جناب وزیراعظم! آپ تو مزدوروں کا درد رکھتے ہیں پھر ایسا کیوں؟

جناب وزیراعظم! آپ تو مزدوروں کا درد رکھتے ہیں پھر ایسا کیوں؟
 جناب وزیراعظم! آپ تو مزدوروں کا درد رکھتے ہیں پھر ایسا کیوں؟

  

ہمیشہ وزیراعظم عمران خان کی تمام تقریروں کا مرکز محور ملک کا غریب طبقہ اور مزدور رہے ہیں یہی وجہ ہے دنیا بھر کے دباؤ کے باوجود وزیراعظم نے لاک ڈاؤن میں نرمی کی ہے اور بیورو کریسی اور بڑی سیاسی جماعتو ں کی تنقید کا سامنا کیا ہے۔ وزیراعظم کے اقدام کی ہر سطح پر تحسین کی جا رہی ہے ان کے اقدام سے مزدور طبقہ، بالعموم اور سفید پوش طبقہ بالخصوص بڑے بحران سے بچ گیا ہے۔ وزیراعظم کی طرف سے لاک ڈاؤن میں نرمی اور ایک ماہ سے گھروں میں قید عوام کی طرف سے نرمی کے بعد حکومتی ایس او پیز پر عمل درآمد نہ کئے جانے کی وجہ سے لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے وزیراعظم بار بار غریب اور مزدور طبقہ کی حالت زار کو جواز بنا رہے ہیں اور ایک ماہ سے زائد عرصہ سے ٹرانسپورٹ بند ہونے کی وجہ سے مسائل کا شکار مزدور طبقہ کے لئے انٹرسٹی ٹرانسپورٹ اور ٹرین چلانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ عالمی اور ملکی ایجنسیوں کے دباؤ کو پس پشت ڈالنا ان کی غریب پروری اور مزدور محبت (LOVE) کا عملی ثبوت ہے آج کے کالم میں جس اہم مسئلے کی نشاندہی کرنی ہے یہ وزیراعظم کی نظروں سے کیسے اوجل رہا یہ مجھے اب تک سمجھ نہیں آیا حالانکہ وزیراعظم عمران خان نے متعدد بار اعلانات پر عمل درآمد نہ ہونے پر غلطی کا اعتراف کیا اور اپوزیشن سے یوٹرن کا خطاب پایا۔ قارئین کے علم میں ہے وطن عزیز کے روشن مستقبل کی دلیل 60فیصد نوجوانوں کو دیا جاتا ہے۔

پاکستان دنیا بھر میں انفرادیت کا حامل ہے اس کی 22کروڑ آبادی میں 60فیصد سے زائد افراد کا تعلق نوجوان طبقہ سے ہے۔ یہ دلائل دیتے اور تجزیہ کرتے ہمارے دانشور اور اینکر بھول جاتے ہیں 40فیصد ایسے افراد بھی ہیں جو اپنی زندگی کے 60سال پاکستان پر قربان کرکے قوم کو مستقبل کے معماروں کی صورت میں 60فیصد جوان دے چکے ہیں اور 60سال سے زائد عمر گزار کر اپنی خدمات کے اعتراف میں حکومت وقت یا اپنی ہونہار اولاد جنہیں ہم پاکستان کا مستقبل یعنی نوجوان کہتے ہیں سے امیدیں وابستہ کر لیں ہیں ان میں سات لاکھ سے زائد ایسے 60سال سے زائد عمر کے بزرگ شامل ہیں جنہوں نے نجی پرائیویٹ اداروں فیکٹریوں میں سالہا سال خدمات انجام دی ہیں یہ مزدور جو نجی فیکٹریوں اور اداروں میں ملازم ہونے کے ساتھ ساتھ گورنمنٹ کے ادارے ای او بی جیسے اولڈ ایج ایمپلائز بینی فٹ انسٹی ٹیوٹ کا نام دیا جاتا ہے اس میں ادارے اپنے ملازمین کی آجر اور اجیر کے مشترکہ حساب کے مطابق سرکاری ادارے ای او بی میں رقم جمع کراتے ہیں تاکہ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد زندگی کی سانسوں کی ڈوری برقرار رکھنے کے کام آ سکے۔

میری باتیں حکومت مخالف دھڑے کو بالکل اچھی نہیں لگیں گی مگر جو حقیقت ہے اس کو جھٹلایا بھی نہیں جا سکتا۔ موجودہ حکومت سے پہلے ای او بی کے پنشنر کو 5280 روپے ماہانہ دیئے جا رہے تھے۔ 2018ء کے انتخاب میں تحریک انصاف کی حکومت نے مزدور طبقہ کی حالات زار کو سامنے رکھتے ہوئے 5280روپے کو فوری بڑھا کر 6500روپے کر دیا جن کی ادائیگی دسمبر 2019ء تک معمول کے مطابق ہوتی رہی۔ قارئین کی معلومات کے لئے ای او بی ایک ملک گیر ادارہ ہے جو بورڈ آف ڈائریکٹر پر چلتا ہے اور نگرانی اور مانیٹرنگ چیئرمین کے ذمہ ہوتی ہے۔ پرائیویٹ ادارے جو ای او بی کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں وہ اپنے ملازم کی تنخواہ کا کچھ حصہ کاٹ کر اور بڑا حصہ ادارے کی طرف سے ملا کر ملازم کی 60سال عمر ہونے تک جمع کراتا ہے۔نجی اداروں اور فیکٹریوں کے ملازمین کی جمع ہونے والی رقم باقاعدہ بنکوں کے ذریعے جمع ہوتی رہتی ہے۔ ملازم کی 59سال عمر ہونے کے ساتھ ہی ای او بی اور ادارہ جہاں وہ ملازم ہے ای او بی کے رجسٹرڈ ملازم کا پنشنر کارڈ بناتا ہے اور الفلاح بینک کو ریکارڈ اور حسابات دے دیا جاتا ہے۔

ریٹائرمنٹ کے ساتھ ہی پنشنر کارڈ کے ذریعے ماہانہ پنشن الفلاح بینک سے حاصل کرنا شروع کر دیتا ہے۔ میں بتا رہا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے حکومت میں آتے ہی 5280 روپے کو بڑھا کر 6500 کر دیا اور دسمبر 2019ء میں ٹویٹ کیا ای او بی کے لاکھوں ملازمین کو دی جانے والی پنشن کم ہے۔ ہم یکم جنوری 2020ء سے 6500 کی رقم کو بڑھا کر 8500 کر رہے ہیں۔ مشیر وزیراعظم زلفی بخاری نے وزیراعظم عمران خان کے ٹویٹ کی تفصیل دیتے ہوئے کہا تحریک انصاف کی حکومت ای او بی کے پنشنر کی مجبوریوں سے آگاہ ہے اس لئے وزیراعظم کی ہدایت پر ہم ای او بی پنشن مرحلہ وار بڑھائیں گے جنوری 2020ء سے 8500 کر رہے ہیں اور 2020ء جون بجٹ میں 10ہزار کریں گے اور آئندہ سالوں میں اسے 15ہزار تک لے جائیں گے یہ بڑا اعلان تھا 7لاکھ بزرگ بڑے خوش تھے اور عمران خان حکومت کو دعائیں دے رہے تھے۔ وزیراعظم نے اپنے ٹویٹ کو جنوری 2020 میں 6500روپے کو بڑھا کر 8500کرکے باقاعدہ ادائیگی شروع کرا دی۔ جنوری، فروری،مارچ تک 8500روپے ادا کیا جاتے رہے۔ کورونا کی وجہ سے ہونے والے لاک ڈاؤن کا شکار 7لاکھ بزرگ گھروں میں میں قید 8500روپے کی معمولی رقم کو بھی بڑا غنیمت سمجھ رہے تھے خوش فہمی کا شکار تھے کہ ہمارا چولہا جلتا رہے گا مگر اچانک مئی 2020ء سے دوبارہ 6500 روپے دیئے جانے کے اعلان نے غریب مزدور بزرگوں کی خوشیوں پر بم گرا دیا۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے گھروں میں قید سات لاکھ بزرگ مزدور سراپا اہتجاج ہیں کہ زلفی بخاری کے اعلانات کہاں گئے۔ وزیراعظم عمران خان غریبوں کے معاشی قتل پر کیوں خاموش ہیں ای او بی کے لاکھوں رجسٹرڈ پنشنر نے وزیراعظم سے مئی سے 8500روپے ادا کرکے عید کی خوشیاں دوبالا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے زلفی بخاری کے مرحلہ وار 15ہزار کرنے کے اعلان پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے اور ساتھ ہی غریب مزدوروں نی ای او بی میں اربوں روپے کی کرپشن کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -