”سلمان بٹ سے کہا تم کرلو کپتانی، میں جارہا ہوں“ گیم چینچرز کے مصنف شاہد آفرید ی کے تہلکہ خیز انکشافات

”سلمان بٹ سے کہا تم کرلو کپتانی، میں جارہا ہوں“ گیم چینچرز کے مصنف شاہد ...
”سلمان بٹ سے کہا تم کرلو کپتانی، میں جارہا ہوں“ گیم چینچرز کے مصنف شاہد آفرید ی کے تہلکہ خیز انکشافات

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سابق کپتانی قومی ٹیم شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ میں سلمان بٹ کو پسند کرتا تھا اورچاہتا تھا کہ میرے بعد کپتان بھی وہ بنے، نائب کپتان کیلئے اس کانام دیاتھا لیکن جب ان کی جانب سے یہ حرکتیں کی گئیں تو میں نے اس سے بولا کہ لو میں جارہا ہوں ، اب تم کرلو کپتانی اور واپس پاکستان آگیا ۔

جیونیوز کے پروگرام ”آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ“میں گفتگو کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے کہاکہ پاکستان کرکٹ پر ایک ایسا وقت تھا جب ملک کی بدنامی کے حوالے سے بہت سے خبریں آرہی تھیں ، جب مجھے سٹے کے حوالے سے میسجز ملے تو مجھے نیند نہیں آرہی تھی تو میں نے انتظامیہ سے بات کی کہ یہ چیزیں روکیں ، اس سے لڑکے ٹریپ ہوجائیں گے اور یہ بہتر نہیں ہوگا ، اس کے باوجود بکیز ٹیم کے لڑکوں سے ملتے رہے اور مجھے سے بھی ان کی جانب سے ملنے کی کوشش لیکن میں نہیں ملا ، اس کے بعد آسٹریلیاسے ہم میچ بھی ہار گئے جس پر میں نے فیصلہ کیا کہ اب میں نے ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیلنی اور میں نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لی ۔ ان کا کہنا تھا کہ جب مجھے میسیجز ملے تو مجھے کونیند نہیں آتی تھی ،آج تک یہ جن لوگوں نے کیاہے ، یہ سلمان بٹ وغیرہ آج تک یہ شک کرتے ہیں کہ ہم کولالہ نے پھنسوایاہے ، حالانکہ میں نے یہ نہیں کیا ،میرے ایک دوست نے جو یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا، اس نے نیوز آف دی ورلڈ میں یہ بات کردی ۔ انہوں نے کہا کہ میرے ایک دوست نے یہ معلومات نیوز آف دی ورلڈ کودیں جس پر نیوز آف دی ورلڈ نے کہا کہ ہم اس کولگا تونہیں سکتے لیکن ہم اس کی تفتیش کریں گے ، اس پر جب ان کی جانب سے تفتیش کی گئی تو یہ سارے کے سارے ٹریپ ہوگئے ، میں نے کچھ نہیں کیا ، اگر کیا ہوتا تو اپنی کتاب میں لکھ دیتا ،جھوٹ کا سہارا نہ لیتا ۔

انہوں نے کہا کہ میں سلمان بٹ کو پسند کرتا تھا اورچاہتا تھا کہ میرے بعد کپتان بھی وہ بنے، نائب کپتان کیلئے اس کانام دیاتھا لیکن جب ان کی جانب سے یہ حرکتیں کی گئیں تو میں نے اس سے بولا کہ لو میں جارہا ہوں ، اب تم کرلو کپتانی اور واپس پاکستان آگیا ۔ان کا کہناتھا کہ میرا کام انتظامیہ کو بتانا تھا کہ ان بچوں کوسمجھائے لیکن جس نے جو کرنا ہوتا ہے ، وہ نہیں مانتا اور اپنی مرضی کرتاہے ۔انہوں نے کہا کہ محمد عامر کی سپورٹ میں نے اس لئے کی ہے کہ اس نے اپنی غلطی تسلیم کی تھی لیکن عثمان بٹ قرآن اٹھا رہا تھا اور قسمیں کھارہا تھااور جھوٹ بھی بول رہا تھا ۔ ان کا کہناتھا کہ جنہوں نے کیا ، ان کیخلاف ثبوت بھی تھے اور ان کوسزا بھی مل گئی۔ انہوں نے کہا کہ ان دنوں پاکستان کی جو بدنامی ہوئی تھی اورلوگ ہم کوجس طرح اشارے کرتے تھے کہ ہمارا کمرے سے باہر نکلنا مشکل ہوگیا تھا ۔انہوں نے کہا کہ 1999میں ورلڈ کپ کھیلتے ہوئے ہم گراﺅنڈ میں اترے تو وہاں پر بہت سے لوگ کھڑے تھے اوربڑے اعتماد سے کہہ رہے تھے کہ آج پاکستان میچ ہارجائے گا تو بڑی حیرانی ہوئی جب ہم واقعی بنگلہ دیش سے میچ ہار گئے ، ان دنوں کچھ اور بڑی ٹیمیں بھی چھوٹی ٹیموں سے میچز ہاری تھیں۔ان کا کہناتھا کہ اس میچ کے بعد بہت سے چیزیں باہر آئیں جس سے پتہ چلا۔انہوں نے کہا کہ جاوید میانداد کی عزت کرتا ہوں لیکن یہ وہ باتیں ہیں جو پہلے بھی کی جاچکی ہیں، جاوید بھائی جس طرح میرے بارے میں زبان استعمال کرتے تھے ، اگر میں چاہتا تو ان کوعدالت لے جاسکتا تھا لیکن میں نے کہا کہ نہیں ،اتنے بڑے نام کومیں کیسے عدالت لے جاﺅں ، یہ وہ باتیں ہیں جو میں پہلے بھی کرتا رہتا ہوں اور ان کا لوگوں کوپتہ ہے ۔

مزید : قومی