سیاست کے آداب

سیاست کے آداب
سیاست کے آداب

  

حامد خان المشرقی

حضرت عمر فاروق ؓ کا غصہ جاہ و جلال اپنے وقت میں اپنی مثال آپ تھا اور اُن کا غصہ ہمیشہ حق بات پر تھا اور اِسلام کی سر بلندی کےلئے تھا۔ مگر جب حضرت ابو بکر صدیق ؓ کا وصال ہوا اور حضرت عمر فاروق ؓ کا خلیفہ دوئم کےلئے نام لیا جانے لگا تو مسلمانوں کی بڑی تعداد کافی خوفزدہ ہوگئی اور اُن کی نامزدگی پر معترض نظر آئی جس کی کوئی اور وجہ نہیں تھی بلکہ حضرت عمر ؓ کا غصہ اور جاہ جلال تھا ۔

لیکن پھر تاریخ نے دیکھا کہ وہی بھرپور جاہ جلال والے حضرت عمر ؓ انتہائی دھیمے مزاج ہوگئے اور کبھی وہ گندم کی بوریاں اپنے کندھوں پر لاد کر اُس عورت کے گھر پہنچاتے جس کے بچے بھوک سے بلبلا رہے تھے اور اُنہیں حضرت عمر سے بھرے مجمعے میں پوچھ لیا جاتا تھا کہ عمرؓ آپ کے پاس پہننے کےلئے زائد کپڑا کہاں سے آیا اور حضرت عمر ؓ کے مجمعے کےلئے دیر سے آنے پر صحابہ کرام اُن کی سرزنش کر دیا کرتے تھے گویا کہ جیسے ہی آپ ؓ نے عنان اقتدار سنبھالا گویا آپ نے اپنا طرز مکمل طور پر تبدیل کر دیا اور عوام کی فلاح و بہود اور اُمت کی بہتری کےلئے اپنی باقی زندگی وقف کر دی۔

اس ساری تمہید کا مقصد اپنے قارئین کو یہ بتانا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کو اقتدار کے منصب بٹھا دیتا ہے تو اُ س پر لازم ہو جاتا ہے کہ ذاتی عناد غصہ اور مخالفت کو پیچھے رکھے ۔ آج جوکچھ سیاست میں روز بروز ہو رہا ہے وہ نہایت افسوس ناک ہے اَب سے پہلے یہی سنتے اور دیکھتے آئے ہیں کہ اسّی اور نوّے کی دہائی کی سیاست پاکستان کی تاریخ کی غلیظ ترین سیاست تھی اور ایک دوسرے پر شرمناک الزامات اور کردار کشی سے بھرپور تھی۔ کہیں بینظیر بھٹو صاحبہ اور نصرت بی بی کی تصاویر جہاز سے پھینکی جاتی تھیں اور کبھی جمائما خان پر نادر ٹائلز کی چوری کا مقدمہ بنا کر انہیں کئی سال ملک سے باہر رہنے پر مجبور کردیا جاتا تھا۔ یہی نہیں سیاسی جلسوں میں ایک دوسرے پرہر طرح سے ذاتی حملے کئے گئے چاہے وہ عمران خان کی ذاتی زندگی ہو یا نواز شریف اور شہباز شریف کی پر تعیش زندگی پر لکھے مضامین ۔

میں سمجھتا ہوں کہ اس ساری گندی اور گالی گلوچ کی سیاست کا انجام وہی ہوتا ہے جو 12اکتوبر 1999کو ہوا تھا ، یعنی ایک اور مار شل لاءاور 8سال کی آمریت ، کیونکہ جب عوام کی بھلائی نہ ہو اور سیاست دان عنان اقتدار کے لالچ میں ایک دوسرے کے د ست و گریباں ہوں تو عوام کو آمر حکمران بھی ایک مسیحا نظر آتا ہے۔ یہی کچھ 90 کی دہائی میں ہوا اور نتیجہ آپ کے سامنے ہے ۔کسی بھی ملک کی ترقی و فلاح کےلئے بلا شبہ جمہوریت کا تسلسل بہت ضروری ہے مگر یہ تسلسل عوام کی بہتری اور قانون سازی سے مشروط ہے ۔

آج سیاست میں جس درجہ کی گفتگو ہو رہی ہے وہ یقیناً ایک المیہ ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان صاحب کو بھی چاہیے کہ اپنے جذبات پر قابو رکھیں اور جہاں تک بات ہے کر پشن کےخلاف کاروائی کرنے کی تو وہ ضرور کریں ۔وہ خواہ زرداری صاحب ہوں یا شریف فیملی مگر کسی کی ذات پر حملہ کرنا یا ذو معنی جملے بولنا وزیر اعظم کے منصب کو کسی صورت زیب نہیں دیتا ہے ۔ مجھے کسی صورت وزیر اعظم صاحب کی نیت پر شک نہیں ہے اور نہ ہی اس بات سے انکار ہے۔  پچھلے ادوار میں پاکستان کی تاریخ کی بد ترین کر پشن ہوئی ہے ”جو معاشی عدم استحکام اور مہنگائی کا طوفان ہے  اسکی تمام تر ذمہ داری گزشتہ حکمرانوں اور اُن کی روزانہ کی بنیاد پر معیشت کو چلانے کی اور بد ترین کر پشن ہے معیشت آج اس نہج پر ہے ۔

حکومت اور نیب پرلازم ہے کہ وہ نواز شریف ، شہباز شریف ، زرداری ، فریال تالپور، علیم خان اور باقی تمام ملزمان کے مقدمات کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانے کےلئے اپنے تمام تر وسائل بروِ کار لائے لیکن اِس کے ساتھ ساتھ میری تمام سیاست دانوں سے گزارش ہے کہ تحمل، بردباری اور اخلاقیات کا دامن نہ چھوڑیں اور ایک دوسرے پر الزامات لگاتے وقت لغو الفاظ استعمال نہ کریں اور بہتر اخلاقیات کا مظاہرہ کریں۔ شیخ رشیدصاحب ہوں یا خورشید شاہ صاحب اِن کاکام تمام معاملات کو ٹھنڈا کرنا ہونا چاہیے نہ کہ اپنے لیڈروں کے لئے ” شاہ سے زیادہ شاہ کا وفاداروں کی حد کراس کرنا۔

آج کے ملکی حالات سیاست میں کسی مزید غلاظت کے متحمل نہیں ہو سکتے ۔  احتساب پوری قوم کا مطالبہ ہے لیکن احتساب کے نام پر باقی امور سے توجہ نہیں ہٹنی چاہیے ۔ عوام کےلئے مہنگائی ، ڈالر کی قیمت میں بے پناہ اضافہ اور پٹرولیم مصنوعات میں بڑھ کر سب مسائل پر توجہ کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔

مگر ساتھ ہی ساتھ اپوزیشن کی بھی ذمہ داری ہے کہ حکومت کو پورا وقت دے اور عوام کی بہتری کے کسی بھی منصوبے پر سیاست کرنے سے اجتناب کرے اورجےیے پچھلے دو ادوارمیں زرداری صاحب اور نواز شریف صاحب کو پورے پانچ سال کا وقت دیا گیا ہے موجودہ حکومت کو بھی 5سال پورے کرنے دئیے  جائیں ۔ انشاءاللہ آنے والا وقت پاکستان کےلئے بہتری اور ترقی کی نوید لئے ہوئے ہے۔ پاکستان کی ترقی یافتہ خوشحالی ہی در اصل اقبال اور قائد اعظم کے پاکستان کی اصلی تعبیر ہے ۔

اللہ تعالیٰ پاکستان کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے اور اِس پر آنے والی تمام آفات سے محفوظ رکھے۔ آمین!

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں

مزید : بلاگ