آزادی کی جدوجہد، دہشت گردی نہیں

آزادی کی جدوجہد، دہشت گردی نہیں

  

اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سرکردہ ماہرین کے ایک گروپ نے بھارت کے انسداد دہشت گردی کے نئے قانون پر نکتہ چینی کی ہے جس کے تحت کسی بھی شخص کو دہشت گرد قرار دینے اور اس کی جائیداد کی ضبطی کے لئے حکومت کو غیر معمولی اختیارات دیئے گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قانون انسانی حقوق کے عالمی معیارات کی صریحاً خلاف ورزی ہے، ماہرین کے اس گروپ نے حکومت کے مخالفین اور حزبِ اختلاف سے روا رکھے جانے والے سلوک پر بھی بھارتی حکومت کو ہدفِ تنقید بنایا۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے کہا کہ بھارتی قوانین پر ماہرین کا اعتراض پاکستانی اور کشمیری موقف کی تائید ہے پاکستان نے ہمیشہ کہا کہ کشمیر میں حقِ خود ارادیت کی جدوجہد دہشت گردی نہیں بھارتی سرکار ان قوانین کا سہارا لے کر اختلاف رائے کو دبا رہی ہے مقبوضہ کشمیر میں قابض افواج انہی قوانین کا سہارا لے کر کشمیریوں پر ظلم کر رہی ہیں۔ عالمی ماہرین متعدد بار ان قوانین پر اعتراضات اٹھا چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کو بھارت کو اسلام دشمن کارروائیوں کا نوٹس لینا چاہئے بھارت کشمیر میں سنگین ریاستی دہشت گردی کا مرتکب ہو رہا ہے۔

مودی حکومت نے برسر اقتدار آتے ہی آر ایس ایس کے ایجنڈے پر کام شروع کر دیا تھا، دوسری مرتبہ انتخاب جیتنے کے بعد بی جے پی نے بھارت کو ہندو فرقہ پرست ریاست بنانے کا عمل تیز کر دیا، جموں و کشمیر کے متنازع علاقے کو جس کے بارے میں بھارت کے باپو گاندھی جی نے بھی کہا تھا کہ کشمیریوں کو خود ارادیت کے لئے جدوجہد کا حق حاصل ہے اور کشمیریوں کو ان کے اس حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا، بھارتی آئین میں ترمیم کر کے بھارت کا حصہ بنا لیا اس اقدام کے بعد سے آج تک کشمیر میں کرفیو کی کیفیت ہے کشمیری قیادت گرفتار ہے یا گھروں میں نظر بند ہے کشمیری رہنما یٰسین ملک کی جیل میں حالت نازک ہے لیکن انہیں علاج معالجے کی سہولتوں سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے۔ جن کشمیری رہنماؤں کو طویل نظر بندی کے بعد رہا کیا گیا ہے ان کی پارٹیوں میں توڑ پھوڑ کا عمل جاری ہے اور ایک چھوٹے گروپ کو ساتھ ملا کر مسلم اکثریتی ریاست کا وزیر اعلیٰ ہندو کو بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے اگرچہ مودی کو کئی بار اس میں ناکامی کا منہ بھی دیکھنا پڑا لیکن انہوں نے ابھی تک اپنا یہ کھیل بند نہیں کیا ابھی دنیا بھارت کے اس اقدام کی مذمت سے فارغ نہیں ہوئی تھی کہ ایک ایسا شہریت بل منظور کر لیا گیا جس کا مقصد مسلمانوں کی شہریت ختم کرنا تھا۔ اس کے خلاف ملک گیر مظاہرے ہوئے انسانی حقوق کے علمبرداروں نے اس بل کو واپس لینے کا مطالبہ کیا جس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ تمام ریاستوں میں پھیل گیا۔ کئی ریاستوں میں پولیس تشدد سے اموات بھی ہوئیں۔

دہلی کا احتجاج اتنا موثر تھا کہ اس کے خلاف حکومت کی کوئی چال کار گر نہیں ہو رہی تھی، بھارت کی فرقہ پرست جماعت آر ایس ایس کے غنڈوں کو پورے ملک سے جمع کر کے مظاہرین پر حملہ کرایا گیا مسلمانوں کو زندہ جلایا گیا ان کی املاک نذر آتش کی گئیں، پولیس تماشا دیکھتی رہی، دہلی کے مسلمانوں کے اس قتلِ عام کو کسی طرح بھی فسادات کا نام نہیں دیا جا سکتا کیونکہ یہ منظم قتلِ عام تھا، بعض آزاد صحافیوں نے اپنی رپورٹنگ میں اس بات پر زور دیا کہ اس قتلِ عام کو منظم کرنے میں ہندو انتہا پسند ملوث تھے آزادانہ رپورٹنگ کرنے والے ٹی وی چینل بند کر دیئے گئے صحافیوں کو دھمکیاں دی گئیں اور مظاہرین کے خلاف بے بنیاد الزامات کے تحت مقدمات قائم کئے گئے، دہلی میں یہ قتلِ عام اس وقت ہوا جب مودی نے گجرات میں ”نمستے ٹرمپ“ کا ڈرامہ رچا رکھا تھا۔ میڈیا کو ہدایت کی گئی کہ ساری توجہ صدر ٹرمپ کے اس استقبال پر مرکوز رکھی جائے اور مسلمانوں کے قتلِ عام کے واقعات کا بلیک آؤٹ کیا جائے۔ دہلی میں مسلمانوں کے اس قتلِ عام نے آزادی کے بعد ہجرت کر کے پاکستان آنے والوں پر حملوں کی یاد دلا دی جب آزاد ہندوستان میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جا رہی تھی اور اس وقت کے وزیر داخلہ پٹیل مسلمانوں کے اس قتل عام کی حوصلہ افزائی کر رہے تھے۔ دہلی کے تازہ واقعات بھی اس قتل عام کا ایکشن ری پلے قرار دیئے جا سکتے ہیں۔ اب بھی کٹر ہندو وزراء مسلمانوں کو بھارت سے چلے جانے کی دھمکیاں دیتے رہتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے اس سے پہلے بھی بھارت کے ان امتیازی قوانین پر اپنی تشویش ظاہر کی ہے کورونا کی وبا کے زمانے میں خاص طور پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے مذہب اور رنگ و نسل کی بنیاد پر یہ امتیازی سلوک عالمی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے اس سے پہلے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اپنی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں لیکن نہ صرف کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ رکنے میں نہیں آ رہا بلکہ اب یہ پورے بھارت تک پھیل گیا ہے عالمی قوانین آزادی و حریت کے لئے جدوجہد کرنے والوں کو دہشت گرد قرار نہیں دیتے لیکن بھارت نے کشمیر میں جو آٹھ لاکھ فوج متعین کر رکھی ہے اس کی ناکامیوں سے سٹپٹا کر کشمیریوں پر ظلم و ستم کا بازار گرم رکھا جاتا ہے یہ کشمیری حریت پسند بھارت کے ہتھکنڈوں سے تنگ آ کر جدوجہد کر رہے ہیں لیکن ان جانے پہچانے لوگوں کو جو کشمیر کے فرزند ہیں درانداز قرار دے کر قتل کیا جا رہا ہے جیلوں میں ہزاروں کشمیری قید ہیں۔ ان کے بارے میں ان کے گھر والوں کو بھی اطلاعات نہیں دی جاتیں۔

کشمیر کی اس بھیانک تصویر سے توجہ ہٹانے کے لئے بھارتی حکومت نے کنٹرول لائن پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے گولہ باری اور فائرنگ سے سرحدی دیہات کے نہتے لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے یہ سلسلہ سال ہا سال سے جاری ہے اس کے پردے میں کشمیری عوام اور بھارتی مسلمانوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، لیکن دنیا کی آنکھوں میں دھول نہیں جھونکی جا سکتی اسی لئے انسانی حقوق کے عالمی ماہرین اس پر اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے رہے ہیں اب بھی انہوں نے دہشت گردی کے خلاف بنائے گئے نئے قوانین کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے لیکن حالات کا تقاضا یہ ہے کہ عالمی ادارہ اپنے ماہرین کی اس رائے کی روشنی میں عملی اقدامات اٹھائے اور بھارت کو نہ صرف کشمیر میں تشدد کی کارروائیوں سے روکے بلکہ 22 کروڑ سے زائد مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کی بھارتی حکومت کی کوششوں کے سامنے بھی بند باندھے بڑی طاقتوں کو بھی اس سلسلے میں اپنی ذمے داریوں سے غافل نہیں ہونا چاہئے بھارتی اشتعال انگیزی ختم نہ ہوئی تو خطے کا امن مستقل خطرے میں پڑا رہے گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -