کرکٹ کی عالمی جنگ سے قبل قومی ٹیم مشکلات کا شکار

کرکٹ کی عالمی جنگ سے قبل قومی ٹیم مشکلات کا شکار
کرکٹ کی عالمی جنگ سے قبل قومی ٹیم مشکلات کا شکار

  

کرکٹ کی عالمی جنگ شرو ع ہونے میں چند دن ہی باقی رہ گئے ہیں ہر ٹیم اس وقت کو غنیمت جان کر بھرپور تیاریوں میں مشغول ہے اور زیادہ سے زیادہ پریکٹس کرکے اپنی غلطیوں پر قابو پانے کی کوششوں میں ہے اسی طرح پاکستان کرکٹ ٹیم انگلینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز کھیل کر ورلڈ کپ سے قبل اپنی برتری ثابت کرنے کے لئے کوشاں نظر آتی ہے مگر دوسری طرف قومی ٹیم کو اس وقت کئی مسائل کابھی سامنا ہے

ابھی تک کئی کھلاڑیوں کی ورلڈ کپ سکواڈ میں شمولیت کا فیصلہ نہیں کیا جاسکا شاداب خان ابھی تک مکمل صحت یاب نہیں ہوئے پاکستانی ٹیم میں ریڑھ کی ہڈی کی سی حیثیت رکھنے والے سپنر ے بارے میں کہا تو جارہا ہے کہ وہ صحت یاب ہوکر ورلڈ کپ سکواڈ کا حصہ بن جائیں گے مگر یہ حتمی بات نہیں ہے دوسری طرف فاسٹ باﺅلر محمد عامر جن کی ورلڈ کپ میںشمولیت انگلینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز میں عمدہ پرفارمنس سے مشروط تھی وہ چکن پاکس کا شکار ہوگئے ہیں اور ابھی تک ان کو سیریز کے ایک میچ میں بھی کھیلنے کا موقع نہیں ملا اور ان کی بیماری کو دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ شائد وہ اب نہ صرف اس سیریز کا حصہ بن سکتے ہیں بلکہ وہ ورلڈ کپ سے بھی باہر ہوگئے ہیں

محمد عامر قومی ٹیم کے مرکزی فاسٹ باﺅلر ہیں جن کو انگلش سر زمین پر ان کی وکٹوں پر باﺅلنگ کا دیگر فاسٹ باﺅلرز کی نسبت بہتر تجربہ حاصل ہے اور یقینی طور پر وہ ٹیم کا حصہ ہوتے تو حریف ٹیموں کے لئے خطرہ ثابت ہوتے شاداب خان کے بعد اب محمد عامر کی بیماری اور ان کے باہرہونے سے پاکستانی باﺅلنگ کمزور ہوگی پہلے ہی پاکستان کی باﺅلنگ میں وہ دم نہیں ہے جس کی اس وقت اشد ضرورت ہے بیٹنگ میں شکر ہے کہ پاکستانی ٹیم کافی بہتر ہے لیکن کامیابی کے لئے صرف بیٹنگ پر انحصار نہیں کیا جاتا اور نہ ہی صرف بیٹنگ کے بل بوتے پر میچ جیتے جاتے ہیں

اب دیکھنا یہ ہے کہ پی سی بی مینجمنٹ اس کیفیت سے کس طرح سے باہر نکلتی ہے دوسری طرف پاکستان کی ٹیم کے لئے ورلڈ کپ میں حریف ٹیموں کو شکست دینا آسان دکھائی نہیں دیتا انگلینڈ کے خلاف مجموعی طور پر پاکستان کی کارکردگی اگر بہتر ہوتی ہے تو اس کا تو فائدہ ملے گا مگر اگر ٹیم میچز میں شکست سے دوچار ہوجاتی ہے تو اس کے منفی اثرات ورلڈ کپ میچز پر بھی قومی ٹیم پر مرتب ہوں گے پاکستان کی ٹیم نے اپنا پہلا میچ ویسٹ انڈیز کی ٹیم کے خلاف کھیلنا ہے جو ورلڈ کپ مقابلوں میں پاکستان کے لئے ہمیشہ ایک بڑا خطرہ ہی رہی ہے

کپتان سرفراز احمد پہلی مرتبہ ورلڈ کپ میں قومی ٹیم کی قیادت کریں گے اب کس پلان کے تحت وہ ٹیم کو ورلڈ کپ میچز میں میدان میں اتارتے ہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ سرفراز احمد جیت کے جذبے سے سرشار ہیں اور ان کی بھرپور کوشش ہوگی کہ پاکستان کی ٹیم ورلڈ کپ میں کامیابی حاصل کرے مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ پاکستا نی ٹیم اس وقت جن مسائل کاشکار ہے ان کو بھی دور کرلیا جائے تاکہ ورلڈ کپ کے دوران کسی قسم کی کوئی پریشانی سامنے نہ آسکے ایک مکمل اور یک جان ٹیم ہی کامیابی کی ضمانت ہوتی ہے بس دعا ہے کہ اب کوئی اور کھلاڑی فٹنس مسائل کا شکار نہ ہو کیونکہ ان حالات کے بعد پاکستان کے پاس کسی مزید مشکل برداشت کرنے کا مارجن نہیں رہا۔

مزید : رائے /کالم