ہم کس عید کا انتظار کر رہے ہیں؟

ہم کس عید کا انتظار کر رہے ہیں؟
ہم کس عید کا انتظار کر رہے ہیں؟

  

ملٹری ہسٹری میں جب کسی بھی جنگ کی ہسٹری پڑھی یا پڑھائی جاتی ہے تو تین اہم پہلوؤں پر توجہ دی جاتی ہے…… میری مراد (1) اسباب،(2) واقعات اور (3) نتائج سے ہے…… سب سے اہم پہلو جنگ کی وجوہات پر مبنی ہوتا ہے۔ دیکھا جاتا ہے کہ جنگ کی وجوہات کتنی ٹھوس تھیں اور یہ بھی کہ کیا ان سے بچا جا سکتا تھا؟ اگر بچا جا سکتا تھا تو اس طرف متوجہ نہ ہونے کے اسباب کیا تھے۔ ملٹری ہسٹری کا ایک طالب علم ہونے کی حیثیت سے میں نے یہ جانا ہے کہ تمام جنگوں کی وجوہات یکساں تھیں۔ متحارب فریقین ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لئے بے تاب رہا کرتے تھے۔ یہ بے تابی مختلف ادوار میں مختلف روپ دھارتی رہی اور مختلف سکیل پر اس کا اظہار ہوتا رہا۔ لیکن بنیادی اور واحد وجہ وہی تھی کہ ایک فریق دوسرے فریق کو نیچا دکھانا چاہتا تھا۔یہ باہم کشیدگی افراد میں بھی تھی، قبائل میں بھی اور اقوام میں بھی!…… روزِ ازل سے آج تک یہی وتیرہ چلا آ رہا ہے۔

مطالعہ ء جنگ کی دوسری منزل واقعاتِ جنگ تھے۔ یہ واقعات، متحارب فریقوں کے وسائلِ جنگ پر مبنی ہوتے تھے۔ جب تک یہ وسائل قائم اور باقی رہتے تھے، جنگ جاری رہتی تھی۔ اور جب یہ ختم ہو جاتے تھے تو جس فریق کے پاس ابھی تک باقی رہتے تھے اس کی فتح ہو جاتی تھی۔ اور یہ فتح اس وقت تک باقی رہتی تھی جب تک دوسرے فریق نے اپنے کم تر وسائل کو Replenish نہیں کر لیا ہوتا تھا۔ یعنی اپنی قلت اور کمی کا کوئی مداوا نہیں ڈھونڈ لیا ہوتا تھا۔ جب وسائل برابر نظر آنے لگتے تو پرانی چھیڑ چھاڑ شروع ہو جاتی اور یہی چھیڑ چھاڑ اور جنگ کی ”خارش“ وجوہاتِ جنگ کا غالب حصہ بنتی تھی۔

کسی جنگ کا تیسرا مرحلہ ”نتائج“ کہلاتا ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ ان نتائج سے کوئی سبق سیکھا جاتا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ تاریخِ جنگ کے یہ تینوں مراحل یعنی وجوہات، واقعات اور نتائج آج بھی وہی ہیں اور آنے والے ادوار میں بھی وہی رہیں گے۔ اور یہ دنیا اسی طرح چلتی رہے گی۔ اللہ رب العزت نے قرآنِ حکیم میں جو فرمایا ہے کہ ہم ایام کو اقوام کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں تو اس کا ثبوت گزری صدیوں میں تاریخِ جنگ و جدل کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے اور آنے والے زمانوں میں بھی موجود رہے گا…… خدا کے احکامات تبدیل نہیں ہوتے…… اس نے ایام کو اقوام میں پھیرتے ہی رہنا ہے:

زندگی اقوام کی بھی ہے یونہی بے اختیار

رنگ ہائے رفتہ کی تصویر ہے ان کی بہار

اس زیاں خانے میں کوئی ملتِ گردوں وقار

رہ نہیں سکتی ابد تک بارِ دوشِ روزگار

ہے نگینِ دہر کی زینت ہمیشہ نامِ نو

مادرِ گیتی رہی آبستنِ اقوامِ نو

زمانے کی ماں ہر دور میں حاملہ (آبستن) رہتی ہے اور اس کے بطن میں ہمیشہ نئی اقوام پرورش پاتی رہتی ہیں۔ یہ اقوام، شکمِ مادر میں جنین کی حالت میں موجود رہتی ہیں۔ کس جنین نے، نومولود کی صورت میں جنم لینا ہے اس کا کوئی نوٹس،کسی کو بھی یہ مادرِ گیتی پیشگی نہیں دیتی…… تاریخِ عالم کا مطالعہ کریں تو آپ کو اس دعوے کا ثبوت ڈھونڈنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔

اب آیئے دورِ حاضر میں کورونا وائرس کی وبا کے خلاف جنگ کی طرف…… یہ جنگ کی ایک جدید صورت ہے۔ کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ وار فیئر کی کون سی جنریشن ہے، ففتھ، سکستھ، یا سیونتھ…… مستقبلِ قریب کا مورخ کورونا کے خلاف جنگ کو یہ نام ضرور دے گا۔ دبے لفظوں میں آج بھی امریکہ اور چین ایک دوسرے پر الزام لگا چکے ہیں کہ یہ وائرس کس طرح ایک فریق سے دوسرے فریق میں گیا ہے، کس وسیلے سے گیا ہے اور اس کا ثبوت کیا ہے وغیرہ وغیرہ۔

ماضی کی جنگوں کا مزاج یہ تھا کہ اس میں متحارب بلاک بنا کرتے تھے لیکن اس کورونا وائرس کی جنگ میں کوئی بلاک نہیں۔ ساری دنیا ایک واحد بلاک ہے۔ وائرس تو پہلے بھی نمودار ہوتے رہے ہیں لیکن ان کے اثرات عالمگیر نہیں تھے، مقامی، علاقائی یا زیادہ سے زیادہ براعظمی (Continental) تھے، بین البراعظمی نہیں تھے۔ بین الاقوامی تھے لیکن بین النوعِ انسانی نہیں تھے۔ یہ ظالم کورونا تو پوری دنیا کو ایک تسبیح میں پرو گیا ہے۔ اس عالمی تسبیح کے دانے 209 ہوں یا 210، ان سب پر اس وائرس نے حملہ کر دیا ہے۔کوئی ملک، قوم، قبیلہ اور مذہب اس سے محفوظ نہیں اور یہ قرآنِ حکیم کی اس آیہء کریمہ کی ایک اور جامع تفسیر ہے کہ”ہم ایام کو اقوام کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں“۔

دیکھا جا رہا ہے اور ہم دن رات میڈیا پر بھی یہی بحث سن رہے ہیں کہ لاک ڈاؤن سخت کریں یا نرم کریں۔ وفاق نرم کرنے کا نعرہ لگاتا ہے اور اس کی تاویل و تعبیر پیش کرتا ہے تو ایک صوبہ اس کی شدت سے نفی کرکے اپنی ”اپوزیشن“ کے وجود کا احساس دلاتا ہے…… آپ ذرا ذہن پر زور دیجئے کہ وفاق یا صوبے کو لاک ڈاؤن نرم یا سخت کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ اس ”نرمی“ میں وفاق کا نفع یا نقصان کیا ہے اور صوبے کے سود و زیاں کا قصہ کیا ہے؟ دنیا کے دوسرے ممالک اگر لاک ڈاؤن میں سختی یا نرمی کر رہے ہیں تو اس کے نتائج کیا ہو سکتے ہیں اور پاکستانی قوم کہاں کھڑی ہے؟ غضب خدا کا کہ ذرا سا لاک ڈاؤن نرم کیا ہے تو طے شدہ باہمی سمجھوتوں کی دھجیاں اڑا دی گئی ہیں تاجروں نے حکومت کو جو یقین دہانیاں کروائی تھیں اس کا ثبوت یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ بازاروں اور مارکیٹوں میں کھوے سے کھوا چھل رہا ہے۔ دنیا کی کوئی بھی اور قوم یہ ”خودکشی“ نہیں کر رہی۔ یہ ہماری پاکستانی قوم ہی ہے جو اس چیلنج کی سنگینی کا احساس نہیں کر رہی۔ بس ڈھور ڈنگروں کی طرح عوام سڑکوں اور بازاروں پر آکر ایک سیلاب کی طرح پھیل رہے ہیں۔ ذرا ووہان (Wuhan) کو یاد کیجئے۔ وہاں چین نے لاک ڈاؤن کیا تو وہ واقعی حقیقی لاک ڈاؤن تھا۔ لیکن پاکستانی وزیراعظم جب یہ کہتے ہیں کہ پاکستان، چین یا دوسرے ترقی یافتہ ممالک کی تقلید نہیں کر سکتا تو ان کے استدلال پر غور کیجئے۔ ملکی سطح کے لیڈر کو جو کجھ نظر آ رہا ہوتا ہے وہ ایک عام آدمی کی نگاہ سے اوجھل ہوتا ہے۔

ذرا غور فرمایئے اگر کورونا وائرس پھیلا اور اٹلی، سپین، برطانیہ اور فرانس جیسی صورتِ حال ہمارے ہاں بھی پیدا ہو گئی تو حکومت کتنے مریضوں کو سنبھال سکے گی؟…… کتنے ڈاکٹر فراہم کر سکے گی؟…… کتنے تحفظی لباس اور آئسولیشن وارڈ حکومت کے پاس ہیں؟…… کتنی قبریں کھود سکے گی…… کتنوں کی تدفین کا انتظام کر سکے گی…… کس درجے کی افراتفری ہوگی؟…… گاؤں، قصبوں اور شہروں کا کیا عالم ہوگا؟……کون سا میڈیا اس صورت کی پرنٹ، آڈیو یا وڈیو کوریج ہمارے سامنے رکھ سکے گا؟…… کیا اس وقت بھی ہمارے بازاروں، شاپنگ مالوں، سڑکوں اور گلیوں کا وہی عالم ہوگا جو آج لاک ڈاؤن نرم ہونے کی صورت میں نظر آ رہا ہے؟…… ذرا چشمِ تصور وا کیجئے اور وہ خوفناک مناظر دھیان میں لائیے کہ جب سینکڑوں ہزاروں کی تعداد میں لوگ ایڑیاں رگڑ رہے ہوں گے، کوئی پرسانِ حال نہیں ہوگا، باپ بیٹے کو اور بیٹی ماں کو بھول جائے گی، گھر گھر میں ماتم کا سماں ہوگا اور (میرے منہ میں خاک) رونے دھونے والا کوئی نہ ہوگا…… کیا پاکستانی قوم اس تباہ کن منظر کی منتظر ہے؟…… ہم کیوں اپنی جان کے درپے ہیں؟ کیوں نہیں سمجھتے کہ حکومت کے پاس اس کے سوا چارہ نہیں کہ وہ لاک ڈاؤن کو نرم تو کر دے لیکن جن شرائط کے ساتھ نرم کرے ان کا پالن بھی کیا جائے…… کیا اپوزیشن یہ انتظار کر رہی ہے کہ یہ دلدوز مناظر تخلیق ہوں اور حکومت گرے اور وہ اس کی جگہ لے؟…… کیا ہمیں اس وقت ہوش آئے گی جب سب کچھ لٹ چکا ہوگا۔ کیا کوئی خدا کا بندہ اپوزیشن کو یہ یقین دلائے گا کہ یہ وقت اپوزیشن کرنے کا نہیں، ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کا نہیں اور حکومت کے سقوط کے انتظار کا نہیں۔ اگر حکومت کل کلاں گر بھی گئی تو اپوزیشن کن عوام پر حکمرانی کرے گی؟ کیا قبرستانوں پر؟…… کیا لاشوں پر؟ کیا گھر گھر مچے کہراموں پر؟…… خدا کے لئے اس لمحے سے خوف کھائیے جب ہر شہر اور قصبے میں تھوک کے حساب سے جنازے نکلنے شروع ہوں گے۔ اگر اس وقت بازار اور سڑکیں اور گلیاں اور محلے سنسان ہو گئے اور اس وقت سماجی فاصلوں کی پیروی کی گئی تو کس کام کی؟…… کیوں نہ آج ہی اس کا ادراک کریں، لاک ڈاؤن کی مشروط نرمی کا مفہوم سمجھیں،سماجی فاصلوں کی پابندی کریں اور حکومت جو فریادیں کر رہی ہے ان پر کان دھریں!……ہم کس عید کا انتظار کررہے ہیں؟

مزید :

رائے -کالم -