تاریخ اسلام کا اہم ترین فیصلہ

تاریخ اسلام کا اہم ترین فیصلہ
تاریخ اسلام کا اہم ترین فیصلہ

  

تاریخ اسلام کا سب سے اہم فیصلہ! واقعتاً سب سے اہم!لیکن پہلے ایک خوشخبری! پچھلا کالم بھیجا ہی تھا کہ خبر ملی؛ برادر مسلم لیکن دستوری سیکولر ملک بنگلہ دیش میں بھی مساجد کھل گئیں۔یوں انڈونیشیا، پاکستان، بنگلہ دیش جیسے بڑے بڑے اور افغانستان، صومالیہ اور چند دیگر افریقی ممالک کے یعنی سب کو ملا کر دنیا کے نصف سے کہیں زیادہ مسلمان پوری دلجمعی سے تراویح پڑھ کر رمضان کی برکات سے فیض یاب ہورہے ہیں۔جرمنی، بائیلو روس، سویڈن، برازیل اور کئی دیگر ممالک کی اقلیتی مسلمان آبادی بھی اس نعمت میں ہمارے ساتھ ہے۔ ایک ماہ قبل تمام مکاتب فکر کے علماء، ماہرین طب اور اہل دانش نے مل کر رمضان میں مسجدیں کھلی رکھنے کا فیصلہ کیا تھا جسے صدر مملکت کی منظوری بھی حاصل ہو گئی۔ سائنسی انداز کار پر مبنی ایک بہترین عملی طریقہ وضع کیا گیا جو ہمارے بازاروں، تجارتی مراکز، دفاتر اور منڈی وغیرہ میں میل جول کے طریقوں سے کہیں زیادہ محفوظ، کارآمد اور سائنٹیفک ہے۔

بڑی دل گرفتگی کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ حفاظت دین کے لیے ہم پہلے ہی ملحدین، زنادقہ،بے دین اور دیگر دین دشمنوں سے لڑ رہے تھے، کرونا کے حالیہ بحران میں تراویح بند کرانے کو ہمارے بعض سکہ بند اور عملی مسلمان اور دوست بھی شریک ہوگئے۔ آج کی گفتگو ایسے ہی اصحاب کی نذ ر ہے جن کے نزدیک تراویح بس نفلی عبادت ہے، مسلمان کا ذاتی فعل ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو بس تین دن یہ نماز ادا کی، یہ فرض نماز ہے ہی نہیں، یہ بدعت ہے، وغیرہ وغیرہ۔ علمی زندگی میں مناظرے کا مقام وہی ہے جو کانچ سے بھری دکان میں بپھرے سانڈ کا ہوتا ہے۔ علمی زندگی میں احترام کے ساتھ تبادلہ خیال سے بسا اوقات ایک الگ اور بالکل نیا نکتہ ابھر آتا ہے:"اور وہ (مسلمان) اپنے امور مشاورت سے طے کرتے ہیں ". تراویح کے مخالف باعمل مسلمانوں کو میں دعوت فکر دیتا ہوں کہ وہ غور کرکے بتائیں۔ ان کی مجوزہ بندش تراویح سے اس ممکنہ ناقابل تلافی نقصان سے اور دین کی پوری عمارت گرانے والے عمل سے پیدا شدہ اس نقصان کا ازالہ کیسے ہوگا جس کا ذکر آگے آرہا ہے۔ آئیے مسئلے پر غور کرتے ہیں، جواب ذرا سوچ سمجھ کر بتائے گا۔

آپ نے اکثر اوقات ماہ رمضان میں اپنی مساجد میں ظہر سے قبل اور کبھی بعد میں دو افراد کو آمنے سامنے بیٹھے دیکھا ہوگا۔ یہ حضرات ایک دوسرے کو قرآن سنا رہے ہوتے ہیں۔ رات کو تراویح میں ایک امامت کراتا ہے تو دوسرا سامع بن کر اس کی قرآت سنتا ہے۔ امام بھول جائے تو سامع لقمہ دے کر اصلاح کرتا ہے۔ دائیں بائیں، خاندان برادری، گاؤں محلے اور اڑوس پڑوس کا جائزہ لیں، آپ کو متعدد دیگر حافظ قرآن مل جائیں گے۔ یہ لوگ غریب غربا نہیں ہوتے، ان میں کھاتے پیتے گھرانوں کے افراد بھی ہوتے ہیں۔ جامعات کا جائزہ لیں، آپ کو حوصلہ افزا تناسب میں حفاظ ملیں گے۔ اب آپ کسی طرح ان حفاظ کی حفظ قرآن کی حالیہ کیفیت کا جائزہ لیں جو تراویح کی امامت نہیں کرتے۔آپ کو افسردگی کے بڑے حجم کے ساتھ وہ حفاظ ملیں گے جو قرآن بھول چکے ہوں گے۔ یہ تناسب عمر کے ساتھ بڑھتا چلا جاتا ہے۔آپ کو افسوسناک اندازہ ہوگا کہ بچپن لڑکپن میں حفظ کر کے تراویح نہ پڑھانے والے چالیس سال عمر تک قرآن کو تقریبا بھول چکے ہوتے ہیں۔ پچھلی شناخت کے باعث لوگ انہیں حافظ سمجھتے ہیں لیکن ان کے سینوں سے رسم اذاں اور بدن سے روح بلالی دونوں رخصت ہوچکے ہوتے ہیں۔

یوں ہمارے سامنے حفاظ کے دو زمرے آگئے: تراویح والے حفاظ اور دیگر حفاظ۔ اب ہم ان دونوں کے تناسب پر بات کرتے ہیں۔ میرا تاثر ہے کہ دس تا پندرہ فیصد حفاظ وہ ہوتے ہیں جو تراویح نہیں پڑھاتے۔ یہ تناسب ذرا کم و بیش ہوسکتا ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جن کے والدین اسلام سے والہانہ محبت کے باعث انہیں حافظ بناتے ہیں۔ باقی اسی نوے فیصد حافظ وہ ہیں جو ہر سال تراویح پڑھاتے ہیں یا سامع ہوتے ہیں۔ یوں ہم نے یہ نتیجہ نکالا کہ کل حفاظ میں سے دس فیصد کے لگ بھک حافظ تھوڑے ہی عرصے میں قرآن بھول چکے ہوتے ہیں۔ 85 یا 90 فیصد باقی وہ ہوتے ہیں جنہیں قرآن یاد رکھنے کے لیے ہر سال کم از کم ایک دفعہ ایک دوسرے کو قران سنا کر تراویح پڑھانا پڑتی ہیں، تب کہیں انہیں قرآن یاد رہتا ہے۔ اب آپ اپنے گلی محلے، شہر بستی کا جائزہ لے کر خود اندازہ لگا لیں کہ ماہ رمضان میں کتنی مساجد میں تراویح کا اہتمام ہوتا ہے۔ آپ کو اندازہ ہوگا کہ ملک بھر میں یہ مساجد ہزاروں نہیں، لاکھوں میں ہیں۔

میرے گھر سے پیدل 3 منٹ دوری پر جنوب میں ایک مسجد، دو منٹ پیدل شمال میں ایک مسجد، ذرا آگے تین منٹ پر ایک اور مسجد، اسی سے تین منٹ آکے ایک اور مسجد۔ اور ایک مسجد مشرق میں سات منٹ پیدل دوری پر واقع ہے۔اس ایک مربع میل بستی میں دس حافظ ہرسال قرآن سنتے اور سناتے ہیں۔ کرونا کے حالیہ بحران میں کئی نے گھر میں تراویح کا اہتمام کر رکھا ہے جہاں حافظ و سامع دونوں ہوتے ہیں۔ ساری بستی کا تو پتا نہیں لیکن میرے گھر سے ایک گھر چھوڑ کر اگلے مکان میں یہ اہتمام موجود ہے جہاں دو افراد قرآن سنتے اور سناتے ہیں۔ پوری بستی میں ایسے متعدد گھر اور بھی ہیں۔اب آپ ذرا سی محنت کرکے اس ایک بستی کو پورے ملک پر اور پھر پورے ملک کو عالم اسلام پر پھیلا کر حفاظ کی تعداد کا حساب خود کرلیں، جواب کروڑوں میں آئے گا۔

اب تھوڑی دیر کے لئے فرض کرلیں کہ عالم اسلام نے کرونا کے اس موجودہ بحران میں مخالفین تراویح سے متاثر ہوکر تراویح کو نفل مان لیاہے۔ اب لوگ رسول اللہ کی طرح تین دن گھر پر کبھی کبھی بس چند رکعتیں پڑھ لیتے ہیں۔ یہ سلسلہ چل نکلے تو نتیجہ کیا نکلے گا؟ فقہی و شرعی لحاظ سے کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔ یہ عین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کی پیروی ہوگی۔ خوش ہوجائیے،اے مخالفین تراویح، خوش ہوجائیے! رسول اللہ کے ایک عمل کو بشکل اجتماع آپ زندہ کرنے میں کامیاب ہوگئے. مبارک! یہ عین نیکی ہے۔ لیکن اس نیکی کی قیمت کیا ادا ہوگی؟ مساجد بند اور پچاسی نوے فیصد حفاظ محض دو چار سالوں میں قرآن کو مطلقا بھلا چکے ہوں گے، باقی دس پندرہ فیصد حفظ کر کے دو چار سالوں میں پہلے ہی بھلا چکے ہوتے ہیں۔اس طرح ان فاضل پروفیسروں اور الل ٹپ لکھنے والے قلم کاروں کی مسلسل تبلیغ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت زندہ ہو جائے گی۔ بدلے میں چند سالوں کے اندر کرہ ارض سے حفاظ اسی طرح ناپید ہو جائیں گے جس طرح زندگی کی دیگر انواع دنیا سے غائب ہوچکی ہیں۔ "کچھ جو سمجھا میرے شکوے کو تو رضواں سمجھا" اب آپ سمجھ چکے ہوں گے کہ مخلوق کے پردے میں خالق کیسے بولتا ہے.

اور خالق کائنات نے فاروق اعظم اور محرم راز خالق کائنات کے دیگر تمام ساتھیوں سے مل کر چودہ صدیاں قبل حفاظت قرآن کا فیصلہ کیوں کر کرایا تھا۔ اے خبردار! یہ الہامی فیصلہ ہے جو خالق کائنات نے اپنی مخلوق سے خود کرایا ہے۔ کیا اس کی اجازت کے بغیر پتہ بھی سے ہل سکتا ہے؟ اخباری مجتہدین, پروفیسروں, ٹی وی چینل پر ہر موضوع پر گفتگو کرنے والے چرب زبان ماہرین کرونا,اسلامی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ماہرین فقہ اور یوٹیوب پر بیٹھے "لائک" کے دریوزہ گر مولوی صاحبان سے میرا سوال: آپ لوگوں نے بولنے اور مسلسل بولنے لکھنے کی بجائے کبھی سنجیدگی سے غور کیا کہ جس کام کو کروڑوں اربوں مسلمان چودہ صدیوں سے ایک ہی تسلسل سے کرتے چلے آرہے ہیں، آپ لوگ شہرت اور لائک کے کشکول بھرے جانے کی امید پر اس کی مخالفت کیے جا رہے ہیں تو کیوں؟ کیا آپ لوگوں نے کبھی سوچا کہ آپ کی تحریروں اور تقریروں کا کیا نتیجہ نکلے گا؟ جی، آپ کی تحریروں کو دین دشمن، ملحدین، کم علم اور کم فہم مسلمان تو اچھالتے پھرتے ہیں لیکن عام پڑھے لکھے اور ان پڑھ مسلمان ٹس سے مس نہیں ہوتے، آخر کیوں؟

جواب بڑا سادہ ہے، پر سمجھنے کے لئے ذرا دیر کے لیے آپ کو اپنا ہٹیلا پن چھوڑنا پڑے گا۔عام مسلمان وہی کرتے ہیں جو ان کے نبی کہہ گئے ہیں۔ اب نبی کی مسند پر نبی کے وارث علماء بیٹھے ہیں۔ عام لوگ انبیاء کے ان وارثوں کی اقتداء کرتے ہیں۔ اور انبیاء کے وارث مساجد اور مدارس میں پائے جا تے ہیں۔ اخبارات اور ٹی وی پر کبھی کبھار چلے جاتے ہیں لیکن فی الاصل یہ وہ مچھلیاں ہیں جو مسجد و مدارس کے تالاب ہی میں پھلتی پھولتی ہیں۔گھر کے اندر ہمیں ایک پیچیدہ عائلی و قانونی مسئلہ درپیش تھا۔ فقہ اسلامی کے مطابق میں نے والد صاحب مرحوم کے سامنے حل رکھا۔ بھائیوں نے سنا، باپ نے سنا، سنی ان سنی کردی، چچا رشید کو بلا

لائے۔"دیکھو بھئی سنو, یہ کیا کہہ رہا ہے۔" چچا کے دل کو تو میری بات کچھ لگی لیکن اسلامی قانون میں میری تمام معلومات یا دلچسپی کے باوجود سب نے میری رائے کو ایک کان سے سنا اور دوسرے سے اڑا دیا۔ وہی رائے ہمارے مولانا حفظ الرحمان صاحب مرحوم نے میری بھرپور تائید میں دی تو سب تائیدی انداز میں سر ہلانے لگے۔ میں ذرا اکڑنے لگا تو والد صاحب کچا پڑھنے کی بجائے دفعتاً مشتاق یوسفی کے ایک کردار، چنیوٹ کے باسی لیکن کانپور میں مقیم میاں نذیر بن گئے۔ "ٹھیک ہے کانپور اور چنیوٹ دونوں جگہ گرمیوں میں پارہ 104 ڈگری ہی ہوتا ہے، پر صاحب! چنیوٹ کی لو، کانپور کی لو سے بدرجہا بہتر ہے۔" میں خود بیس تراویح پڑھتا ہوں، کبھی آٹھ پڑھ لیتا ہوں، اور کبھی بالکل نہیں پڑتا۔ "ان میں غافل بھی ہیں, کاہل بھی ہیں, ہوشیار بھی ہیں " لیکن تراویح کے اس ادارے کی مخالفت؟ الامان و الحفیظ!!!

پچھلے چالیس سالوں میں اسلامی یونیورسٹی نے متعدد مرتبہ دارالافتاء چلانے کی کوشش کی، پر بات کہاں مولوی مدن کی سی۔ یہ دارالافتاء یکے بعد دیگرے بند ہوتے چلے گئے۔ اسلامی یونیورسٹی کی علمیت اور نیک نامی کے باوجود لوگ ان سے رجوع ہی نہیں کرتے۔ مسلم فیملی لاء آرڈیننس 1961 کے تحت طلاق کا ایک قانونی طریقہ موجود ہے۔ ذرا گاؤں محلے میں جائزہ لیں، کتنی طلاقیں اس قانون کے تحت ہوتی ہیں اور کتنی علماء کے مشورے سے ہوا کرتی ہیں مراکش سے برونائی تک کسی ملک میں چلے جائیں آپ کو ایک ہی طرح کا وضو کرتے مسلمان نظر آئیں گے۔ جی ہاں، ایران میں بھی! پورا ایک ہفتہ یہی مشاہدہ کرنے میں گزارا کہ شاید کوئی ایک شیعہ بھائی وضو کا آغاز پاؤں سے کرتا نظر آئے، جیسے اپنے ہاں مشہور ہے، ایک شخص نہیں ملا۔ یہ طریقہ لوگ کتب فقہ پڑھ کر یا کسی اکیڈمی سے سیکھ کر اختیار نہیں کرتے۔ چودہ صدیوں سے اسی ایک طریقہ پر وضو ہو رہا ہے جیسے محرم راز خالق کائنات نے کیا تھا۔ اس کا تعلق کتب حدیث میں مذکور طریقے سے یقینا ہے لیکن وہی طریقہ فی الاصل تعامل امت کی شکل میں ہے۔ یہ تعامل چودہ صدیوں سے ایک ہی انداز، ایک ہی تسلسل، ایک ہی لے، ایک ہی آہنگ اور کتب حدیث سے رجوع کئے بغیر چلاآرہا ہے۔ تراویح کی ماہیت، ان کی جاذبیت اور ان کی عباداتی حیثیت محرم راز خالق کائنات کے ساتھیوں نے طے کردی ہے۔ مسلمانوں کی غالب اکثریت اس پر عمل کر رہی ہے۔ "ٹھونکوں " سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا۔

چنانچہ اے جز وقتی ماہرین فقہ و اہل دانش! بڑی دلسوزی سے گزارش ہے کہ دین اسلام پر بیرونی حملہ آور ہی کیا کم تھے کہ اب آپ بھی آ گئے۔ تراویح کا ادارہ فرض، واجب، نفل اور بدعت پر آپ کی علمی گفتگو کے لئے نہیں، اس کے پردے میں خالق کائنات نے اپنے آخری الہامی صحیفے کو اپنی اصل حالت میں محفوظ کرنے کا خود بندوبست کر رکھا ہے جو آپ لوگوں کی سمجھ ہی میں نہیں آتا۔ لوگوں کے سینوں میں قرآن نہ رہا تو آپ کو کیا غم ہوگا؟ آپ کے موبائل فون میں تو قرآنی خطاطی کے درجنوں نمونے موجود ہیں۔ اس الہامی کتاب کو پڑھے ہوئے کتنا عرصہ ہوگیا ہے؟ اے خبردار! تراویح کا ادارہ حفاظت قرآن کی سب سے موثر شکل ہے. اس کی مخالفت سے "تمہارے اعمال اس طرح ضائع ہوں گے کہ تمہیں پتا بھی نہیں چلے گا" طوطیا من موتیا, اس گلی نہ جا!!! جاؤ جاؤ,ضرور جاؤ. پر ٹھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا۔ نامہ اعمال ضرور سیاہ ہو گا، یہ حفاظت قرآن کا مسئلہ ہے، تماشا نہیں ہے۔اے خبردار! یہ فرض، سنت، واجب، نفل نہیں، اس سے آگے سدرہ المنتہیٰ ہے، ہاں جی!!!

مزید :

رائے -کالم -