ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف 1لاکھ 20 ہزار فوجی میدان میں اتارنے کا فیصلہ کرلیا؟ انتہائی خطرناک خبر آگئی

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف 1لاکھ 20 ہزار فوجی میدان میں اتارنے کا فیصلہ ...
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف 1لاکھ 20 ہزار فوجی میدان میں اتارنے کا فیصلہ کرلیا؟ انتہائی خطرناک خبر آگئی

  

تہران(مانیٹرنگ ڈیسک)گزشتہ دنوں متحدہ عرب امارات کی سمندری حدود میں بارودی مواد سے 4بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا جس سے چاروں جہازوں میں 5سے 10فٹ چوڑے سوراخ ہو گئے اور وہ ناکارہ ہو کر رہ گئے۔ امریکی فوج نے ابتدائی تحقیقات میں اس واردات کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرایا اور کہا کہ ”بحری جہازوں پر یہ حملہ ایران نے خود یا اپنی کسی پراکسی کے ذریعے کروایا ہے۔“اس واقعے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے اب ایران کے خلاف 1لاکھ 20ہزار فوجی میدان میں اتارنے کا فیصلہ کر لیا ہے جس سے دونوں ممالک میں کشیدگی عروج کو پہنچ گئی ہے اور کسی بھی وقت جنگ چھڑ جانے کا خطرہ سر پر منڈلانے لگا ہے۔

دی مرر کے مطابق امریکہ کی طرف سے یہ فوج مشرق وسطیٰ میں تعینات کی جائے گی۔ فوجی کی تعیناتی کے حوالے سے آج امریکی ڈیفنس سیکرٹری پیٹرک شینان نے صدر ٹرمپ اور دیگر حکام کو ایک بریفنگ بھی دی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کہاں اور کتنی فوج تعینات کی جائے گی۔اس نئی صورتحال سے جنگ کا خطرہ اس قدر بڑھ چکا ہے کہ سپین نے فوری طور پر خلیج فارس میں موجود اپنا بحری بیڑہ نکال لیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ”مشرق وسطیٰ میں پہلے سے موجود امریکی فوجیوں کو ایران کی طرف سے حملے کا شدید خطرہ ہے جس کے پیش نظر وہاں مزید فوجی تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

دوسری طرف ایرانی صدر حسن روحانی کے مشیر حسام الدین اشینہ نے اپنے ٹوئٹر اکاﺅنٹ پر امریکی نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر جان بولٹن کی مونچھوں کا مذاق اڑاتے ہوئے لکھا ہے کہ ”تم ایران کے ساتھ بہتر ڈیل کرنا چاہتے تھے لیکن لگتا ہے کہ تم اس کی بجائے جنگ چھیڑنے جا رہے ہو۔ جب تم (صدر ٹرمپ) مونچھوں والے (جان بولٹن)کی سنو گے تو ایسے ہی فیصلے کرو گے۔2020ءمیں گڈ لک۔“

رپورٹ کے مطابق جان بولٹن کٹڑ، قدامت پرست اور سخت گیر مشہور ہیں اور ان کے اسی روئیے کو ایرانی حکام پہلے بھی طنز کا نشانہ بنا چکے ہیں۔ تاہم اس بار اگرچہ حسام الدین نے طنزیہ ٹویٹ کیا لیکن ان کے ٹویٹ کے الفاظ سے صورتحال کی سنگینی بھی جھلک رہی ہے اور 2020ءمیں امریکہ اور ایران کے مابین جنگ چھڑنے کا عندیہ بھی مل رہا ہے۔جنگی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت امریکہ اور ایران کی کشیدگی اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ دونوں کے مابین غلط فہمی کی بنیاد پر جنگ چھڑنے کے امکانات بھی بہت زیادہ ہو چکے ہیں۔

مزید : بین الاقوامی