کرپشن پر سیاست، تماشا جاری ہے

کرپشن پر سیاست، تماشا جاری ہے
کرپشن پر سیاست، تماشا جاری ہے

  

مجھ جیسے سادہ لوح پاکستانیوں کے کرپشن کی کہانیاں سن سن کر کان پک گئے ہیں۔ یہ شہزاد اکبر کیا چیز ہیں ہر دو چار ماہ بعد ایک کرپشن کہانی لے کر سامنے آ جاتے ہیں، بڑی بڑی ڈینگیں مارتے ہیں، ثبوتوں کے ڈھیر لگاتے ہیں، پھر کچھ پتہ نہیں چلتا کہانی کا اختتام کہاں ہوا؟ شاید اسی لئے انہیں شہباز شریف کی مبینہ کرپشن کا ”بھانڈا“ پھوڑتے ہوئے یہ کہنا پڑا ہے کہ ثبوت اتنے ہیں اب شہباز شریف کا بچنا مشکل ہے۔ اب کوئی اس بندے سے پوچھے کہ ارے میاں تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو کہ بچنا مشکل ہے، کیا تم خود ہی جج بن گئے ہو اور عدالت میں جانے سے پہلے تم نے فیصلہ بھی سنا دیا ہے۔ میں تو اس بات پر بھی حیران ہوں کہ ثبوت اگر مل گئے ہیں تو نیب کو دیئے جاتے یہ میڈیا پر آکر کہانیاں سنانے کا مقصد کیا ہے صاف لگ رہا ہے کہ شہزاد اکبر اپنی نوکری پکی کرنے کے لئے کچھ عرصے بعد ایک نئی داستان سنانے آتے ہیں، آگے کیا ہوتا ہے انہیں اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔

پہلے بھی انہوں نے کئی دن تک یہ کرپشن کہانی سنائی تھی کہ شہباز شریف نے زلزلہ زدگان کی امداد کے لئے آنے والی امدادی رقوم کو خرد برد کیا۔ اس پر بڑا شور مچا، لندن میں اخبار پر دعویٰ کرنے کی شہباز شریف نے دھمکی دی تو شہزاد اکبر نے سینہ تان کر کہا کہ سارے ثبوت موجود ہیں، شہباز شریف مجھ پر بھی دعویٰ کریں اب شہباز شریف نے لندن میں دعویٰ تو کر دیا ہے،

مگر ابھی تک پاکستان میں شہباز شریف سے یہ مبینہ رقم نکلوانے کے لئے کوئی مقدمہ نہیں کیا گیا۔ اس میں تو کوئی شک ہے ہی نہیں کہ پاکستان میں کرپشن ہوتی ہے اور اب بھی ہو رہی ہے اربوں، کھربوں روپے اس غریب قوم کے لوٹے گئے ہیں لیکن واپس ایک دمڑی نہیں ملی احتساب کے نام پر ڈرامے بہت ہوئے اور اب بھی ہو رہے ہیں جن کا نتیجہ سوائے سیاسی بیان بازی کے اور کچھ نہیں نکلتا۔ شریف خاندان دودھ کا دھلا نہیں، اس کے اکثر افراد اس لئے ملک سے باہر ہیں کہ ان پر یہاں کرپشن کے کیسز چل رہے ہیں مگر صاحبو! اس ساری مشق کا کوئی نتیجہ بھی تو برآمد ہونا چاہئے۔ جب تک شہباز شریف لندن میں تھے، نیب بھی سویا ہوا تھا اور شہزاد اکبر بھی خاموش تھے۔ جونہی وہ پاکستان واپس آئے ساری داستان کا محور بن گئے۔ اب اگر وہ احتساب کو نیب نیازی گٹھ جوڑ کا نام دیتے ہیں تو کیا غلط کرتے ہیں۔ شہزاد اکبر وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب ہیں لیکن وہ باتیں ایسی کرتے ہیں جیسے نیب کے ترجمان ہوں ٹی وی چینلوں پر آکر لمبے لمبے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کس اکاؤنٹ سے کس کے اکاؤنٹ میں کتنے ارب روپے گئے مگر یہ نہیں بتاتے کہ کرپشن کیسے ہوئی، پیسہ آیا کہاں سے، بے نامی اکاؤنٹس کی کہانیاں بھی آصف علی زرداری کیس میں بہت سنی گئیں، بہت سے دھوبی، پان فروش، دہی بیچنے والے اور مزدور اس ضمن میں سامنے لائے گئے کہ ان کے اکاؤنٹس میں کروڑوں روپے ڈالے اور نکالے گئے۔ مگر سوال یہ ہے اس کا نتیجہ کیا نکلا، آصف زرداری بھی گھر بیٹھے ہیں اور اومنی گروپ کے باقی کردار بھی عدالتوں سے ضمانت پا کر ہنسی خوشی زندگی گزار رہے ہیں۔

اب اس قسم کا ڈرامہ شہزاد اکبر شہباز شریف کے خلاف لے آئے ہیں یہ بس کاغذ ہی دکھاتے ہیں، اس کے بعد کسی ا ور کہانی کی تلاش میں نکل کھڑے ہوتے ہیں تاکہ اپنی نوکری کا جواز برقرار رکھ سکیں۔ اسی وجہ سے یہ شبہ ہوتا ہے کہ احتساب نیب نیازی گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ اگر شہزاد اکبر شہباز شریف کے خلاف کرپشن کی نئی کہانی سنانے کی بجائے یہ تمام ثبوت نیب کو دیتے اور نیب اس پر کارروائی کا آغاز کرتا تو شاید یہ شبہ نہ ہوتا کہ نیب حکومت کا آلہئ کار بنا ہوا ہے۔ یہ پہلے میڈیا پر آکر بڑی بڑی بڑھکوں کے ساتھ کرپشن کے سکینڈل کو بے نقاب کرنا اور یہ فیصلہ دینا کہ اب شہباز شریف کے بچنے کی کوئی گنجائش نہیں اور پھر یہ کہنا کہ اس پر کارروائی نیب کرے گا، تو یوں لگتا ہے کہ جیسے نیب صرف وہی کرتا ہے، جس کا حکومت حکم دیتی ہے، حالانکہ نیب تو ایک آزاد ادارہ ہے اور وہ کرپشن کے معاملے میں حکومتِ وقت کے خلاف بھی کارروائی کا مجاز ہے آئے روز نیب کی طرف سے ایسا وضاحتی بیان بھی آ جاتا ہے کہ نیب قومی ادارہ ہے اور کسی کا آلہئ کار نہیں تو پھر وزیر اعظم کے معاون خصوصی ایسی پریس کانفرنسیں کیوں کرتے ہیں، جن سے نیب کی پوزیشن متنازعہ ہو جاتی ہے۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ نیب نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر کی پریس کانفرنس پر اپنا رد عمل کیوں نہیں دیا اور کیوں نہیں کہا کہ ہمارے پاس شہباز شریف کے خلاف کسی نئے کیس کے کوئی شواہد موجود نہیں، شہزاد اکبر کے بیان کو نیب کا بیان نہ سمجھا جائے۔

نوازشریف کے خلاف یہی شہزاد اکبر قوم کو خوشخبری سناتے رہے کہ اربوں روپے ملک میں آنے والے ہیں، لندن میں بیٹھ کر جائیدادیں قرق کرانے کی کہانی بھی یہی موصوف تھے جنہوں نے قوم کو سنائی۔ اسحاق ڈار، سلمان شہباز اور نجانے کون کون سے کروڑوں کا ذکر کر کے یہ شرلاک ہومز قومی خزانہ بھرنے کی نوید لے کر آنے والے تھے کہ درمیان میں نیب آ گیا جس نے ساری امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ کل یہی شہزاد اکبر ایک ٹی وی چینل پر بیٹھے کہہ رہے تھے کہ کرپشن ایک وائٹ کالر کرائم ہے، جسے ثابت کرنا آسان نہیں ہوتا، اگر یہ اتنا ہی مشکل کام ہے تو موصوف فوراً پریس کانفرنس کر کے اس کا ڈھنڈورا کیوں پیٹتے ہیں کیا اس کا مقصد صرف یہی نہیں کہ مقصد صرف سیاسی کردار کشی ہے اور کچھ نہیں نیب کو گرفتاری کا بہت شوق ہے، گرفتاری کے بعد ریفرنس دائر کرنے کی نوبت کم ہی آتی ہے اور احتساب ایک مذاق بن جاتا ہے، حمزہ شہباز شریف کو کتنے ماہ ہو گئے، نیب نے جیل میں رکھا ہوا ہے، مگر ابھی تک ریفرنس دائر نہیں ہوا، خورشید شاہ کی ضمانت کے خلاف نیب نے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا ہے، لیکن ان کا ٹرائل ابھی تک شروع نہیں کیا خواجہ برادران کئی ماہ نیب کی حراست اور جیل میں گزارنے کے بعد ضمانت پر باہر آ گئے لیکن ریفرنس ندارد، شاید خاقان عباسی، احسن اقبال کو بڑے طمطراق سے گرفتار کیا گیا،

نتیجہ ضمانت پر رہائی اور نیب کی خاموشی، پنجاب کے صوبائی وزیر عبدالعلیم خان کئی ماہ نیب کی حراست میں رہنے کے بعد باہر آ گئے نتیجہ صفر، شہباز شریف کو بھی نیب نے گرفتار کیا، ریمانڈ لیا، ضمانت پر رہائی مل گئی، یہ سب کھیل تماشے احتساب کے نام پر ہوتے ہیں اب تو کپتان نے بھی یہ کہنا چھوڑ دیا ہے کہ میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا، شاید وہ بھی یہ جان گئے ہیں کہ وہ کسی کو پکڑ ہی نہیں سکتے، چھوڑنے کا سوال تو دور کی بات ہے ایک ایسی صورت حال میں کہ جب کورونا نے پورے ملک کو ایک ہیجانی کیفیت سے دو چار کر رکھا ہے آخر نیب یا شہزاد اکبر کس ایجنڈے پر گامزن ہیں۔ اس وقت ضرورت تو اس امر کی ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام پیدا کیا جائے۔ کرپشن کے نئے کیسز کا ڈھنڈورا پیٹنے کی کیا ضرورت ہے جو پہلے درج ہو چکے ہیں انہیں تو کسی کنارے لگاؤ، کسی ایک میں تو بڑی شخصیت کو سزا دلواؤ، مال برآمد کراؤ، صاف لگ رہا ہے کہ اس وقت اس بے وقت کی راگنی چھیڑنے کا مقصد صرف عوام کی توجہ بانٹنا ہے، جو کورونا کے دباؤ میں زندگی گزار رہے ہیں، دوسرا مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ شہباز شریف جو ایجنڈا لے کر پاکستان آئے ہیں اسے سبوتاژ کیا جائے۔ ایسی شعبدہ بازی سے احتساب پاکستان میں ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے۔ نیب کی کارروائیاں دیکھ کر ”کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا دو آنے“ والی کہاوت یاد آ جاتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -