کرکٹ بورڈ کا فیصلہ، عامر، وہاب اور سرفراز احمد پر سوالیہ نشان

کرکٹ بورڈ کا فیصلہ، عامر، وہاب اور سرفراز احمد پر سوالیہ نشان

  

پوری دنیا سمیت پاکستان بھی کرونا کی وبا سے نبرد آزما ہے ایسے میں کاروبار حیات مشکل ہو چکے ہیں۔ کھیل بھی وائرس کی زد میں ہیں لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ اپنے کام میں مصروف ہے پہلے کھلاڑیوں کے آن لائن ٹیسٹ لئے گئے اور فٹنس کا اعلان ہوا۔ اب نئے سال کے لئے سنٹرل کنٹریکٹ کا اعلان کیا گیا۔ اٹھارہ کھلاڑی مستحق ٹھہرے، بعض کی تنزلی کچھ کی ترقی اور دو نئے کھلاڑی اعزاز کے قابل پائے گئے۔ مجموعی طور پر فیصلہ اچھا قرار دیا گیا۔ تاہم بورڈ نے اپنی روایت بھی برقرار رکھی اور دو اہم کھلاڑیوں سے انتقام بھی لیا اور ان کو سالانہ کنٹریکٹ سے باہر کر دیا یوں محمد عامر اور وہاب ریاض سینئر اور تجربہ کار ہونے کے باوجود ماہانہ مشاہرے سے محروم ہو گئے کہ انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں حصہ لینے سے انکار کیا تھا، اب یہ دونوں شاید قومی ٹیم میں جگہ نہ پا سکیں اور اپنی روٹی روز گار کے لئے لیگز ہی کھیلتے رہیں اس کے لئے بھی پی سی بی کی اجازت درکار ہوتی ہے۔ حسن رضا کو گزشتہ برس فٹنس مسائل کی وجہ سے کم کھیلنے کے باعث شامل نہیں کیا گیا وہ پھر بھی جگہ پا سکے گا پی سی بی بہتر کھلاڑی آگے لانے کی خوشخبری سناتا ہے تو اچھے کھلاڑیوں کا کیریئر بھی ختم کر دیتا ہے، بہر حال اظہر علی اور بابر اعظم کے متعلق فیصلے اچھے کہے جا سکتے ہیں نو عمر ابھرتے تیز باؤلر نسیم شاہ اور بلے باز وکٹ کیپر افتخار احمد کی شمولیت حوصلہ افزا ہے، تاہم سابق کپتان سرفراز احمد کی تنزلی سوالیہ نشان ہے، ماہرین کی اپنی آرا ہیں، ان کے مطابق سنٹرل کنٹریکٹ میں مزید چار کھلاڑیوں کی گنجائش موجود تھی کہ ہمیشہ 22 کھلاڑی ہوتے تھے اب اٹھارہ ہوں گے اور یہ کمی بہر حال عامر، وہاب اور حسن رضا سے ہی کی گئی ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -