کے ٹریفک سے نہ گزرناپڑے اور ان کو سیاحتی مقامات تک رسائی میں کوئی دشواری نہ ہو۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ کرنل شیر خان صوابی انٹر چینج سے مینگورہ، چکدرہ اور باغ ڈھیری تک ٹوٹل80کلومیٹر پر مشتمل سوات موٹر وے پورے پاکستان سے سیاحوں کیلئے سیاحتی مقامات تک رسائی میں بہت کارآمد ثابت ہو گا جس سے صوبے کیلئے محاصل بھی ممکن ہو سکیں گے۔وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ سوات موٹروے پر محکمہ سیاحت کے تعاون سے ٹورسٹ گائیڈ سسٹم کو بھی ممکن بنایا جائے گا اور صوبے میں سیاحوں کیلئے زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

مزید : صفحہ اول